برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا کا امریکی صدر ٹرمپ کو جواب

برازیل

?️

سچ خبریں: برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے امریکا کی برازیلی مصنوعات پر 50 فیصد درآمدی محصولات کی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر منطقی اور سیاسی چال قرار دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں صدر دا سلوا نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ایسی کسی بھی بات چیت کے لیے کھلی ہے جس سے باہمی مفادات حاصل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیکن برازیل کی جمہوریت اور خودمختاری کبھی بھی مذاکراتی میز پر نہیں ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جولائی میں برازیل کے خلاف یہ محصولات عائد کیے تھے، اس وقت انہوں نے برازیل کے سابق صدر جائر بولسونارو کے خلاف ہونے والے مقدمے کو "سیاسی مقدمہ” قرار دیا تھا، جس پر انتخابی شکست کے بعد غیر قانونی طور پر اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کے الزامات تھے۔
گزشتہ ہفتہ منگل کو برازیل کی سپریم کورٹ کے ججوں کے پینل نے سال 2022 میں لولا کے خلاف الیکشن ہارنے کے بعد بغاوت کی کوششوں پر فیصلہ سنایا، جس کے بعد امریکا کی طرف سے ممکنہ اضافی پابندیوں کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
لولا نے برازیل کی سپریم کورٹ کے اس "تاریخی فیصلے” پر فخر کا اظہار کیا جس نے نہ صرف برازیل کی عدالتی نظام اور جمہوری خودمختاری کی ضمانت دی بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ یہاں "مقدمہ سازی” نہیں ہوتی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ کئی ماہ کی تفتیش کے بعد آیا جس میں ان کے، نائب صدر اور سپریم کورٹ کے ایک جج کے قتل کے منصوبوں کا انکشاف ہوا۔
برازیل کے صدر نے امریکا کی تجارتی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے 15 سالوں میں امریکا کو دونوں ممالک کے درمیان سامان اور خدمات کی دو طرفہ تجارت سے 410 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا ہے، لہٰذا یہ اضافی محصولات نہ صرف بے جا بلکہ غیر منطقی ہیں۔
نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والا یہ مضمون اس بات کی علامت ہے کہ برازیل اپنے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ممکنہ اضافی امریکی پابندیوں کے لیے تیار ہے۔
برازیل کی سپریم کورٹ کے منگل کے فیصلے کے بعد امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پیغام میں لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ "مناسب ردعمل” دے گی۔
برازیل کے وزارت خارجہ نے روبیو کے بیان کو نامناسب دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی باتوں سے ان کی حکومت خوفزدہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ برازیل کا عدالتی ڈھانچہ خودمختار ہے اور بولسونارو کے مقدمے میں منصفانہ سماعت کا عمل اپنایا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

جموں کا قتل عام انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: کل جماعتی حریت کانفرنس

?️ 4 نومبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

بھارت کا رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ، 8 شہری شہید، 35 زخمی

?️ 7 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر

امریکی انتخابات سے ایک روز قبل NBC کا نیا سروے: ہریس اور ٹرمپ کے درمیان سخت مقابلہ

?️ 4 نومبر 2024سچ خبریں:امریکی صدارتی انتخابات 2024 کے آغاز سے ایک دن پہلے، NBC

اگر حماس نے ہفتہ تک صہیونی قیدیوں کو آزاد نہ کیا تو غزہ میں جنگ بندی ختم ہو جائے گی :نیتن یاہو

?️ 12 فروری 2025 سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آج دعویٰ کیا کہ

بشار الاسد کے یو اے ای کے دورے پر امریکی ردعمل

?️ 19 مارچ 2022سچ خبریں:  محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بشار الاسد کے یو اے

صدر آزاد کشمیر اسمبلی بیرسٹر سلطان محمود چودھری انتقال کرگئے

?️ 31 جنوری 2026مظفرآباد (سچ خبریں) صدر آزاد جموں و کشمیر اسمبلی بیرسٹر سلطان محمود

یورپی ممالک اور امریکہ نے صہیونی کو ویزا دینے کے قوانین سخت کردیے

?️ 6 نومبر 2025یورپی ممالک اور امریکہ نے صہیونی کو ویزا دینے کے قوانین سخت

صیہونیوں نے فلسطینی خواتین قیدیوں کی جیل میں کورونا وائرس پھیلایا ہے:جہاد اسلامی

?️ 16 جنوری 2022سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کےایک رکن نے اپنے بیان میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے