?️
امریکا اور وینیزویلا کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کا انتظار غیر ضروری قرار دیا
امریکا اور وینیزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں مشتبہ منشیات بردار کشتیوں کے خلاف جاری فضائی حملوں کے لیے کانگریس کی منظوری کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق،ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گی، حالانکہ دونوں سیاسی جماعتوں — ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے ارکان نے حکومت سے ان حملوں کے قانونی جواز پر وضاحت طلب کی ہے۔
ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بتایا کہ حکومت کا ماننا ہے کہ یہ حملے اتنے وسیع نہیں کہ 1973 کے “War Powers Resolution” کے تحت آئیں، جو صدرِ امریکا کو پابند کرتا ہے کہ اگر کانگریس سے منظوری نہ ملے تو فوجی کارروائی 60 دن کے اندر ختم کی جائے۔
اس اہلکار کے مطابق، امریکی فوجیوں کو ان کارروائیوں میں کوئی خطرہ لاحق نہیں کیونکہ نشانہ بنائی جانے والی وینیزویلائی کشتیاں دور دراز بحری جہازوں سے اڑنے والے ڈرونز کے ذریعے تباہ کی جاتی ہیں۔
امریکی فوج اب تک 15 فضائی حملے کر چکی ہے، جن میں 65 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تازہ ترین حملہ یکم نومبر کو کیریبین میں کیا گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ ان کارروائیوں کو منشیات فروش کارٹیلز کے خلاف غیر بین الاقوامی مسلح تنازعہ قرار دیتی ہے اور انہیں “غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں” کہتی ہے۔
دوسری جانب، امریکی قانون سازوں نے حکومت کی عدم شفافیت پر شدید تنقید کی ہے۔ ریپبلکن سینیٹر راجر وِکر اور ڈیموکریٹ سینیٹر جیک ریڈ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیر دفاع پِیٹ ہگس کو دو بار خط لکھ کر ان کارروائیوں کے قانونی جواز، ایگزیکٹو آرڈرز اور دہشت گرد تنظیموں کی فہرست کی تفصیلات طلب کی ہیں، مگر تاحال جواب نہیں ملا۔
ڈیموکریٹ سینیٹر مارک وارنر نے حکومت پر یہ الزام لگایا کہ وہ معلومات صرف ریپبلکن اراکین کو فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس سے گفتگو میں کہا جب ہم اپنے فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں تو یہ طرزِ عمل درست نہیں۔ ایک امریکی طیارہ بردار جہاز کیریبین میں تعینات ہے ہم ان ملاحوں کے خاندانوں کو کیسے یقین دلائیں کہ یہ کارروائیاں قانونی ہیں؟
دریں اثناء، ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی مائیک جانسن نے جب اس بارے میں پوچھا گیا کہ آیا وائٹ ہاؤس قانونی طور پر مضبوط پوزیشن میں ہے یا نہیں، تو جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا صدر اور ان کی حکومت اپنے بنیادی فرائض میں سے ایک ملک کا دفاع انجام دے رہے ہیں۔ کانگریس نگرانی کا عمل جاری رکھے گی۔”
رپورٹوں کے مطابق، گذشتہ چند ہفتوں میں امریکا اور وینیزویلا کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا ہے۔ امریکا نے الزام لگایا ہے کہ وینیزویلا سے منشیات اسمگل کرنے والی کشتیاں کیریبین میں سرگرم ہیں۔
امریکی فوج نے حالیہ مہینوں میں بحری جہاز، جنگی طیارے، بمبار، میرین دستے، ڈرونز اور جاسوس طیارے علاقے میں تعینات کیے ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے B-52 بمبار طیاروں نے وینیزویلا کے ساحلوں کے قریب ’’حملے کی مشقیں‘‘ بھی کی ہیں۔
اسی دوران اطلاعات ہیں کہ ٹرمپ نے وینیزویلا میں سی آئی اے کے خفیہ آپریشنز کی بھی اجازت دے دی ہے، جس سے واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پاکستان میں بھی انسٹاگرام ریلز ڈاؤن لوڈ کرنے کا فیچر متعارف
?️ 23 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) کیا آپ بھی انسٹاگرام پر پسندیدہ ریلز کو
نومبر
واٹس ایپ سے پاو چھٹکارا، واٹس ایپ طرز پر آ گیا دوسرا ایپ
?️ 7 مارچ 2021کراچی {سچ خبریں} واٹس ایپ کی نئی پرایویسی پالیسی کی جم کر
مارچ
حکومت کا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج دینے کا فیصلہ
?️ 19 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے ملکی تاریخ کا سب سےبڑا وزیراعظم
فروری
کور کمانڈر ہاؤس حملہ کیس: پختونخوا کے وزیر مینا خان، ایم پی اے فضل الہٰی سمیت 5 ملزمان بری
?️ 11 فروری 2025پشاور؛ (سچ خبریں) پشاور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے کور کمانڈر
فروری
الیکشن کی ساکھ ختم ہو چکی ، لگتا ہے اب کھلی بولی لگے گی. مصطفی نواز کھوکھر
?️ 3 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق رکن سینیٹ مصطفی نواز کھوکھر نے کہا
جون
پاکستان نے مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت کی
?️ 4 جنوری 2023سچ خبریں: پاکستان کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک
جنوری
پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان سیاسی راہ حل پر زور
?️ 12 فروری 2026 پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان سیاسی راہ حل پر زور
فروری
سندھ میں ایک ہزار 18 ارب کے ترقیاتی منصوبے منظور
?️ 24 دسمبر 2025کراچی (سچ خبریں) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا
دسمبر