?️
بی بی سی اور وہ اعتبار جو اس نے کھو دیا
مستند پانوراما سے متعلق جنجال اور اس میں سامنے آنے والے جانبداری کے الزامات نے بی بی سی میں ایک گہری ساختیاتی بحران کو عیاں کر دیا ہے۔ اتوار ۹ نومبر کو بی بی سی کے دو سینیئر ترین عہدیداران ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز دبورا ٹرنَس نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ استعفے اس وقت سامنے آئے جب ایک درز شدہ داخلی رپورٹ نے انکشاف کیا کہ بی بی سی نے متعدد کلیدی موضوعات میں، خصوصاً ڈونالڈ ٹرمپ کی ایک تقریر کے پانوراما میں استعمال شدہ حصوں میں، جانبداری یا ادارتاً اختلال کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو ’’تشہیری مشین‘‘ قرار دیا اور ٹرمپ نے مستعفی ہونے والے عہدیداران کو ’’بے حد غیرصادق‘ کہا۔
ٹِم ڈیوی نے اپنے دفاع میں بی بی سی کو بدستور ’’دنیا بھر میں صحافت کا سنہری معیار‘‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ غلطیاں ہوئیں جن کی ذمہ داری بطور سربراہ انہیں قبول کرنا پڑے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ایک بڑی خرابی کی علامت ہے جو برسوں سے ادارے کے دامن میں جمع ہو رہی تھی۔
بی بی سی، جو کبھی غیرجانبداری اور معتبر خبررسانی کا آئکن سمجھا جاتا تھا، اب اعتماد کے مسلسل بحران سے گزر رہا ہے۔ ادارۂ یوگاو کے مطابق ۲۰۰۳ میں بی بی سی کے صحافیوں پر عوامی اعتماد ۸۰ فیصد تھا، جو ۲۰۲۳ میں گھٹ کر صرف ۳۸ فیصد رہ گیا—یعنی ۴۳ فیصد پوائنٹس کی شدید گراوٹ۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ نے بی بی سی کی روایتی ناظرین کی بنیاد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ گزشتہ دس برس کے دوران اس کے مقبول پروگراموں کی تعداد تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ نوجوان نسل ٹیلی وژن کم دیکھتی ہے، اور آن لائن میڈیا و اسٹریمنگ سروسز نے بی بی سی کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اس شارٹ فال نے بی بی سی کے مالی بحران کو سنگین بنا دیا ہے۔ ٹی وی لائسنس فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر عوامی ناراضی بڑھ رہی ہے:
گزشتہ مالی سال میں ۳ لاکھ مزید خاندانوں نے فیس کی ادائیگی روک دی، اور پانچ سال میں مجموعی طور پر ۲ ملین سے زائد گھرانوں نے اپنی سبسکرپشن ختم کر دی ہے، جس سے ادارے کی سالانہ آمدنی میں درجنوں ملین پاؤنڈ کی کمی آئی ہے۔
محتوائی سطح پر بھی بی بی سی شدید تنقید کا نشانہ ہے۔ غزہ جنگ کی کوریج پر فلسطین نواز گروہوں نے اسے اسرائیلی بیانیہ دہرانے کا ملزم ٹھہرایا اور لندن میں بی بی سی ہیڈکوارٹرز پر احتجاجاً سرخ رنگ پھینکا۔ ہزاروں افراد نے لندن، لیورپول اور دیگر شہروں میں مظاہرے کیے۔
دوسری طرف اسرائیل نواز حلقے بی بی سی پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ حماس کے لیے لفظ ’’دہشت گرد‘‘ استعمال نہیں کرتا اور اسرائیلی مؤقف کی مناسب عکاسی نہیں کرتا۔ ان ہی دباؤ کے باعث بی بی سی نے ایک متنازع فیصلہ کرتے ہوئے غزہ: کیسے ایک جنگ زدہ علاقے میں زندہ رہیں نامی ڈاکیومنٹری اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دی—وہ بھی اس بنا پر کہ اس کا راوی ایک حماس اہلکار کا بیٹا تھا۔ بعد کی تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ تعلق مستند کے مواد پر اثرانداز نہیں تھا، جس کے بعد بی بی سی کو ’سیاسی دباؤ کے آگے جھکنے‘‘ کا شدید الزام سہنا پڑا۔
نومبر ۲۰۲۴ میں بی بی سی کے ۱۰۰ سے زائد ملازمین اور سیکڑوں اکیڈمک و ثقافتی شخصیات نے ایک کھلا خط جاری کیا، جس میں بی بی سی پر غزہ جنگ کی کوریج میں عدم توازن اور صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا۔ ادارے کی طرف سے وضاحت کے باوجود اندرونی اضطراب اور عوامی تنقید ختم نہ ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ استعفے محض ایک علامت ہیں۔ اصل بحران کہیں زیادہ وسیع ہے اعتماد کا زوال، ناظرین کی کمی، مالیاتی دباؤ، سیاسی تنقید اور ادارہ جاتی عدم استحکام۔
بی بی سی کی بقا اب بڑے پیمانے پر ساختی اصلاحات، مالی ماڈل کی تبدیلی، اور صحافتی اعتماد کی بحالی پر منحصر ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
نیب نے پولیس اور رینجرز سے مددلینے کا فیصلہ کیا
?️ 23 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کی
مارچ
خیبر پختونخوا میں امن وامان ہے نہ حکومت نام کی کوئی چیز، مولانا فضل الرحمٰن
?️ 19 جنوری 2025چارسدہ: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن
جنوری
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی دہشت گردی جاری، بین الاقوامی میڈیا کی عمارت کو تباہ کردیا گیا
?️ 16 مئی 2021غزہ (سچ خبریں) غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے مسلسل
مئی
ابوظبی پورٹس کے ساتھ انفرااسٹرکچر کے معاہدے، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
?️ 9 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور ابوظبی پورٹس گروپ نے ریل،
نومبر
’ورنہ‘ فلم کے لیے ماہرہ خان سے قبل کرینہ کپور پہلی پسند تھیں، ہارون شاہد
?️ 18 ستمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) اداکار و گلوکار ہارون شاہد نے انکشاف کیا ہے
ستمبر
کوک اسٹوڈیو میں آج تک پسوڑی کے علاوہ کوئی اوریجنل گانا نہیں بنا، وارث بیگ
?️ 10 ستمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) معروف گلوکار وارث بیگ نے دعویٰ کیا ہے کہ
ستمبر
امریکی غاصبوں کے ہاتھوں شام کے تیل وسائل کی چوری کا سلسلہ جاری
?️ 4 جولائی 2021سچ خبریں:شامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی قابض افواج کے
جولائی
اسرائیل کا فلسطینی اتھارٹی کی لاکھوں ڈالر کی امداد دینے سے انکار
?️ 12 جولائی 2021سچ خبریں:اسرائیلی کابینہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پچھلے سال
جولائی