کیا غزہ جنگ بندی، نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کی شروعات ہے؟

نیتن یاہو

?️

کیا غزہ جنگ بندی، نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کی شروعات ہے؟
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایک مشکل سیاسی موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اب ایک ایسی دو راہے پر کھڑے ہیں جہاں انہیں یا تو اپنے قریبی اتحادی امریکہ کو ناراض کرنا پڑے گا یا انتہا پسند دائیں بازو کی جماعتوں کو، جو ان کی حکومت کی بنیاد ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست دباؤ کے نتیجے میں طے پایا۔
یہ پیشرفت بظاہر ایک کامیابی تھی، لیکن اس نے نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں دراڑیں پیدا کر دیں، کیونکہ دائیں بازو کے انتہا پسند حلقے اس معاہدے کو “اسرائیلی طاقت کے لیے کمزوری اور قومی سلامتی سے غداری” سمجھتے ہیں۔
نیتن یاہو کی جانب سے شرم الشیخ کانفرنس میں شرکت نہ کرنا، جہاں ٹرمپ اور فلسطینی صدر محمود عباس موجود تھے، ان کے سیاسی تناؤ کی ایک اور علامت ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو اس اجلاس میں شامل ہوتے تو یہ گویا غزہ میں فلسطینی حکومت کے قیام کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوتا، جو ان کے اتحادیوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
اس فیصلے نے اگرچہ وقتی طور پر ان کے اتحاد کو بچا لیا، مگر ساتھ ہی یہ بات بھی واضح کر دی کہ ان کی حکومت امریکی دباؤ کے سامنے کمزور ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، ٹرمپ غزہ کے لیے ایک سیاسی حل اور عبوری نظام پر کام کر رہے ہیں، جس میں عرب ممالک کی شمولیت بھی شامل ہے۔اس کے برعکس، نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحادی دو ریاستی حل کی مخالفت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسرائیل غزہ پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، نیتن یاہو جنگ بندی کے بعد اپنی سیاسی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ کنسٹ (پارلیمنٹ) کے انتخابات بہار 2026 میں جلد منعقد کرنے پر غور کر رہے ہوں۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی سے ملنے والے وقتی عوامی تاثر کو انتخابی فائدے میں بدل سکیں، اس سے پہلے کہ یہ مثبت لہر ختم ہو جائے۔
تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ ایک خطرناک جوا ہو سکتا ہے۔ اگر نیتن یاہو کا اتحاد ان انتخابات سے پہلے ہی ٹوٹ گیا تو وہ اپنے ہی لیکود پارٹی اور انتہا پسند اتحادیوں کے سخت ترین حریفوں کے سامنے آ جائیں گے۔
الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو کی حکومت برقرار بھی رہتی ہے، تو اسے پھر بھی شدید بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔دنیا اب اسرائیل سے تقاضا کر رہی ہے کہ وہ "جنگ کے بعد کا سیاسی لائحہ عمل” پیش کرے — اور یہ دباؤ نیتن یاہو کے لیے شاید غزہ کی جنگ سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہو۔

مشہور خبریں۔

امریکہ میں سیاسی کشیدگی سے داخلی بحران کا خدشہ

?️ 27 اگست 2025امریکا میں سیاسی کشیدگی سے داخلی بحران کا خدشہ سی این این

کیا بائیڈن بن سلمان سے ہاتھ ملائیں گے؟

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:اگر بائیڈن اور بن سلمان ہاتھ ملاتے ہیں تو امکان ہے

ہم امریکہ کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں : طالبان

?️ 16 فروری 2022سچ خبریں: طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر

یوکرین میں ریفرنڈم کے نتائج کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے: بائیڈن

?️ 30 ستمبر 2022سچ خبریں:   امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ واشنگٹن یوکرین کے

کیا عمران خان نے اعتراف کیا تھا یا بیانیہ بنایا گیا ہے؟ عمران خان کی زبانی

?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے

پاکستان: کورونا وائرس سے مزید 67 افراد انتقال کر گئے

?️ 28 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا وائرس کی جاری تیسری لہر کے دوران پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ دورے پر 12 جنوری کو متحدہ عرب امارات جائیں گے

?️ 11 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف سرمایہ کاری، اقتصادی اور تجارتی تعلقات

فلسطینیوں کے گھروں کو تباہ کرنا بین الاقوامی قوانین کے خلاف

?️ 27 نومبر 2021سچ خبریں:  یورپی یونین (EU) نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے مکانات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے