صیہونی معاشرے میں تشدد، قتل اور بے چینی کی صورتحال؛صیہونی تجزیہ کار کی زبانی

صیہونی معاشرے میں تشدد، قتل اور بے چینی کی صورتحال؛صیہونی تجزیہ کار کی زبانی

?️

سچ خبریں:صیہونی تجزیہ کار نے اپنی تحریر میں اعتراف کیا کہ جنگ غزہ کے بعد صیہونی معاشرہ شدید نفسیاتی دباؤ، تشدد اور قتل و جرائم کی لہر کا شکار ہے،سیاسی قیادت کی پالیسیوں اور طویل جنگ نے اسرائیلیوں کو مایوسی اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔

ایک معروف صیہونی مصنف نے اپنی تازہ تحریر میں اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی معاشرہ اس وقت شدید نفسیاتی بحران، تشدد، قتل اور جرائم کی لہر سے دوچار ہے، تجزیہ کار کے مطابق، اسرائیلی کابینہ اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے ایک ایسی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے جس کا کوئی واضح مستقبل نظر نہیں آتا، اور اس کے نتیجے میں معاشرتی بے چینی اور نفسیاتی مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
تجزیہ کار نے اپنی ذاتی مثال بیان کرتے ہوئے لکھا کہ حال ہی میں ان کی گاڑی چوری ہوئی، لیکن اصل مسئلہ چوری نہیں بلکہ اس واقعے کے بعد خود ان سمیت پولیس، انشورنس کمپنی اور دیگر اداروں کے عملے میں غیر معمولی چڑچڑاہٹ اور بے صبری تھی،ان کے مطابق، یہ کیفیت براہ راست جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسلسل ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
قلمکار نے واضح کیا کہ صیہونی معاشرے میں تشدد، قتل اور جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر روز قتل کے واقعات ہو رہے ہیں اور معاشرتی بے صبری ہر سطح پر نمایاں ہے، چاہے وہ سڑکیں ہوں، پارلیمنٹ، میڈیا یا سوشل نیٹ ورکس۔ یہاں تک کہ ایک ڈاکٹر دوست نے تجویز دی کہ عوامی پانی میں اینٹی ڈپریسن دوائیں ملائی جائیں۔
تجزیہ کار نے صیہونی سیاسی قیادت کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نہ صرف عوام کو امید دینے میں ناکام ہے بلکہ فوجی ذخائر کے تحفظ اور عام اسرائیلیوں کی مشکلات کم کرنے کے بجائے مخصوص گروہوں کو رعایتیں دے رہی ہے۔
 انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ طویل ترین جنگ بن چکی ہے، جس میں فوجی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں اور معاشرے میں یہ احساس عام ہے کہ کسی کے پاس مستقبل کا کوئی منصوبہ نہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق، اسرائیلی معاشرہ آج ایک ایسی جنگ کی بھاری قیمت چکا رہا ہے جس کا کوئی واضح مقصد نہیں اور جو صرف سیاسی قیادت کی بقا کے لیے جاری رکھی گئی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ محض فوجی دباؤ سے جنگ کا نقشہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور اسرائیلی معاشرتی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے بارے میں عراقی وزیر خارجہ کا بیان

?️ 3 مارچ 2024سچ خبریں: عراقی وزیر خارجہ نے اس ملک میں تعینات امریکی فوج

مخصوص نشستوں کے کیس میں الیکشن کمیشن کا تیسرا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم

?️ 19 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) مخصوص نشستوں کے کیس کے حوالے سے غور

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے گروپ آف سیون کا 600 بلین ڈالر کا بجٹ

?️ 27 جون 2022سچ خبریں:    جرمنی میں اپنے اجلاس کے پہلے دن، G7 رہنماؤں

یہ ناقابل تصور ہے سپریم کورٹ شہریوں کے بنیادی حقوق چھین لے، جسٹس اطہرمن اللہ

?️ 30 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے

فیس بک جیسی سوشل میڈیا سائٹس فون کے مائیک پر آپ کی باتیں سنتی ہیں؟ نئی رپورٹ میں اہم انکشاف

?️ 5 ستمبر 2024سچ خبریں: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کوئی چیز خریدنے کی

افغانستان کی زمین پاکستان کےخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہورہی ہے، جان اچکزئی

?️ 11 دسمبر 2023کوئٹہ: (سچ خبریں) نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا ہے

کیا غزہ کی پٹی میں کوئی ایسی جگہ ہے جو صیہونی بمباری سے محفوظ ہو؟

?️ 12 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں رہائشی مکانات، اسپتالوں اور اقوام متحدہ

ٹرمپ اور لاکھوں لوگوں کی اجتماعی سزا ایک بے بنیاد معیار کے ساتھ

?️ 22 دسمبر 2025سچ خبریں: ایک امریکی اشاعت نے لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے