اسلام آباد اور ریاض کا دفاعی معاہدہ تل ابیب کے لیے بڑا دھچکا

اسلام آباد و ریاض

?️

اسلام آباد اور ریاض کا دفاعی معاہدہ تل ابیب کے لیے بڑا دھچکا
معروف عرب تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو خطے میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ صہیونی رژیم کے لیے ایک بڑے جھٹکے کے مترادف ہے۔
عطوان نے روزنامہ رای الیوم میں لکھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے دستخط کردہ یہ دفاعی معاہدہ ایک بے مثال فوجی و سیاسی اقدام ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ پیغام دیتا ہے کہ اسلامی دنیا نہ تو کمزور ہے اور نہ ہی ہتھیاروں سے خالی۔
انہوں نے کہا کہ یہ دفاعی اتحاد مستقبل میں ایک اسلامی نیٹو کی بنیاد بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا بڑی تبدیلیوں کی دہلیز پر کھڑی ہے اور امریکہ اپنی سیاسی، اقتصادی اور عسکری طاقت میں زوال کا شکار ہے جبکہ چین عالمی قیادت سنبھالنے کے قریب ہے۔
عطوان نے معاہدے کی تیزی سے تکمیل کی چند بڑی وجوہات بیان کیں اسرائیل کا حالیہ حملہ قطر پر، جو امریکی حمایت اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہری جھنڈی کے ساتھ ہوا۔
امریکہ پر اسرائیل کی مکمل گرفت، جو غزہ میں قتل عام اور محاصرہ کی کھلی حمایت سے عیاں ہے۔بھارت اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات، جس کے باعث پاکستان نے اسلامی بلاک میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
عطوان کے مطابق یہ نیا دفاعی ڈھانچہ پاکستان کی اعلیٰ جوہری صلاحیت کو سعودی عرب کی فوجی و اقتصادی طاقت کے ساتھ جوڑتا ہے، جو خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس معاہدے نے یقیناً اسرائیل کو شدید طور پر حیران اور پریشان کر دیا ہے۔
عطوان نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ اسلامی دنیا کے وسیع اتحاد کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا، جس میں ایران بھی شامل ہو۔ انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ گرمجوش تعلقات، بالخصوص ایرانی عہدیدار علی لاریجانی کے دورۂ ریاض کو خطے میں وسیع تر تعاون کا مثبت اشارہ قرار دیا۔یہ دفاعی معاہدہ نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ صہیونی منصوبوں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بھی بن سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کا افغانستان میں زلزلے سے متاثرہ لواحقین سے تعزیت کا اظہار

?️ 18 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں)افغانستان کے صوبت بادغیس میں شدید زلزلے کے باعث

شام کے خلاف صیہونی دراندازی کا سلسلہ جاری

?️ 28 جون 2026سچ خبریں:شامی ذرائع نے خبر دی ہے کہ صہیونی حکومت نے ایک

ٹرمپ کی ایران پر پابندیاں ہمیں نقصان پہنچا رہی ہیں:عراق

?️ 7 فروری 2025سچ خبریں:عراقی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے

جرمن معیشت کو 84 بلین ڈالر کے نقصان کی وجوہات

?️ 11 اکتوبر 2022سچ خبریں:ایک سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ جرمنی میں مزدوروں کی

غزہ میں جنگ بندی کے لیے صیہونیوں کی چار شرطیں؛ حماس کا انکار

?️ 20 اپریل 2025 سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق، قابض حکومت نے غزہ میں

ٹرمپ اور امریکی انٹیلیجنس حلقوں کے درمیان ٹکراؤ؛ وجوہات؟

?️ 25 مئی 2026سچ خبریں:تولسی گیبارڈ کے امریکی قومی انٹیلیجنس کی سربراہی سے استعفیٰ نے

ایران کے خلاف جنگ میں صہیونی حکومت کو سنگین اسٹریٹجک نقصان؛ صیہونی میڈیا کا اعتراف

?️ 3 جولائی 2026سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے اپنی تجزیاتی رپورٹس میں اعتراف کیا ہے کہ

بائیڈن نے آج اسٹریٹجک تیل کے ذخائر سے دستبرداری کا اعلان کیا

?️ 23 نومبر 2021سچ خبریں:  امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن منگل کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے