کیا یہ اسرائیل اور امریکی افسانے کے خاتمہ کا آغاز ہے؟

لبنانی تجزیہ نگار

?️

کیا یہ اسرائیل اور امریکی افسانے کے خاتمہ کا آغاز ہے؟
رپورٹ کے مطابق لبنانی مصنف و تجزیہ نگار ڈاکٹر بلال القیّس نے ایک تجزیاتی مقالے میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک سال گزرنے کے بعد ہونے والی لڑائی، جسے مقامی طور پر اولیِ البأس کہا جاتا ہے، محض ایک عارضی مرحلہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر اسرائیل کے زوال اور امریکی عالمی اثر و رسوخ میں زوال کی ابتدا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نبرد صرف فلسطین تک محدود نہیں رہی بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر نئے سیاسی و سماجی توازنات پیدا کر چکی ہے۔
مقالے کے اہم نکات کا خلاصہ درج ذیل ہے جنگ جاری اور پیچیدہ ڈاکٹر بلال کے مطابق یہ تصادم اکتوبر میں شروع ہوا اور تب سے رکا نہیں  اس کا دورانیہ، شدت اور پیچیدگی اسے ماضی کے تصادموں سے جدا کرتی ہے۔ وہ اسے خطرناک ترین مرحلوں میں شمار کرتے ہیں۔
مقاومت کی بقا: اس دعوے کو رد کیا گیا ہے کہ لبنانی مزاحمت ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق مزاحمت نہ صرف زندہ ہے بلکہ علامتی اور عملی طور پر ایک مؤثر طاقت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
دباؤ کے باوجود استقامت  سخت حملوں اور دباؤ کے باوجود مزاحمتی گروہوں نے تجربہ حاصل کیا، منظم ہوئے اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھے — بقول مصنف، دشمن کے دباؤ نے مزاحمت کو کمزور کرنے کی بجائے مضبوط کیا۔
علاقائی اور بین الاقوامی حمایت  لبنان، غزہ، یمن اور دیگر جگہوں پر عوامی حمایت نے مزاحمت کو سہارا دیا حتیٰ کہ دنیا کے مختلف گوشوں میں عوامی محافل نے اسی روّیے کا اظہار کیا۔
سیاسی توازن کی بازیابی مزاحمت نے اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھی اور اندرونی تنظیمِ نو کے بعد میدان میں فعال طور پر لوٹ آئی، جبکہ امریکہ کی طرف سے اسلحے کے انحصار کو محدود کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔
فلسطین کے حق میں اخلاقی موقف, مصنف کا موقف ہے کہ فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونا تاریخی اور اخلاقی درستگی ہے؛ جو قوتیں مظلومیت کو نظر انداز کرتی ہیں وہ عالمی سطح پر تضحیک اور طرد کا شکار ہوتی ہیں۔
امریکہ کی بین الاقوامی تنہائی مقالے میں دعویٰ کیا گیا کہ اب امریکہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوا ہے جہاں اس کے عالمی حامی کم ہوتے جا رہے ہیں اور اس کی پالیسیوں کو وسیع عوامی حمایت حاصل نہیں رہی  یہی خفت و تنہائی اس کے اثرات کو کمزور کر رہی ہے۔
ٹیکنالوجی مضبوطی نہیں بخشتی ٹیکنالوجیکل برتری خواہ جتنی بھی ہو، مزاحمت کی جمعی توانائی اور لچک کو پوری طرح ختم نہیں کرسکتی  مزاحمت کو مصنف نے ایک "تاریخی، اخلاقی اور تمدنی عمل قرار دیا۔
امکانات اور خطرات دونوں موجود ہیں: مقالے کا اختتام اس تنبیہ کے ساتھ ہے کہ اگرچہ منظرنامہ تاریک ہے، مگر یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ نئی عالمی شعور اور سیاسی تغیرات جنم لیں؛ تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ہرج و مرج پھیلانے کی حکمتِ عملی بھی خدشات پیدا کرتی ہے۔
ڈاکٹر بلال القیّس نے ساتھ ہی لبنان کے حزبِ اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم کی طرف منسوب اس اصطلاح کا حوالہ دیا  معرکۂ اولیِ البأس اور قرآن مجید (سورہ اسراء، آیت ۵) میں مذکور نوٹس سے اس نام کی مذہبی و علامتی بنیاد بھی بتائی۔
خبری پس منظر: مقالہ بنیادی طور پر مزاحمتی محاذ اور اس کے علاقائی اثرات پر روشنی ڈالتا ہے، اور اس میں بین الاقوامی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر زور دیا گیا ہے۔ مضمون نگار کے بیانات کو اسلام ٹائمز نے شائع کیا ہے اور وہ اپنے تجزیے میں واقعات کو ایک مخصوص سیاسی فریم ورک سے دیکھتے ہیں  اس لیے قاری کو یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ یہ ایک تجزیاتی نقطۂ نظر ہے، نہ کہ غیر جانبدار تحقیقی رپورٹ۔

مشہور خبریں۔

25 ممالک برکس میں شامل ہونے کے لیے قطار میں

?️ 27 فروری 2024سچ خبریں:روس میں جنوبی افریقہ کے سفیر Mzvokili Maktoka نے ایک انٹرویو

اطالوی انسانی حقوق کے کارکنوں نے صیہونی حکومت کے خلاف شکایت درج کرائی

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: روم کے پراسیکیوٹر آفس نے اسرائیلی غاصب حکومت کے خلاف

پاکستان میں اسرائیل کے الصمود فلیٹ پر حملے کی شدید مذمت، عوام کا احتجاجی مظاہرہ

?️ 4 اکتوبر 2025پاکستان میں اسرائیل کے الصمود فلیٹ پر حملے کی شدید مذمت، عوام

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مودی حکومت کی سازشوں کے بارے میں اہم انکشاف کردیا

?️ 13 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک

سارہ نیتن یاہو نےحزب اللہ کے خوف سےحفاظت کی درخواست

?️ 31 اکتوبر 2024سچ خبریں: صہیونی نیوز سائٹ والا نے نیتن یاہو کی اہلیہ کے

عراقی انتخابات کے پارلیمنٹ اور حکومت بنانے کے 4 اہم مراحل

?️ 14 نومبر 2025سچ خبریں:  10 نومبر کو عراق کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کے

برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کو بسانے کی ذمہ داری کیسے قبول کی؟

?️ 23 نومبر 2025 برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کو بسانے کی ذمہ داری کیسے

عراق میں امریکی فوجیوں کے قافلے پر حملہ

?️ 11 جنوری 2022سچ خبریں:   صابرین نیوز ٹیلیگرام چینل نے اعلان کیا کہ منگل کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے