اسرائیل میں 77 سالہ مسلسل جنگی دباؤ، شہری ذہنی تھکن اور عدم تحفظ کا شکار

اسرائیل میں 77 سالہ مسلسل جنگی دباؤ، شہری ذہنی تھکن اور عدم تحفظ کا شکار

?️

اسرائیل میں 77 سالہ مسلسل جنگی دباؤ، شہری ذہنی تھکن اور عدم تحفظ کا شکار

اسرائیلی معاشرہ گزشتہ ۷۷ برسوں سے ایک ایسی زندگی گزار رہا ہے جو مسلسل جنگ، تنازع اور عدم تحفظ کے سائے میں پنپ رہی ہے۔ صہیونی حکومت کے شہری نہ صرف بیرونی جنگوں بلکہ داخلی ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، اس تمام دباو کے باوجود بہت سے افراد اس خطے کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے، جو خود ایک بڑا سوال ہے۔

1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر آج تک، یہ جعلی ریاست ۱۵ سے زائد بڑی جنگوں اور فوجی تصادموں کا سامنا کر چکی ہے۔ ان میں 1948 کی نکبت جنگ، 1967 کی 6 روزہ جنگ، 1973 کی یوم کیپور جنگ، دو انتفاضے، 2006 کی لبنان جنگ، غزہ پر کئی حملے اور حالیہ 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ شامل ہیں۔

ان تمام جنگوں نے اسرائیلی معاشرے کو شدید نفسیاتی تھکن میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور عالمی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں اور عام شہریوں میں دماغی مسائل، تشویش، عذاب وجدان اور یہاں تک کہ خودکشی کے رجحانات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران، ۱۸ ہزار شہریوں کی عارضی نقل مکانی اور ذہنی دباؤ کے ہزاروں کیسز سامنے آئے سرائیل انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق:70 فیصد عوام جنگ کے تسلسل سے پریشان ہیں۔30 فیصد سے بھی کم لوگ حکومت پر اعتماد رکھتے ہیں۔البتہ فوج پر اعتماد کا تناسب 82 فیصد ہے۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی معاشرہ حکومت کی جنگی پالیسیوں پر ناراض اور بےیقین ہے۔ مارچ 2025 میں ہونے والے عوامی مظاہروں اور جنگ مخالف تحریکوں نے بھی اس صورت حال کو مزید نمایاں کیا۔

اس سب کے باوجود، ہزاروں صہیونی شہری اب بھی اسرائیل میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں:مذہبی نظریات اور صہیونی پراپیگنڈہ جو سرزمین مقدس میں رہائش کو علیا (روحانی ترقی) اور ہجرت کو زوال قرار دیتا ہے۔

قانونِ بازگشت (1950)، جس کے تحت یہودیوں کو ٹیکس چھوٹ، مالی امداد، علاج معالجہ، مکان خریدنے میں رعایت اور زبان سیکھنے کے کورسز جیسے مراعات دی جاتی ہیں۔

خارجی یہود دشمنی کا خوف، خاص طور پر یورپ و امریکہ میں، جو انہیں اسرائیل میں رہنے پر مجبور کرتا ہے، معاشی مسائل اور خاندانی مجبوریوں کی وجہ سے بیرون ملک منتقل ہونا ایک مشکل فیصلہ بن چکا ہے۔

باوجود اس سب کے، مهاجرت معکوس (یعنی اسرائیل چھوڑنا) میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف 2023 میں، 55 ہزار سے زائد افراد اسرائیل چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر تعلیم یافتہ، نوجوان اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی سال نیٹ امیگریشن میں 80 فیصد کمی دیکھی گئی، جو اسرائیلی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

صہیونی حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات، ایدئولوژیکل وابستگی اور بیرونی خطرات کا خوف، شہریوں کو وقتی طور پر اسرائیل میں روکنے میں کامیاب ہوا ہے۔ تاہم، مسلسل جنگ، ذہنی دباؤ، عدم اعتماد، جبری فوجی خدمات اور معاشی مسائل نے معاشرے کو داخلی انتشار کا شکار بنا دیا ہے۔

اسرائیلی معاشرہ اب ایک ایسے دوراہے پر ہے، جہاں بقا کی جدوجہد اور ترک وطن کے درمیان فیصلہ کرنا انتہائی کٹھن ہو چکا ہے۔ اور شاید اسی کو صہیونی تجربے کا اصل بحران کہا جا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

10 یورپی ممالک کا فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری روکنے کا مطالبہ

?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:10 یورپی ممالک نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس

چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات کی تاریخ نہیں پتا لیکن ایک جماعت تاریخ دے رہی ہے، بلاول بھٹو

?️ 13 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بظاہر

روس نے مشرقی یوکرین میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں: انگلینڈ

?️ 27 اگست 2022سچ خبریں:    برطانوی وزارت دفاع کے دعوے کے مطابق روس نے

ایران کی معیشت پابندیوں کے خلاف استقامت کر رہی ہے: سعودی اخبار

?️ 25 جون 2022سچ خبریں:    سعودی اخبار عرب نیوز نے جمعرات کے روز ایک

امریکہ نے چینی سرکاری بینکوں سے سب سے زیادہ قرض لیا

?️ 19 نومبر 2025امریکہ نے چینی سرکاری بینکوں سے سب سے زیادہ قرض لیا ایک

غیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے والے 50 ہزار پاکستانی بلیک لسٹ کردیئے گئے

?️ 10 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت داخلہ کی جانب سے غیرقانونی طور پر

صیہونی قتل عام قابض حکومت کی عمر کم کردے گا: ہنیہ

?️ 21 اپریل 2022سچ خبریں:  صیہونی حکومت آج جمعرات 21 اپریل کی صبح مسجد الاقصی

آرمینیائی قوم کے قتل عام کو نسل کشی قرار دینے کا معاملہ، ترک صدر نے امریکی صدر پر شدید تنقید کردی

?️ 27 اپریل 2021انقرہ (سچ خبریں) امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے خلافت عثمانیہ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے