حماس کی اسرائیل کو کھلی دھمکی

حماس

?️

سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں حماس کے دفتر کے سربراہ نے یہ یاد دلاتے ہوئے کہ فلسطینی مزاحمت نے قابضین کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ، کہاکہ اگر قبضہ کاروں کے ساتھ ایک بار پھر جنگ ہوتی ہے تو مشرق وسطی کی شکل بدل جائے گی۔
فلسطین ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں حماس کے رہنما یحیی السنوار نے کہا کہ مزاحمتی تحریک نے ثابت کردیا کہ مسجد اقصیٰ لاوارث نہیں ہے اور ہم نے اس کو نشانہ بنانے کے قبضہ کاروں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے،انہوں نے ہفتے کے روز ماہرین تعلیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قبضہ کاروں کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو مشرق وسطی کی شکل بدل جائے گی۔

السنوار نے کہاکہ ہم نے دشمن کے لیے ثابت کردیا کہ مسجد اقصیٰ لاوارث نہیں ہے ، یہ ایک تزویراتی مقصد ہے جسے فلسطینیوں نے حاصل کر لیا ہے، غزہ میں حماس کے دفتر کے سربراہ نے مزید کہاکہ حالیہ جھڑپوں میں مزاحمت نے اپنی طاقت کا صرف 50٪ استعمال کیا،انہوں نے کہا کہ قبضہ کار مکڑی کے جالے سے بھی ہزاروں گنا کمزور ہیں۔

السنور نے کہا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن بااثر گروہوں کے بغیر ایک خالی ہال کی طرح ہے، ہمیں فلسطین مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ایک حقیقی موقع درپیش ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سمجھوتہ کرنے والی حکومتوں صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے ،فلسطینیوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے اور اسرائیل کی بین الاقوامی صورتحال میں تبدیلی نے اس کے اقدامات اور جارحیت کی حوصلہ افزائی کی۔

غزہ میں حماس کے دفتر کے سربراہ نے تل ابیب میں 12 روزہ جنگ کے دوران فلسطینی مزاحمت کے حملے جنہوں نے اسرائیل کو مفلوج کردیا،کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تل ابیب ، جو عرب حکمرانوں کا قبلہ بن چکا تھا ، کو ایک غیر محفوظ مقام میں تبدیل کردیا اورایک اسٹریٹجک مقصد حاصل کرلیا ایک اس لیے کہ فلسطینی قوم مزاحمتی تحریک کے پیچھے تھی، انہوں نے مزید کہاکہ اسرائیل ایک حقیقی حملہ برداشت نہیں کرسکتا ہے، جو کچھ ہوا اس میں اسرائیل کی ایک چھوٹی سی تصویر ظاہر کرنے کی ہماری صلاحیت میں ایک چھوٹی سی ورزش تھی۔

انھوں نے مزید کہ ہم نے سمندر میں فائر کرکے بہت سے میزائلوں کا تجربہ کیا تھا ، اور ہمیں انھیں عملی طور پر جانچنے کی ضرورت تھی، السنور نے کہا اسرائیل کا مقصد 50 فیصد مزاحمت کو ختم کرنا اور غزہ کو کئی دہائیوں تک پیچھے لے جانا تھا،تاہم اس نے جو کچھ حاصل کیا وہ بہت بڑا سا صفر تھا، مزاحمت کی تیاری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے صیہونیوں کو متنبہ کیا کہ اگرپھر سے غلطی کرنے کی کوشش کی تو مزاحمت کا ردعمل ظاہر خطرناک ہوگا۔

السنور نے کہا کہ اس جنگ میں تمام مزاحمتی گروپوں کے 90 سے زیادہ اراکین شہید نہیں ہوئے جبکہ اسرائیل نے دسیوں ہزار فلسطینی مجاہدین کو ہلاک کرنے کی کوشش کی، انہوں نے مزید کہاکہ اس عظیم فتح کے بعد ہم کہتے ہیں کہ مئی 2021 کے بعدسے ہم مئی 2021 سے پہلے کی طرح نہیں ہیں، دشمن نے غزہ میں تین فیصد سے زیادہ سرنگوں کو تباہ نہیں کیا ،ہم غزہ کے ہر شہری کے لیے ٹھوس انسانی اور مالی صورتحال میں ہم کسی بڑے افتتاحی عمل کےبغیر کبھی بھی مطمئن نہیں ہوں گے۔

 

مشہور خبریں۔

یوکرین جنگ کا رخ بدل دینے والے تین ہتھیار

?️ 27 فروری 2023سچ خبریں:سی این این نیوز چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں یوکرین

اسرائیل نے یمنیوں سے نمٹنے کے لیے امریکا سے مدد مانگی ہے

?️ 11 جولائی 2025سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے

ایک تہائی صہیونی جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے نفسیاتی بحران کا شکار 

?️ 24 دسمبر 2025سچ خبریں: 7 اکتوبر 2023 کو طوفان الاقصیٰ کارروائی کے جھٹکے اسرائیلی معاشرے

عمان اور عرب لیگ کی طرف سے منفی ردعمل

?️ 6 فروری 2025سچ خبریں: عرب لیگ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ

امریکی ہسپتالوں میں کورونا کا شکار بچوں کی تعداد کا ریکارڈ قائم

?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں:یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کا کہنا ہے

آیت اللہ خامنہ ای کی تقریر پر عالمی میڈیا کا ردعمل

?️ 3 نومبر 2024سچ خبریں:آیت اللہ خامنہ ای کے طلبہ و طالبات سے خطاب کو

ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان معاہدے کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے راستے بحال ہو گئے

?️ 1 نومبر 2021 اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق حکومت اور کالعدم تنظیم کے

اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں تو ہمارے پاس بھی ہونے چاہئیں: بن سلمان

?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں:فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے