?️
غزہ کے فلسطینی خاندانوں کی جنوبی افریقہ منتقلی کا معمہ اسرائیل کے ملوث ہونے کا انکشاف
الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام براہِ راست غزہ سے فلسطینی خاندانوں کی پراسرار منتقلی کے لیے انتظامات میں شامل رہے ہیں، جنہیں ایک غیرمنافع بخش تنظیم کے ذریعے جنوبی افریقہ بھیجا گیا۔
قطری میڈیا کے مطابق، اس متنازع منصوبے کی تفصیلات بتدریج سامنے آ رہی ہیں۔ سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس عمل کے ذریعے فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے کی ترغیب دے رہا ہے تاکہ انہیں دیگر ملکوں میں آباد کر کے جبری ہجرت کی راہ ہموار کی جائے۔
جنوبی افریقہ کے صدر سیریل رامافوسا نے جمعہ کو بتایا کہ خفیہ ادارے اس چارٹرڈ طیارے کی آمد کی تحقیقات کر رہے ہیں جو نایروبی (کینیا) کے راستے 150 سے زائد فلسطینیوں کو جوہانسبرگ لایا۔
مقامی حکام کے مطابق، اولیور تامبو ایئرپورٹ پر طیارہ پہنچنے کے بعد مسافروں کو ابتدائی طور پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ ان کے پاس عام خروج کے مہر یا دستاویزات موجود نہیں تھیں جو عام طور پر اسرائیلی حکام جاری کرتے ہیں۔
جنوبی افریقی بارڈر ایجنسی کے مطابق، فلسطینی مسافر، جن میں بچوں والے خاندان اور ایک نو ماہ کی حاملہ خاتون بھی شامل تھی، تقریباً دس گھنٹے تک گرم موسم میں بغیر پانی اور خوراک کے طیارے میں محصور رہے۔
این جی اوز نے اس سلوک کو غیرانسانی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔
جنوبی افریقہ میں فلسطینی سفارتخانے نے بتایا کہ یہ پرواز ایک ایسی تنظیم نے ترتیب دی تھی جو رجسٹرڈ نہیں اور لوگوں کو گمراہ کر رہی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ تنظیم غزہ کے انسانی المیے سے فائدہ اٹھا کر متاثرہ خاندانوں سے رقم لیتی رہی اور انہیں غیرقانونی اور غیرمنظم طریقے سے سفر کراتی رہی، جبکہ کسی بھی مسئلے کے وقت ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتی رہی۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ المجد نامی تنظیم نے تقریباً 150 فلسطینیوں کی جنوبی افریقہ منتقلی کا انتظام کیا۔
اس کے مطابق:اسرائیل نے المجد کے بسوں کو غزہ سے کرم شالوم کراسنگ تک سکیورٹی فراہم کی وہیں سے بسوں نے مسافروں کو اسرائیل کے رامون ایئرپورٹ منتقل کیا
جنوبی افریقی حکومت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ فلسطینی کس طرح کینیا کے ذریعے ملک میں داخل ہوئے اور ان کی دستاویزات کیوں نامکمل ہیں۔
اس واقعے نے فلسطینی پناہ گزینوں کے استحصال، اسرائیلی کردار اور ممکنہ منظم نقل مکانی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔


مشہور خبریں۔
سعوی عرب اور ترکی میں بڑھتی کشیدگی
?️ 15 مارچ 2021سچ خبریں:ترک حکام نے سیاسی وجوہات کی بنا پر سعودی عرب میں
مارچ
اربيل سے يورپی فوجیوں کے انخلا کا آغاز
?️ 14 مارچ 2026سچ خبریں:اربيل سے یورپی فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع ہو گیا
مارچ
قتل کے حکم عراق کے باہر سے ملتے ہیں:عراقی سیاسی تنظیم
?️ 14 نومبر 2022سچ خبریں:عراق کے الفتح اتحاد کے ایک رکن نے کہا کہ اس
نومبر
امریکی وزارتِ انصاف کے کارکن ٹرمپ کے عتاب کا شکار
?️ 13 جولائی 2025 سچ خبریں:امریکی وزارتِ انصاف نے 20 سے زائد کارکنوں کو 6
جولائی
اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں 1127 پوائنٹس اضافے سے 73 ہزار کی حد بحال
?️ 6 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز
مئی
موجودہ دورِ حکومت کی کرپشن کو بھی بےنقاب کیا جائے:عمران خان
?️ 2 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو
دسمبر
شیخ نعیم قاسم نے ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں فتح پر مبارکباد دی
?️ 17 جون 2026سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم
جون
غزہ شہر کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے کے لیے تل ابیب کی زخمی زمین کی پالیسی
?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس واچ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی
ستمبر