?️
غزہ پر قبضے کا منصوبہ نیتن یاہو کا سیاسی ہتھکنڈہ:اسرائیلی ماہرین
فلسطینی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہوکا غزہ شہر پر قبضے کا منصوبہ دراصل ایک سیاسی چال ہے، جس کا مقصد اپنی اقتدار میں بقا کو یقینی بنانا اور وقت حاصل کرنا ہے، جبکہ اس کی عملی شکل ممکن نہیں اور یہ اسرائیل پر بھاری معاشی و سیاسی بوجھ ڈالے گا۔
الجزیرہ کے مطابق فلسطینی امور کے تجزیہ کار محمد وتاد نے عبری ذرائع کی بنیاد پر کہا کہ یہ منصوبہ حقیقت سے دور ہے۔ اگرچہ اسرائیلی کابینہ نے وزارت جنگ کو 4 لاکھ 30 ہزار ریزرو فوجیوں کو بلانے کا اختیار دے دیا ہے، لیکن عسکری و میڈیا حلقوں میں اس منصوبے پر شدید شکوک پائے جاتے ہیں۔
اقتصادی اندازوں کے مطابق غزہ پر قبضہ اسرائیل کو ہر سال درجنوں ارب شیکل کا خرچ پڑے گا۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت قابض قوت کو مقامی آبادی کو شہری خدمات دینا لازمی ہے، جو تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کے لیے ایک بھاری ذمہ داری ہوگی۔ اسرائیل پہلے ہی تقریباً 1.35 ٹریلین شیکل کے عوامی قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔
سابق فوجی اقتصادی سربراہ رام امینوخ نے خبردار کیا کہ یہ بوجھ اسرائیلی عوام کی اپنی سہولتوں، اسپتالوں اور بجٹ کو متاثر کرے گا اور ممکنہ طور پر ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا۔ کسی بھی غفلت کی صورت میں تل ابیب کو عالمی سطح پر قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اقتصادی جریدے کلکالیست کے ایڈیٹر آدریان پایلٹ کے مطابق غزہ کو اسرائیل جیسی شہری خدمات فراہم کرنے کا سالانہ خرچ تقریباً 61 ارب شیکل (17.5 ارب ڈالر) ہوگا۔ اگر یہ لاگت نصف بھی ہو، تب بھی فوجی اور سیکیورٹی اخراجات ملا کر یہ بوجھ 30 ارب شیکل سے کم نہیں ہوگا۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر نے اس منصوبے کو اسٹریٹجک جال قرار دیا، کیونکہ غزہ کی گھنی آبادی اور انسانی انخلا کے لیے منصوبہ بندی کی عدم موجودگی اسے ناقابلِ عمل بنا دیتی ہے۔ انہوں نے فوجی تھکن، ممکنہ جانی نقصانات اور عالمی حمایت میں کمی کو بھی سنگین رکاوٹیں بتایا۔
ہاآرتص کے فوجی مبصر عاموس ہارئیل نے کہا کہ اس منصوبے اور عملی صلاحیت کے درمیان واضح فرق ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے انسانی امداد کی فراہمی اور ریزرو فوجیوں کی بھرتی میں مشکلات، اس منصوبے کو مزید پیچیدہ بنا دیں گی۔
اسرائیل میں غزہ جنگ کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، تل ابیب میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہو رہی ہیں، سڑکیں بند اور ٹائر جلائے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ بھی احتجاج میں شامل ہو کر حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر معاہدہ کیا جائے اور جنگ روکی جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نتنیاہو کا مقصد ایک بڑے آپریشن کا تاثر دے کر جنگ جاری رکھنے کا جواز پیدا کرنا اور قیدیوں کی رہائی جیسے فوری مطالبات سے توجہ ہٹانا ہے، تاکہ اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنا سکیں۔


مشہور خبریں۔
پینٹاگون کو فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے: ایسوسی ایٹڈ پریس
?️ 21 جولائی 2022سچ خبریں: امریکہ کے بھاری فوجی بجٹ اور دنیا کی سب
جولائی
غزہ میں امن اور پاکستان،ٹرمپ منصوبے میں اسلام آباد کا ممکنہ کردار
?️ 20 دسمبر 2025غزہ میں امن اور پاکستان، ٹرمپ منصوبے میں اسلام آباد کا ممکنہ
دسمبر
شام میں فوجی آپریشن کریں گے:ترکی
?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:ترک صدر نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ان
جولائی
حماس نے اب تک کتنے قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی ہیں؟
?️ 19 اکتوبر 2025حماس نے اب تک کتنے قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی
اکتوبر
Miguel Delivers a Party for the End of the World on ‘War & Leisure’
?️ 15 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
ٹرمپ کی ایران کے خلاف ایک بار پھر دھمکیاں
?️ 23 جولائی 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف
جولائی
ٹک ٹاک نے 3 ماہ میں پاکستان سے 3 کروڑ سے زائد ویڈیوز ڈیلیٹ کردیں
?️ 16 اکتوبر 2024 سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے کمیونٹی
اکتوبر
صدر آذربائیجان کا پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
?️ 28 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر آذربائیجان الہام علیوف نے پاکستان میں 2
مئی