یورپ نے روس کے خوف سے امریکہ سے دوگنے ہتھیار خریدے

امریکہ

?️

سچ خبریں:مغربی ذرائع ابلاغ نے ماسکو کے ساتھ مذاکرات کا موقع ضائع کرنے کی واشنگٹن کی غلطی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ روس کے خوف کی وجہ سے یورپی ممالک نے امریکہ سے گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا زیادہ فوجی ہتھیار خریدے ہیں۔

امریکی میگزین فارن پالیسی نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ یوکرین میں فوجی تنازع کے پس منظر میں امریکہ نے 2022 میں اپنے نیٹو اتحادیوں کو فوجی ہتھیاروں کی فروخت کا حجم تقریباً دوگنا کر دیا ہے کیونکہ روس کے خوف سے یورپی ممالک نے اپنے آپ کو ہر ممکن حد تک مسلح کرنا سوچا ہے۔

امریکی میگزین کے مبصر کے مطابق 2021 میں امریکی حکومت نے نیٹو میں اپنے اتحادیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کے 14 بڑے معاہدے کیے، جن کی مالیت تقریباً 15.5 بلین ڈالر تھی جبکہ 2022 میں ایسے معاہدوں کی تعداد بڑھ کر 24 ہو گئی، اور ان کی مالیت بھی تقریباً 28 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، رپورٹ کے مطابق مستقبل قریب میں امریکہ روسی سرحد کے قریب فن لینڈ سمیت یورپی ممالک کو ہتھیار فراہم کرنے والا اہم ملک رہے گا۔

واشنگٹن نے غلطی کی اور ماسکو کے ساتھ مذاکرات کا موقع گنوا دیا۔
اس حوالے سے سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے سابق خصوصی مشیر ڈوگ بینڈو نے 19FortyFive نیوز ایجنسی کے لیے ایک تجزیے میں لکھا کہ واشنگٹن نے مشرق میں نیٹو کی توسیع نہ کرنے کے حوالے سے ماسکو کی سلامتی کی درخواستوں پر اتفاق کرنے کا موقع گنوا دیا،اس نے یوکرین میں فوج کو مشتعل کیا اور اب ہتھیار بھیج کر اسے طول دے رہا ہے، تجربہ کار امریکی سیاستدان نے کہا کہ اگر امریکی حکام روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے تو امریکہ بہت بہتر ہوتا،خاص طور پر، جو فوجی اخراجات واشنگٹن یوکرین کی فوجی مدد کے لیے کرتا ہے، وہ امریکی شہریوں کے معاشی مسائل اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختص کیے جا سکتے تھے اس کے علاوہ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنی غلط پالیسی جاری رکھ کر اور روس کے ساتھ مذاکرات ترک کر کے سفارت کاری کی قدر کھو دی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اعلان کیا تھا کہ نیٹو ممالک سرد جنگ کے دور کی ترجیحات کی طرف لوٹ آئے ہیں، ان کے بقول اب نیٹو بھی روسیوں کو یورپ سے دور رکھنا چاہتا ہے اور اس کے نتیجے میں امریکہ نے پورے یورپ کو اپنا غلام بنا لیا ہے ، اس نے صرف جرمنی بلکہ پوری یورپی یونین کو اپنے کنٹرول میں کر لیا ہے۔

یوکرین کا تنازع صرف چند امریکی اشرافیہ کے فائدے کے لیے ہے۔
امریکن تھنکر امریکی میگزین نے یوکرین کو امریکہ کی اشرافیہ کے لیے منی لانڈرنگ کی مشین قرار دیتے ہوئے اپنے ایک تبصرے میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ منی لانڈرنگ کے امکان کو برقرار رکھنے کے لیے امریکی اشرافیہ کے لیے یوکرین کے تنازع کو طول دینا اور کیف کو مالی اعانت نیز ہتھیار بھیجنا ضروری ہے۔

یوکرین میں وسیع پیمانے پر مالی بدعنوانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ نے یاد دلایا کہ امریکہ میں ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز نے کیف حکام کے ساتھ بہت اچھا سودا کیا اور اس سے اچھی خاصی رقم کمائی،امریکہ میں ایک مخصوص سیاسی طبقے نے اپنے تھیلے کے مفادات کو امریکی عوام کے مفادات پر ترجیح دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین ایک طویل عرصے سے منی لانڈرنگ کا مرکز رہا ہے اور آج بھی ہے، رپورٹ کے مطابق یوکرین میں فوجی تنازعہ کے آغاز کے بعد سے امریکی حکومت نے اسے ایسے طول دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ امریکہ کے اندرونی مسائل کو بھول گئی ہے۔

مشہور خبریں۔

مائیں توجہ حاصل کرنے کیلئے ڈرامے کرتی ہیں، اسما عباس

?️ 24 ستمبر 2024 کراچی: (سچ خبریں) پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی سینیئر اداکارہ اسما عباس

’یومِ تقدیس قرآن‘ پر وزیراعظم کی قوم سے احتجاج ریکارڈ کرانے کی اپیل

?️ 7 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے قرآن پاک

اسرائیل کا مغربی کنارے کی زمینیں ضبط کرنے کا فیصلہ غیر قانونی اور ناجائز ہے:حماس

?️ 15 فروری 2026اسرائیل کا مغربی کنارے کی زمینیں ضبط کرنے کا فیصلہ غیر قانونی

جو بائیڈن اور افغان رہنماؤں کے مابین ملاقاتیں، ضیاع وقت یا مشکلات کا حل؟

?️ 27 جون 2021(سچ خبریں) افغانستان کے صدر اشرف غنی اور اعلی قومی مفاہمتی کونسل

امارات میں صہیونی فوج کے مذاق پر سائبر اسپیس صارفین کی تنقید

?️ 7 ستمبر 2024سچ خبریں: سائبر سپیس کے کارکنوں نے متحدہ عرب امارات میں صہیونی فوجی

گوگل نے اے آئی ویڈیوز ٹول تیار کرلیا

?️ 27 جنوری 2024سچ خبریں: انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے آرٹیفیشل

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا فاشزم

?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:روس میں شام کے سفیر ریاض حداد نے بڑھتے ہوئے فاشسٹ

لبنان کا اسرائیل کے ساتھ معاہدہ دراصل اعلان جنگ ہے: عبدالباری عطوان

?️ 28 جون 2026سچ خبریں:عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے