ایپسٹین کے فنڈز اسرائیلی فوج اور صہیونی قبضہ منصوبوں کے لیے استعمال ہوئے

ایپسٹین

?️

ایپسٹین کے فنڈز اسرائیلی فوج اور صہیونی قبضہ منصوبوں کے لیے استعمال ہوئے
امریکی وزارتِ انصاف کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ بدنام زمانہ امریکی ارب پتی اور جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین نے برسوں تک خفیہ طور پر اسرائیلی فوج اور فلسطینی علاقوں میں صہیونی آبادکاری منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔
امریکی محکمہ محصولات میں درج ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین کی فاؤنڈیشن نے فرینڈز آف اسرائیل ڈیفنس فورسز  کو بھاری رقوم عطیہ کیں، جو ایک امریکی ادارہ ہے اور براہِ راست اسرائیلی فوج، اس کے فوجیوں اور عسکری انفراسٹرکچر کی حمایت کرتا ہے۔
دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایپسٹین نے یہودی نیشنل فنڈ کو بھی مالی امداد فراہم کی، جو کئی دہائیوں سے فلسطینی زمینوں پر قبضے، یہودی بستیوں کی توسیع اور صہیونی آبادکاری منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
اسی طرح، ایپسٹین کی جانب سے ہلیل انٹرنیشنل نامی تنظیم کو دی جانے والی امداد کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو خاص طور پر امریکی جامعات میں صہیونی نظریات کے فروغ اور اسرائیلی پالیسیوں کے دفاع کے لیے سرگرم سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ تنظیم باضابطہ طور پر آبادکاری کی حمایت نہیں کرتی، تاہم اس کے اسرائیل نواز اداروں سے روابط کو بالواسطہ حمایت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید انکشافات میں کہا گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین کے اسرائیلی سیاسی و سکیورٹی شخصیات سے قریبی روابط تھے، جن میں سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک کا نام بھی شامل ہے۔ بعض دستاویزات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایپسٹین موساد کے ساتھ ہم آہنگ سرگرمیوں، بشمول معلومات اکٹھا کرنے اور بلیک میلنگ، میں ملوث رہا، تاہم اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ سامنے آیا ہے کہ موجودہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے 2014 میں ایپسٹین کے نجی جزیرے کا دورہ کیا تھا، جس پر اسرائیلی سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں ایپسٹین اور موساد کے درمیان کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایپسٹین کے بعض اسرائیلی شخصیات سے روابط کو خفیہ سکیورٹی تعاون سے جوڑنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
یہ انکشافات ایک بار پھر عالمی سطح پر اسرائیلی فوج اور صہیونی منصوبوں کی مالی معاونت کے ذرائع پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوران مروان البرغوثی کا نام نکلوانےکی امریکی کوشش

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں:امریکہ نے اسرائیل کے مفادات کے تحت حماس پر دباؤ ڈالا

یوکرین جنگ کا 2 ماہ میں خاتمہ ممکن ہے: پیوٹن

?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس یقین کا اظہار

بیشتر لبنانی حزب اللہ کے خلع سلاح کے مخالف 

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: لبنانی اخبار "الاخبار” نے انٹرنیشنل ڈیٹا سینٹر کے زیر اہتمام

بھارت کا نوآبادیاتی منصوبہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی مسلم شناخت کو مٹانے کی سازش ہے

?️ 27 مئی 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

فلسطین کے بارے میں یورپ کی منافقت

?️ 15 اکتوبر 2023سچ خبریں:مغرب کا دوہرا نقطہ نظر ہمیشہ سے ایک متنازعہ رجحان رہا

اومیکرون نے دنیا کی اسٹاک مارکیٹوں کو کیا حیران

?️ 27 نومبر 2021سچ خبریں: افریقہ میں اومیکرون نامی کورونا وائرس کے نئے تناؤ کے متعارف

ایران کی مضبوط بحری قوت اور امریکی فوجی حکام کی توجہ کا مرکز؛نیویارک ٹائمز کی زبانی 

?️ 20 جون 2025 سچ خبریں:نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی فوجی حکام ایران

مراد علی شاہ اور پیپلزپارٹی سندھ میں 16 سالہ حکومت کی کارکردگی بتائیں.عظمی بخاری

?️ 22 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ سندھ کے پنجاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے