صیہونی حکومت کی نئی کابینہ اور شام پر صیہونی حملوں میں تبدیلی

صیہونی

?️

سچ خبریں:گذشتہ دو مہینوں کے دوران شام پر صیہونی حکومت کے حملے جو جنگوں کے درمیان جنگ کی حکمت عملی کو آگے بڑھا رہے تھے، ان کی نوعیت اور جغرافیائی حدود میں تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں جو خطہ اور اس کے اداکاروں کے لیے نئے پیغامات کی حامل ہوسکتی ہیں۔

شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے ساتھ ہی صیہونی حکومت نے اپنے توسیع پسند اور نسل پرستانہ اہداف کے ساتھ شام کے متعدد مقامات پر حملے شروع کر دیے،صیہونی حکومت کے حکام ان حملوں کا جنگ کے درمیان جنگ (war in war) نامی ایک حکمت عملی کے ساتھ جواز پیش کرتے ہیں اور رائے عامہ میں اس تصور پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ حملے اپنے دفاع کے لیے کیے جاتے ہیں اور وہ ان حملوں کو ایک تیسرے فریق جسے وہ دشمن سمجتے ہیں ، کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ صیہونی حکام نے شام پر حملوں میں ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کی طرف سے شام اور لبنان بھیجے گئے ہتھیاروں کو منتقل کرنے والے قافلوں یا ایران اور حزب اللہ کے ٹھکانوں یا ان کی حمایت یافتہ فورسز کو نشانہ بنایا ہے،تاہم کبھ بہت ہی کم معاملات میں انہوں نے شامی فوج کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر حملہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

نومبر 2022 کے مہینے کے دوران صیہونی حکومت نے شام کے متعدد مقامات پر 3 فضائی حملے کیے جو اہداف اور حملہ کرنے والے علاقوں کے لحاظ سے پچھلے حملوں سے مختلف تھے،9 نومبر کو اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے عراق اور شام کی سرحد پر واقع دیر الزور کے مضافات میں ایران سے تعلق رکھنے والے ایک قافلے کو نشانہ بنایا،13 نومبر کو شام کے وسطی علاقے میں واقع الشعیرات فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ شام کے فضائی دفاع نے حمص کے جنوب مشرقی مضافات میں متعدد میزائلوں کو مار گرایا۔

قابل ذکر ہے کہ سب سے پہلے، صیہونی حکومت کا پہلا حملہ زمینی راستوں پر چلنے والے اہداف پر تھا جبکہ گزشتہ دو سالوں کے دوران صیہونی حکومت نے اپنے حملوں کو شام کے ہوائی اڈوں اور اس کے اندر موجود فوجی بیرکوں اور فوجی ہوائی اڈوں پر مرکوز کر رکھا تھا لیکن نومبر میں صیہونی حکومت کے ایک اور حملے میں وہاں پر چلنے والے قافلوں کو نشانہ بنایا گیا اور اہداف کو تبدیل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ صیہونی حکومت کے حملوں میں تبدیلی کا دوسرا پہلو شام کے مرکز اور مغرب میں واقع مقامات پر حملہ تھا جس کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی، اس سے پہلے صیہونی حکومت کے زیادہ تر حملے عراق کی سرحد پر واقع شام کے جنوبی علاقوں پر مرکوز تھے اور صیہونی جنوب سے دمشق اور عراق و شام کی سرحد کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے تھے لیکن اس بار ان کے حملے شام کے مغرب اور ساحلی علاقوں پر تھے۔

تاہم ان حملوں کی تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں؛ گذشتہ چند مہینوں میں صیہونی حکومت کے بعض ذرائع ابلاغ نے اس حکومت کے تھنک ٹینکس اور عسکری نیز سکیورٹی حلقوں میں موجود رائے کو نقل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت کا موقف ہے کہ پچھلے مہینوں سے ایران کی جانب سے لبنان اور شام میں ہتھیاروں کی ترسیل ہوائی راستوں کے بجائے زمینی راستوں پر منتقل ہوچکی ہے اس لیے صیہونی حملے ہوائی اڈوں سے شام کے وسط اور عراق و شام کی سرحد کے قریب ہو منتقل ہوئے ہیں، صیہونی تھنک ٹینکس کی رائے ہے کہ تہران-بیروت راہداری جو شام کے وسطی علاقوں سے گزرتی ہے، ایران سے شام اور لبنان تک ہتھیاروں کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔

تاہم مغربی شام اور ساحلی علاقوں پر صیہونی فضائی حملوں کی اصل وجہ شام میں روس کی موجودگی کے حوالے سے صیہونی حکومت کے فوجی اور سکیورٹی حلقوں کے نظریے میں تبدیلی ہے،صیہونی عسکری اور سکیورٹی حلقوں کا خیال ہے کہ روس نے اپنے زیر اثر کچھ علاقے ایران کے حوالے کر دیے ہیں اسی لیے وہ ان علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کے بارے میں ان کے خیال میں روس نے ایران کو سونپ دیے ہیں لیکن صیہونی حکومت کے سکیورٹی اور فوجی حلقوں میں ایک اور نقطہ نظر بھی پایا جاتا ہے جو شام میں روس کے اقدامات کو محدود کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ روس اور اسرائیل کے تعلقات میں درار کا آنا ہے۔

 

مشہور خبریں۔

حکومت نے بجلی سستی کرنے کی سمری نیپرا کو ارسال کردی

?️ 29 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی سستی کرنے

ہم فلسطینیوں کو بھوک سے مرتے نہیں دیکھ سکتے:شلٹز

?️ 19 مارچ 2024سچ خبریں:جرمنی کے چانسلر نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ

غزہ میں بھاری جانی نقصان کے بعد نیتن یاہو پر تنقید میں شدت

?️ 11 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے غزہ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان

فلسطینیوں کے خلاف تازہ ترین صیہونی جارحیت

?️ 8 اگست 2023سچ خبریں: صیہونی فوجیوں نے الخلیل کے جنوب میں واقع گاؤں مسافریطا

مذہبی اور ثقافتی تنوع، خطے میں اسرائیل کے علیحدگی پسند منصوبوں کے خلاف ایک رکاوٹ

?️ 9 ستمبر 2025سچ خبریں: الجزیرہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ

مریم نواز نے جنگ کے دنوں میں سب سے متحرک وزیراعلی کا رول ادا کیا۔ عظمی بخاری

?️ 15 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ

مقبوضہ فلسطین کی جانب 500 سے زائد راکٹ داغے گئے

?️ 7 اگست 2022سچ خبریں:     المیادین نیٹ ورک نے صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ

تم غنڈے اور بدمعاش ہو : چین کا امریکہ سےخطاب

?️ 18 اگست 2022سچ خبریں:    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے