?️
اسرائیلی کابینہ مکمل طور پر واشنگٹن کے کنٹرول میں:مصری میڈیا
مصر کے نیوز نیٹ ورک القاہرہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے، اور اب اسرائیلی کابینہ کے بیشتر فیصلے واشنگٹن کی براہِ راست نگرانی اور اثر و رسوخ کے تحت لیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے حالیہ ہفتوں میں تل ابیب کو متعدد سخت انتباہات بھیجے ہیں، جن میں غزہ میں آتشبس کی خلاف ورزی سے باز رہنے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ پیغامات امریکی نائب صدر جے ڈی ونس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام کے دوروں کے دوران اسرائیلی قیادت کو پہنچائے گئے۔
اسرائیلی روزنامے ہاآرتص کے تجزیہ کار یوسی ورتر کے مطابق، ٹرمپ کے اسرائیلی پارلیمان کے حالیہ دورے کے بعد سے تقریباً کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب امریکی عہدیدار اسرائیل میں موجود نہ ہوں۔
ورتر کے مطابق، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکاف اس وقت مستقل طور پر مقبوضہ فلسطین میں مقیم ہیں، جبکہ دیگر امریکی نمائندے باری باری آ کر صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کریات گات کی ایک صہیونی کالونی میں امریکیوں کا ایک خفیہ کمانڈ سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں امریکی اہلکار اسرائیلی وزراء سے ملاقات کرتے ہیں اور بعض مواقع پر احکامات جاری بھی کرتے ہیں۔
اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کے دفاعی تجزیہ کار یوآو لیمور کے مطابق، امریکی حکام کے یہ دورے ظاہری طور پر دوستانہ نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ اسرائیلی اقدامات پر سخت کنٹرول کے لیے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی پیغامات میں واضح تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر اسرائیل نے آتشبس کی خلاف ورزی کی تو واشنگٹن سخت ردعمل دے گا۔
ورتر کے مطابق، جب غزہ میں ایک اسرائیلی فوجی حملے میں ہلاک ہوا تو ٹرمپ نے روایتی اسرائیلی بیانیہ تمام فلسطینی حماس ہیں دہرانے سے گریز کیا اور صرف حملہ آور گروہ کو موردِ الزام ٹھہرایا جو نیتن یاہو کے لیے ایک غیر معمولی جھٹکا تھا۔
سابق اسرائیلی قونصل جنرل آلون بانکس نے قاہرہ ایف ایم ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اسرائیلی سیاست میں براہِ راست مداخلت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا یہ مکمل تابع داری نہیں، لیکن تعلق غیر متوازن ضرور ہے۔ اسرائیل ایک طرح سے امریکہ کی پراکسی حکومت بن چکا ہے۔
تجزیہ کار ناحوم برنیاع نے روزنامہ یدیعوت آحارانوت میں لکھا کہ ٹرمپ کی پالیسی ماضی کی طرح اخلاقی نصیحتوں پر نہیں بلکہ اسرائیل کے لیے واضح حدود مقرر کرنے پر مبنی ہے۔
ان کے مطابق، اسرائیل ہمیشہ سے امریکہ پر سیاسی و عسکری انحصار کرتا رہا ہے، لیکن موجودہ وابستگی زیادہ براہِ راست اور سخت نگرانی کے تحت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی کابینہ کے اندر بھی اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ وزراء ایتامار بن گویر اور بزالل اسموتریچ امریکی ہدایات کو نظر انداز کر رہے ہیں، جبکہ مذہبی جماعت "شاس” کے رہنما آریہ درعی نے نیتن یاہو پر کھلے عام تنقید کی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات حکومتی اتحاد کو کمزور کر رہے ہیں۔
اسی دوران، نیتن یاہو کے قریبی وزراء نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیراعظم کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات میں مداخلت کریں، جسے ماہرین نے عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اپوزیشن کا ہدف وزیر اعظم کو ڈسٹرب اور پریشان کرنا ہے
?️ 9 مارچ 2021لاہور (سچ خبریں) اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپوزیشن بوکھلاہٹ
مارچ
عامر خان کی بیٹی کی عمر کی لڑکی سے شادی کی تیاری
?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:مسٹر پرفیکٹ کہے جانے والے بھارتی اداکار عامر کے بارے میں
مئی
خوراک کے عالمی بحران کی وجہ مغربی ممالک ہیں:روس
?️ 30 جون 2022روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ عالمی
جون
چوکیداروں نے آئین کے مطابق نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا:خواجہ آصٖف
?️ 5 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے
اکتوبر
صیہونیوں کی علاقے میں کشیدگی بڑھانے کی خفیہ حکمت عملی بے نقاب
?️ 14 نومبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی چینل 13 کی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل
نومبر
عراق کی حشد الشعبی کا وفد شہید رہبر کی وداعی تقریب میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گی
?️ 3 جولائی 2026سچ خبریں: عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کا ایک اعلیٰ
جولائی
پی ٹی آئی کا جوڈیشل کمیشن سے مطالبہ
?️ 20 جولائی 2024سچ خبریں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے جوڈیشل کمیشن
جولائی
کیف کی کارروائی یورپ میں انسانی تباہی کا باعث
?️ 18 اگست 2024سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اقوام متحدہ اور
اگست