ترکی اسرائیل کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ کیوں سمجھا رہا ہے؟

ترکی

?️

ترکی اسرائیل کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ کیوں سمجھا رہا ہے؟
گزشتہ دو برسوں کی علاقائی پیش رفت نے ترکی کو اسرائیل کے بارے میں اپنی پرانی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انقرہ جو کبھی تل ابیب کو صرف ایک علاقائی حریف سمجھتا تھا، اب اسے براہِ راست اپنی سلامتی اور مفادات کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے۔
ترکیہ نے اگست کے آخر میں ایک بڑا فیصلہ کیا اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات معطل کر دیے۔بندرگاہیں اسرائیلی جہازوں کے لیے بند کر دیں۔فضائی حدود اسرائیلی پروازوں کے لیے محدود کر دی۔
بظاہر یہ اقدام غزہ میں اسرائیلی مظالم اور نسل کشی کے خلاف احتجاج کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ محض اخلاقی ردعمل نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک پالیسی شفٹ ہے۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا اسرائیلی نسل کشی انسانیت کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ پارلیمنٹ کے ہنگامی اجلاس میں یہ فیصلہ غزہ میں جاری قحط اور تباہی پر مبنی رپورٹس کے بعد کیا گیا۔اسرائیل نے ارمینیوں کی نسل کشی کو باضابطہ تسلیم کیا، جسے انقرہ نے ایک سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیا۔
شام میں اسرائیلی فضائی حملے اور لبنان پر بمباری ترکی کے علاقائی مفادات کے خلاف سمجھے جا رہے ہیں۔اسرائیل کے کرد گروہوں کو سپورٹ کرنے کے اقدامات ترکیہ کی سرحدی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تجارتی حجم میں ایک سال کے دوران ۳۲ فیصد کمی آئی ہے۔
ترکی کی برآمدات میں ۳۰ فیصد کمی، جب کہ اسرائیل سے درآمدات میں ۴۳.۴ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق، اسرائیل کو اس تجارتی تنازع میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، کیونکہ وہ ترکی کی مصنوعات پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ترکیہ خود کو یورپ کے لیے ایک انرجی حب کے طور پر دیکھتا ہے اور گیس پائپ لائن منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔اس کے برعکس اسرائیل، امریکی حمایت سے، ایسے منصوبے آگے بڑھا رہا ہے جن میں ترکیہ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
جاہد توز (سابق مشیر کابینہ ترکی) اسرائیل اب صرف ایک حریف نہیں بلکہ براہِ راست خطرہ ہے۔یوسف اوغلو (رکن اے کے پارٹی) ترکی کے عوام اسرائیل کے خلاف سخت اقدام چاہتے ہیں اور حکومت کو اندرونی دباؤ نے عملی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔فرقان هایوغلو (ماہر سلامتی) اسرائیلی مداخلت شام اور مشرقی بحیرہ روم میں ترکیہ کے اسٹریٹجک مفادات کے خلاف ہے۔

مشہور خبریں۔

ایف بی آر ڈائریکٹوریٹ کے اختیارات بحال

?️ 26 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے فیڈرل

امریکہ کی مقبوضہ بیت المقدس میں جاسوسی کا ہیڈکوارٹر بنانے کی کوشش

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:    قانونی مرکز اسرائیل میں عرب اقلیت کی حمایت نے

کینیڈا نئے بجٹ کے ذریعے امریکہ پر انحصار کم کرنے کی تلاش میں

?️ 4 نومبر 2025کینیڈا نئے بجٹ کے ذریعے امریکہ پر انحصار کم کرنے کی تلاش

واٹس ایپ نے صارفین کے لیے غیر جوابی پیغامات پر ماہانہ حد مقرر کر دی

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اسپیم اور غیر

چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کیلئے کمیٹی کے قیام کی قرارداد منظور

?️ 15 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی کے اجلاس میں چیف جسٹس سمیت

حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، حریت کانفرنس

?️ 29 اپریل 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی طور پرزیر قبضہ جموں و

اگر گرمی برداشت نہیں تو فیلڈ آنے کی ضرورت نہیں

?️ 3 مئی 2021پنجاب(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی عینک لگا کر 70 فیصد ہے۔ اعظم نذیر تارڑ

?️ 16 فروری 2026شیخوپورہ (سچ خبریں) وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے