ایران کا صیہونیوں کو پیغام؛فلسطینی ماہر کی نظر میں

ایران

?️

سچ خبریں: ایک فلسطینی ماہر نے صیہونی حکومت کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کی جوابی کارروائی کے بعد صیہونی برادری کی شدید تشویش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی صیہونیوں کے لیے ایک اسٹریٹجک پیغام پر مشتمل ہے۔

فلسطینی ماہر معین نایم کا کہنا ہے کہ ملک شام میں ایرانی قونصل خانے کے خلاف اسرائیل کی جارحیت پر تہران کا ردعمل مکمل طور پر صحیح تھا،اگر ایران صیہونی حکومت کے اقدامات پر ردعمل ظاہر نہ کرتا تو خطے کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا تھا کیونکہ اس طرح اسرائیل ایران اور دیگر ممالک کے اہداف پر حملے جاری رکھنے میں مزید لاپرواہ اور پرعزم ہو جاتا لہذا ایران کی کارروائی معقول تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وعدہ صادق آپریشن کے بارے میں پاکستانی ماہرین کا نقطہ نظر

انہوں نے کہا کہ ایران کے ردعمل کو جنگ کا دائرہ وسیع نہ کرنے کے مقصد کے ساتھ شمار کیا گیا اور اسرائیل کو یہ پیغام دیا کہ ایران اپنے حقوق، قوانین، سرزمین اور حتیٰ اپنے کمانڈروں پر حملوں کی صورت میں خاموش نہیں رہے گا،ایران کے اہداف کے مطابق وعدہ صادق آپریشن کامیاب رہا ہے کیونکہ اسرائیل کو یہ پیغام ملا ہے کہ ایران کسی بھی وقت اور جس طرح چاہے حملہ کر سکتا ہے۔

یقیناً اس کارروائی کی اسرائیل کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے، اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس حملے میں اسرائیل کو 1.2 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا، اس سے اس کی معیشت اور اندرونی استحکام کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔

یہ حملہ اب ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کی جنگ صرف مزاحمتی گروپ کے ساتھ نہیں بلکہ براہ راست ایران کے ساتھ ہے، اس سے صہیونی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جبکہ فلسطینی عوام ایران کے آپریشن سے بہت خوش ہیں اس لیے کوئی بھی ملک ان کی صفوں میں شامل ہو کر اس حکومت پر حملہ کرتا ہے ان کے لیے خوش آئند واقعہ ہو گا، اس بار اسرائیل کو مزاحمتی تحریک کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ براہ راست کسی ملک کی سرکاری حکومت کے ساتھ مقابلہ ہوا، یہ مسئلہ فلسطینیوں کے لیے بہت اہم ہے۔

فلسطینی ماہر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو احساس ہے کہ اسے نہ صرف فلسطینیوں بلکہ ایران کے ساتھ بھی جنگ کا چیلنج درپیش ہو سکتا ہے، ہمیں یقین ہے کہ اس سے مسئلہ فلسطین پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے،1948 سے لے کر اکتوبر 2023 تک فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والی تمام ہلاکتوں اور جنگوں کے باوجود صیہونی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ یہ جرائم اس کی اپنی سلامتی کے لیے ہیں اور وہ ان اقدامات کو جائز بھی سمجھتی ہے جبکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق قابض کو اپنے دفاع کا حق حاصل نہیں ہے، اس وجہ سے سب سے درست اقدام ایران کا اسرائیل کے خلاف آپریشن ہے جو مکمل طور پر آرٹیکل 51 پر مبنی ہے۔

مزید پڑھیں: صہیونی جنگی کابینہ میں بحران کے بارے میں ایک نیا انکشاف

اسرائیل بھی مغربی ممالک کی طرح ہمیشہ اپنے اقدامات کو جائز قرار دینے اور اپنے ہم منصب کے ردعمل کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ قرار دینے کا عادی ہے،2023 میں طوفان الاقصی آپریشن سے اسرائیل کی ڈیٹرنس پاور کو شدید دھچکا لگا تھا۔

درحقیقت جس طرح صیہونی حکومت 7 اکتوبر کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک کی حمایت کے بغیر تنہا مزاحمت نہیں کر سکتی اسی طرح وہ ایران کے میزائلوں کا بھی مقابلہ نہیں کر سکی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اکیلا کچھ نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا نئی صہیونی کابینہ غزہ کے میزائلوں کا مقابلہ کرپائے گی؟؟؟

?️ 18 جون 2021(سچ خبریں)  12 سال تک اقتدار میں رہنے والے بنجمن نیتن یاہو

کورونا کے پھیلاؤ کا خطرہ ، قیدیوں سے ملاقات پر پابندی

?️ 28 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں) کورونا وائرس ملک بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے

کیا ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے والے ہیں؟

?️ 30 مئی 2022گزشتہ دنوں عبرانی اور عرب میڈیا نے خبریں شائع کیں کہ صیہونی

کسی بھی پلیٹ فارم کو اداروں کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے، آصف زرداری

?️ 25 اکتوبر 2022 کراچی: (سچ خبریں) پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری

جنوبی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک

?️ 17 مارچ 2023خیبرپختونخوا:(سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب

امریکی مخالفت کے باوجود صدر آصف زرداری کا ایران کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات پر زور

?️ 30 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور

پیوٹن کا حالیہ دورہ چین کیسا رہے گا؟

?️ 19 مئی 2024سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اس ملک کے صدر

لاہور ہائی کورٹ: عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

?️ 18 مارچ 2023لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے