افغان فوج کی نابودی کی کہانی امریکیوں کی زبانی

افغان

?️

سچ خبریں:افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امریکی دفتر برائے معائنہ (SIGAR) نے سابق افغان فوج کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اشرف غنی نے آرمی کمانڈرز کو تبدیل کرکے ان کی جگہ اپنے وفادار لوگوں کو تعینات کرکے اس ملک کی فوج کو سیاست زدہ کردیا اور ہمارے تربیت یافتہ افراد کو گوشہ نشین کر دیا۔

افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امریکی دفتر برائے معائنہ (SIGAR) نے سابق افغان فوج کے خاتمے کے بارے میں اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ اشرف غنی نے فوج کے کمانڈروں کو تبدیل کرکے ان کی جگہ قوام پرست اور اپنے وفادار لوگوں کو تعینات کیا جس کی وجہ سے فوج کو نقصان پہنچا اور وہ سیاسی بن گئی نیز اس کے نتیجہ میں نوجوان اور لائق افسر گوشہ نشین ہوگئے جنہوں نے امریکی فوجیوں کی نگرانی میں تربیت حاصل کی تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے اکثر قومی فوجی کمانڈروں کو قومی بنیادوں پر تبدیل کیا اور اپنے وفادار لوگوں کو تعینات کیا، جس کی وجہ سے فوج کی سیاست زدہ ہو گئی،افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امریکی انسپکٹر جنرل کے دفتر نے مزید کہا کہ کمانڈ کے درجہ بندی میں اس مسلسل تبدیلی نے دفاعی افواج کے حوصلے اور اعتماد کو کمزور کیا جو نوجوان، تربیت یافتہ، تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افسران کے گوشہ نشین ہونے کا سبب بنا جو ان کی نگرانی میں تربیت یافتہ تھے۔

سگار کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اشرف غنی کے فیصلوں نے افغان فوج کو کمزور کرنے اور اس کی تنزلی میں مدد کی، تجزیہ کیا کہ انتظامی بدعنوانی اور امریکی فوج پر انحصار کے ساتھ ساتھ قومی بنیاد پر غنی کی تقرریاں اور مسلسل تبدیلیوں نے اس ملک کی سکورٹ فورسز کے حوصلے پست کر دیے۔

رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے برسوں کی تربیت اور سازوسامان کے باوجود، افغان فوج طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت کھو چکی تھی اور جب امریکی فوجیوں کے انخلا کی تصدیق ہو گئی تو وہ بکھر گئی۔

اشرف غنی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئےسگار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غنی کی حکومت نے امریکی افواج پر افغان فوج کا انحصار کم نہیں کیا جس کے باعث غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کی مدت کے لیے اس ملک کی فوج میں قومی سلامتی کی حکمت عملی کا فقدان تھا، افغانستان کی تعمیر نو کے امور میں امریکہ کے معائنہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس کا خیال ہے کہ اگرچہ بدعنوانی نے افغان فوج کو کمزور کیا لیکن اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا، اس ادارے امریکہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے افغان فوج میں کرپشن کو نہیں روکا اور اسے مزید اپنا محتاج بنا دیا جس کا نتیجہ میدان جنگ میں سامنے آیا کہ 2020 میں طالبان کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کے بعد فضائی حملے کم ہوئے تو یہ ملک طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا کیونکہ افغان فوج فضائی مدد کے بغیر لڑنے کی عادی نہیں تھی۔

اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں افغان سکیورٹی فورسز میں ’کرپٹ کمانڈروں‘ کی جانب سے ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے خوراک اور ایندھن کے ٹھیکوں کی لالچ کو بھی ان عوامل میں سے ایک سمجھا ہے جس نے ان فورسز کے عزم کو متاثر کیا۔

مشہور خبریں۔

سلامتی کونسل کی سربراہی کس ملک کے پاس جائے گی؟

?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر اعلان کردہ شیڈول کے

غزہ کے ایک تہائی باشندوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں: اسرائیلی میڈیا

?️ 27 جولائی 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ کے فوڈ ایجنسی نے ایک بیان میں انتباہ

پاک-ایران کشیدگی: پاکستانی فضائی حدود میں اوور فلائنگ کرنے والی پروازوں میں ریکارڈ کمی

?️ 19 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان-ایران کشیدگی کے باعث پاکستانی فضائی حدود استعمال

حقیقی امن کب ہو گا؟ یمنی عہدیدار کی زبانی

?️ 16 جنوری 2025سچ خبریں:یمن کی انصار اللہ تحریک کے ترجمان محمد عبدالسلام نے غزہ

کمال عدوان ہسپتال کو تباہ کرنے میں اسرائیل کے مقاصد کا انکشاف

?️ 31 دسمبر 2024سچ خبریں: عبرانی اخبار ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق کمال عدوان ہسپتال

برطانیہ میں مہنگائی کے خلاف مظاہرہ

?️ 21 جون 2022سچ خبریں:برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں روز مرہ کی اشیا میں کمر

‘اداکارائیں جسم فروش نہیں ہوتیں’، مریم نفیس نامناسب پیشکش کرنیوالے افراد پر برہم

?️ 15 اکتوبر 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستانی اداکارہ مریم نفیس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف نے ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے خود بھی جواب دئیے

?️ 6 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی کا اہم اجلاس منگل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے