?️
امریکا میں روزگار کا بحران شدت اختیار کر گیا،ریپبلکنز کے معاشی وعدے ناکام
امریکا میں روزگار کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے اور بلند مہنگائی کے باعث عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ایسوشی ایٹڈ پریس اور نورک پبلک افیئرز ریسرچ سینٹر کے تازہ ترین سروے کے مطابق، تقریباً نصف امریکی بالغ افراد (47 فیصد) اپنے روزگار کے مستقبل کے بارے میں پُراعتماد نہیں ہیں۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے غیرمتوقع فیصلے اور کاروباری غیر یقینی نے بھرتیوں کے عمل کو روک دیا ہے، جس سے امریکی روزگار مارکیٹ نازک حالت میں پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، کھانے پینے کی اشیاء، رہائش اور علاج معالجے کے بڑھتے اخراجات نے امریکی خاندانوں پر مالی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ ساتھ ہی، بجلی اور گیس کے بل عوام کی سب سے بڑی تشویش بن گئے ہیں۔
وزارتِ محنتِ امریکا کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق، ستمبر میں صرف 22 ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوئیں، جب کہ ماہرین نے 80 ہزار کی توقع ظاہر کی تھی۔ اسی ماہ بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 4.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2021 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
ماہرِ معاشیات اسکاٹ اینڈرسن نے خبردار کیا کہ روزگار کے مواقع میں کمی کا سلسلہ خطرناک رفتار سے جاری ہے، جو آنے والے مہینوں میں صارفین کے اخراجات اور معیشت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سروے میں 36 فیصد امریکیوں نے کہا کہ بجلی کے بڑھتے بل ان کی سب سے بڑی تشویش ہیں۔ ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال اور ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ سے بجلی کے اخراجات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
اقتصادی ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا کہ نوجوان طبقہ خاص طور پر 22 سے 25 سال کے درمیان روزگار کے میدان میں مصنوعی ذہانت کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ وزارتِ محنت کے مطابق، 16 سے 24 سالہ امریکیوں میں بیروزگاری کی شرح 10.5 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو اپریل 2021 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے درآمدی محصولات (ٹیرِف) کے نفاذ اور توانائی منصوبوں کی فنڈنگ میں کٹوتی نے بھی مہنگائی کے دباؤ کو بڑھایا ہے۔ امریکی عوام کے مطابق، ٹرمپ کی پالیسیاں ملکی صنعت کو سہارا دینے کے بجائے نقصان پہنچا رہی ہیں، کیونکہ کارخانوں میں بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔
سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 68 فیصد امریکی معیشت کو کمزور سمجھتے ہیں، جب کہ صرف 32 فیصد اسے اچھی قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح، محض 12 فیصد امریکی اپنی گھریلو مالی حالت کو بہتر قرار دیتے ہیں، جب کہ 28 فیصد نے کہا کہ ان کی مالی حالت بدتر ہو رہی ہے۔
ایسوشی ایٹڈ پریس کے مطابق، امریکی عوام نے گزشتہ انتخابات میں صدر کو بدل تو دیا، لیکن ٹرمپ کے دورِ حکومت میں بھی معیشت پر اعتماد بحال نہیں ہوا۔ صرف 36 فیصد امریکی ٹرمپ کی اقتصادی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ریپبلکن پارٹی کو آئندہ ریاستی اور کانگریسی انتخابات (2026) میں سخت نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
غزہ میں کئی نئے السنوار ہیں ؛صیہونی میڈیا کا انتباہ
?️ 30 اکتوبر 2024سچ خبریں:صہیونی میڈیا کے حماس کی بحالی اور حزب اللہ کے ساتھ
اکتوبر
’شادی مشکل ہوتی ہے‘، صبا حمید کی طویل عرصے بعد ذاتی زندگی سے متعلق تفصیلی گفتگو
?️ 19 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سینئر اداکارہ صبا حمید نے طویل عرصے بعد
اکتوبر
شہید سلیمانی ہماری مدد کو آنے والے پہلے شخص تھے:کُرد سیاستدان
?️ 7 جنوری 2023سچ خبریں:عراق کی کردستان سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سکریٹری جنرل نے کہا
جنوری
پی ٹی آئی نے کوئی تحریک چلائی تو سختی سے روکا جائے گا۔ رانا ثناءاللہ
?️ 1 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے
جولائی
ٹرمپ کی نئی گستاخانہ گفتار: "کیوبا اگلا ہدف ہے”
?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں: امریکی صدر، جو خود کو امن لانے والا اور جنگوں
مارچ
متاثرین سیلاب کو بجلی کے بل بھیجنا مناسب نہیں، آئی ایم ایف صورتحال کو سمجھ گیا، وزیر خزانہ
?️ 14 ستمبر 2025کمالیہ: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ
ستمبر
صیہونیوں کے لیے کوئی جگہ پُرامن نہیں
?️ 13 جولائی 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ
جولائی
جنگ زدہ شہر الفاشر کی صورت حال المناک ہے: اقوام متحدہ
?️ 30 دسمبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ کے ایک وفد نے سوڈان کے شمالی دارفور
دسمبر