امریکی نمائندے کی دمشق کو مزاحمتی محاذ کے خلاف ساتھ ملانے کی کوششیں

امریکی نمائندہ

?️

امریکی نمائندے کی دمشق کو مزاحمتی محاذ کے خلاف ساتھ ملانے کی کوششیں

 امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے امورِ شام و لبنان ٹام باراک نے شام کے عبوری صدر احمد الشرع ابو محمد الجولانی کے حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ دمشق مستقبل میں امریکہ کے ساتھ داعش، حماس اور حزب اللہ کے خلاف تعاون کرے گا۔

الجزیرہ کے مطابق، باراک نے اس دورے کو مشرقِ وسطیٰ کی نئی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کا سفر انزوا سے شراکت کی جانب ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ احمد الشرع کی داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت، شام کو "دہشت گردی کے منبع سے دہشت گردی کے خلاف شراکت دار” میں تبدیل کرنے کا سنگِ میل ہے۔

ٹام باراک نے مزید کہا کہ امریکہ، ترکی اور شام کے درمیان ایک نیا علاقائی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت شامی ڈیموکریٹک فورسز کو ملک کے نئے سیاسی ڈھانچے میں ضم کیا جائے گا اور ترکی، شام اور اسرائیل کے تعلقات کو ازسرِنو متعین کیا جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ قطر، سعودی عرب اور ترکی کی حمایت سے شام کی واپسی خطے کے لیے مثبت ثابت ہوگی۔ ان کے بقول، اگلا قدم قیصر ایکٹ یعنی امریکہ کی شام مخالف پابندیوں کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ باراک نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ "شام کو نیا موقع دینے کے لیے یہ تاریخی قدم اٹھائے۔

دریں اثنا، ذرائع نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور احمد الشرع کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات بند دروازوں کے پیچھے ہوئی، جس میں صحافیوں یا میڈیا کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے کوئی مشترکہ پریس کانفرنس بھی نہیں کی، اور الشرع خاموشی سے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے۔

امریکی وزارتِ خزانہ نے اسی روز اعلان کیا کہ شام پر عائد تمام امریکی پابندیاں (قیصر ایکٹ) 180 دن کے لیے معطل کی جا رہی ہیں۔

یہ قانون دسمبر 2019 میں نافذ کیا گیا تھا اور اس کا مقصد شام کی حکومت پر معاشی دباؤ ڈالنا تھا۔ اس کے تحت شامی بینکوں، توانائی کے شعبے، رئیل اسٹیٹ اور برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن کے نتیجے میں کئی ممالک اور کمپنیوں نے دمشق سے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔

یہی قانون ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں نافذ کیا گیا تھا، جس نے شام کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد یا اداروں کے لیے سخت مالی سزائیں متعین کی تھیں۔

مشہور خبریں۔

شہباز شریف کا قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کو ٹیلی فون

?️ 9 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات اور قطر

سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بھارت کی آبی دہشتگردی ہے، شیخ رشید

?️ 26 اپریل 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا

جموں کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں ہوسکتا

?️ 11 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی آئین

امریکہ پر اعتماد افغانستان کے زوال کا باعث بنا ہے: اشرف غنی

?️ 30 دسمبر 2021سچ خبریں:مفرور افغان صدر نے ملک چھوڑنے کے بعد ایک سرکاری انٹرویو

سوڈانی فوج کے جنرل حمیدتی کے ٹھکانوں پر شدید حملے

?️ 2 فروری 2026 سچ خبریں: خبری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سوڈان میں

غزہ میں نقل مکانی سے لے کر مذاکرات میں بلیک میل تک

?️ 17 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی ریگیم کے غزہ کے عوام کو بے گھر کرنے

اولمپکس کے خلاف حماس کی دھمکیوں کی ویڈیو جعلی

?️ 28 جولائی 2024سچ خبریں: بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے اعتراف کیا

قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں بات کرنے والے فوجیوں کے ساتھ صیہونی فوج کا سلوک

?️ 17 اکتوبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے غزہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے