?️
سچ خبریں: یدعیوت احارونوت کی رپورٹ کے مطابق آج بین گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والا میزائل یمنیوں کے لیے ایک قابل ذکر تکنیکی کامیابی ہے، جبکہ اسرائیلی ڈیفنس سسٹم کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔
واضح رہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر کیے گئے میزائل حملے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دوسری بار ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس سسٹم حوثیوں کے میزائیلوں کو روکنے میں ناکام رہا، حالانکہ اسے امریکی TAD ڈیفنس سسٹم کی بھی سپورٹ حاصل ہے۔
رون بین یشای کے مطابق، اس وقت اسرائیل اور اس کے دشمنوں کے درمیان تکنیکی اور ٹیکنالوجی کی جنگ جاری ہے، جس کا فائدہ یمنیوں کو مل رہا ہے۔ صیونی حکومت کے سیکورٹی اور انٹیلیجنس حلقوں کا اندازہ ہے کہ یمنی میزائل اس ملک کے ہر کونے میں پھیلے ہوئے ہیں، اور مقامی قبائل متحرک طریقے سے اسرائیل کے خلاف انہیں فائر کر رہے ہیں۔ یہ عمل اسرائیلی اداروں کے لیے ٹریک کرنا مشکل بنا دیتا ہے، کیونکہ یمن کے ہر حصے سے فائرنگ ہو رہی ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، تل ابیب کی یمنی صلاحیت کے سامنے بے بسی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حوثیوں نے اپنے آپریشنز کو غیر متمرکز کر رکھا ہے۔ یمن کے وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے آپریٹرز اور فائرنگ یونٹس انتہائی منتشر ہیں، اور چونکہ یمن میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر بہت کمزور ہے، اس لیے ان سے معلومات حاصل کرنا بھی انتہائی مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج کے حملوں کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد بھی بحیرہ احمر اور باب المندب کا راستہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے آج صبح یمنی میزائل حملے کے بعد کہا کہ جو ہمیں نشانہ بنائے گا، اسے سات گنا جواب دیا جائے گا۔ لیکن اگر اسرائیل واقعی اس دھمکی کو عملی شکل دینا چاہتا ہے تو اسے ایک پیچیدہ مسئلے کا سامنا ہے:
1. جوابی کارروائی کا ہدف کیا ہوگا؟ کیا اسے عملی طور پر ممکن بنایا جا سکتا ہے؟
2. اگر اسرائیل کارروائی کرتا ہے تو وہ کس قسم کی کارروائی کرے گا؟ اور وہ کس قسم کے خطرے کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے؟
اسرائیل کے ممکنہ آپریشن کا بنیادی مقصد انصاراللہ کی میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت کو مالی اور انسانی نقصان پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ، اس آپریشن میں میزائل یا بحری حملے بھی شامل ہونے چاہئیں تاکہ باب المندب سے اسرائیلی جہازوں کے لیے خطرات کم کیے جا سکیں۔ دوسرا مقصد حوثی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ہے، تاکہ ان کے حملوں کو روکا جا سکے۔ تیسرا مقصد اس ڈھانچے کے غیر فوجی نشانوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ہے، تاکہ عوامی غم و غصہ اور اندرونی انتشار پیدا کیا جا سکے۔
تاہم، اس صیونی تجزیہ کار کے اعتراف کے مطابق، اگر اسرائیل ان اہداف میں سے کسی ایک کو بھی حاصل نہیں کر پاتا، تو وہ 2,000 کلومیٹر دور سرحدوں سے باہر کیے جانے والے آپریشن کو کبھی بھی جواز نہیں بنا پائے گا، کیونکہ یہ آپریشنز بحری ہوں یا فضائی، انتہائی پیچیدہ اور مہنگے ثابت ہوں گے۔ ان کے لیے ہوائی ایندھن بھرنے، سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمز، اور وسیع انٹیلیجنس آپریشنز کی ضرورت ہوگی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
جرمن چانسلر کا غزہ جنگ کے فریقین سے مطالبہ
?️ 14 جون 2024سچ خبریں: جرمن چانسلر نے غزہ جنگ کے فریقین سے امریکی پیش
جون
عوام کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے
?️ 13 مئی 2021راولپنڈی (سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)
مئی
یوکرین کے لیے ایک ارب ڈالر کی نئی امریکی امداد
?️ 7 ستمبر 2023سچ خبریں: امریکہ کے وزیر خارجہ نے یوکرین کے لیے امریکہ کی
ستمبر
عدم اعتماد کا معاملہ، ن لیگ کو پارٹی کے اندر مخالفت کا سامنا
?️ 1 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کو پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے
دسمبر
ایک سالہ طوفان الاقصی کے بارے میں کچھ اہم نکات
?️ 7 اکتوبر 2024سچ خبریں: حماس نے طوفان الاقصی آپریشن کی سالگرہ کے موقع پر
اکتوبر
ایران کے حملے کے خوف سے اسرائیل نے پیوٹن سے مدد مانگی: صیہونی ذرائع
?️ 8 جنوری 2026سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہونے ولادیمیر پیوٹن سے براہ راست
جنوری
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں ناکامی پر تل ابیب سیخ پا ہوگیا
?️ 1 دسمبر 2025 حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں ناکامی پر تل ابیب
دسمبر
عراقی پارلیمنٹ میں لگی آگ
?️ 2 اگست 2022سچ خبریں: عراقی میڈیا نے آج منگل کو پارلیمنٹ کے استقبالیہ محل میں
اگست