چین کا امریکہ کے تجارتی جنگ کے خلاف ایشیائی اتحاد بنانے کا چیلنج

چین

?️

سچ خبریںصدر شی جن پنگ نے امریکہ کے بھاری تجارتی تعرفوں کے خلاف اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپریل کے وسط میں جنوب مشرقی ایشیا کے تین ممالک ویت نام، ملائیشیا اور کمبوڈیا کا دورہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، چونکہ یورپی یونین اور جنوبی کوریا و جاپان جیسے ممالک نے چین کی توقع کے برعکس امریکہ سے مذاکرات کو ترجیح دی، چین نے اپنی توجہ جنوب مشرقی ایشیا کی طرف موڑ دی، جو چین کے ساتھ تجارت پر زیادہ انحصار رکھتے ہیں۔
تاہم، اس دورے کے دوران مثبت ماحول کے باوجود، ویت نام، ملائیشیا اور کمبوڈیا میں سے کسی نے بھی صدر شی کے امریکہ مخالف اتحاد کے قیام کے تجویز پر واضح اور مثبت جواب نہیں دیا۔
شی نے ویت نام کے وزیراعظم سے ملاقات میں ہیجمنی، یک طرفہ پسندی اور تحفظ پسندی کے خلاف مشترکہ مزاحمت پر زور دیا، لیکن ویت نام کے سرکاری میڈیا نے ان باتوں کو نظرانداز کر دیا۔
اس کے علاوہ، شی کے ویت نام سے روانہ ہوتے ہی ملائیشیا پہنچنے پر ویت نام کی وزارت صنعت و تجارت نے چینی مصنوعات کے امریکہ کو غیرمستقیم برآمدات روکنے کا منصوبہ پیش کیا۔ جبکہ ملائیشیا نے بوئنگ 737 میکس طیاروں کی خریداری کا اعلان کیا، جنہیں چین نے امریکہ کے خلاف ردعمل میں واپس بھیج دیا تھا۔
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک، جن کا امریکہ کے ساتھ تجارتی حجم چین کے برابر ہے، ٹرمپ انتظامیہ کے جارحانہ تجارتی پابندیوں سے خوفزدہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی سبسڈی پر مبنی برآمدات اور جبری تجارتی اقدامات کی وجہ سے اس خطے میں اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔
امریکہ مخالف اتحاد کی درخواست کو نظرانداز کرنا
ویت نام جنوب مشرقی ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جہاں گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارت 150 ارب ڈالر تک پہنچی۔ اسی وجہ سے بہت سی چینی کمپنیاں امریکی تعرفوں سے بچنے کے لیے ویت نام منتقل ہو گئی ہیں، اور شی جن پنگ کا پہلا دورہ ویت نام ہونا اہمیت رکھتا تھا۔
چین کی سرکاری خبر ایجنسی شین ہوا نے رپورٹ کیا کہ شی جن پنگ نے 14 اپریل کو ویت نام کے وزیراعظم فام منہ چنھ سے ملاقات میں کہا کہ دونوں ممالک کو ہیجمنی، یک طرفہ پسندی اور تحفظ پسندی کے خلاف مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔ لیکن ویت نام کی سرکاری رپورٹس میں یہ بات شامل نہیں تھی۔
اسی طرح، شی نے ویت نام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری تو لام سے ملاقات میں جابرانہ یک طرفہ اقدامات کے خلاف مزاحمت اور عالمی تجارتی نظام کی حمایت کی بات کی، لیکن ویت نام کے میڈیا نے اسے بھی نظرانداز کیا۔

مشہور خبریں۔

مراکش کے انتخابات کا صہیونیوں سے کوئی تعلق نہیں

?️ 2 مئی 2022سچ خبریں:  جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور مراکش کے

ایران کے بارے میں امریکی قانون ساز کا اعتراف

?️ 17 جون 2023سچ خبریں:امریکی قانون ساز نے ایرانی صدر کے لاطینی امریکہ کے دورے

عمران خان کے خلاف کیس کس نوعیت کے ہیں؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے فاضل جج کی زبانی

?️ 18 جولائی 2024سچ خبریں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان

خیبرپختونخوا کابینہ کا سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے بڑا فیصلہ

?️ 20 اگست 2025پشاور (سچ خبریں) صوبائی کابینہ نے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے بڑا

بائیڈن کے مغربی ایشیا کے پہلے دورے کا اختتام شہزادہ الفیصل کے ہمراہ ہوا

?️ 16 جولائی 2022سچ خبریں:   میڈیا ذرائع نے ہفتہ کی شام تہران کے وقت کے

بھارت کا معاشی دباؤ ناکام، پاکستان کی بین الاقوامی تجارت برقرار

?️ 29 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت کی جانب سے پاکستانی مال بردار جہازوں

بمباری کے باوجود فلسطینی غزہ کیوں نہیں چھوڑ رہے ہیں؟ امریکی اخبار کی زبانی

?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں: ایک امریکی اخبار نے غزہ کی پٹی کے شمال میں

آنکارا اور تل ابیب کے تعلقات کا مطلب ترکی کا فلسطین کی حمایت سے گریز

?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:     ترکی ان اسلامی ممالک میں سے ایک ہے جو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے