اسرائیل، غزہ میں کر رہا ہے انسانیت کا خون

اسرائیل، غزہ میں کر رہا ہے انسانیت کا خون

?️

اسرائیل، غزہ میں کر رہا ہے انسانیت کا خون

اکیسویں صدی میں، جہاں دنیا بھر میں انسانی حقوق کے دعوے ہر طرف گونج رہے ہیں، وہیں غزہ میں دو ملین سے زائد انسان فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ بھوک سے بے ہوش ہوتے بچے، نانِ خشک کی بھیک مانگتے بزرگ اور خاک و کنکر چباتے معصوم، آج کا تلخ اور دل دہلا دینے والا منظر نامہ بن چکے ہیں۔

قوامِ متحدہ کی ریلیف ایجنسی اونروا (UNRWA) کے مطابق، شمالی غزہ میں بھوک کی شدت اتنی بڑھ گئی ہے کہ سڑکوں پر روزانہ بچے، خواتین اور بزرگ بھوک سے بے ہوش ہو رہے ہیں۔ لوگ کئی کئی گھنٹے قطاروں میں کھڑے رہنے کے بعد بھی خوراک حاصل نہیں کر پاتے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امداد کی راہ میں رکاوٹیں اور غزہ کی مکمل ناکہ بندی کے باعث، "بھوک” کو اب جان لیوا ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 5 سال سے کم عمر کے 90 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، اور کئی بچے بھوک سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

یونیسف (UNICEF) کا کہنا ہے کہ غزہ اس وقت بچوں کے لیے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ بن چکا ہے۔ بچوں کو نہ غذا میسر ہے، نہ دوا، اور نہ ہی صاف پانی۔ کئی مقامات پر والدین اپنی آنکھوں کے سامنے بچوں کو خاک، ریت اور سبزہ کھاتے دیکھنے پر مجبور ہیں۔

ایک حالیہ تصویر میں ایک پانچ سالہ بچی کو ریت کھاتے دیکھا گیا جس نے دنیا بھر میں دل دہلا دینے والا اثر چھوڑا۔ یہ صرف ایک تصویر نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا لمحہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسپتال خوراک اور ادویات سے خالی ہو چکے ہیں، اور مہاجر کیمپ بیماریوں کا گڑھ بن چکے ہیں۔ بدترین غذائی قلت کے باعث بچوں کی ہڈیاں نمایاں ہو چکی ہیں، اور ماں باپ فریادیں کرتے پھرتے ہیں کہ کوئی ان کے بچوں کو موت کے منہ سے نکالے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ اسرائیل، جو کہ غزہ پر قابض طاقت ہے، اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا۔ وہ خوراک، ایندھن اور دوا کی فراہمی کو روک کر لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔

فرحان نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ امدادی سامان فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، جیسا کہ جنوری میں عارضی جنگ بندی کے دوران کیا گیا تھا، اور اگر دوبارہ جنگ بندی ہو تو فوراً مدد پہنچائی جا سکتی ہے۔

غزہ کی یہ المناک صورتحال صرف فلسطینی عوام کا نہیں، پوری دنیا کے ضمیر کا امتحان ہے۔ ہر وہ ادارہ، ہر وہ حکومت، اور ہر وہ فرد جو انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، آج اسے اپنے دعووں کو غزہ کے بچوں کی فریاد سے تولنا ہوگا۔

مشہور خبریں۔

دنیا کو جنگ اور تشدد کے سامنے خاموش نہیں رہنا چاہیے؛ پاپ کا ایسٹر پیغام

?️ 6 اپریل 2026سچ خبریں:ویٹیکن میں ایسٹر کے موقع پر پاپ لیو چہاردہم نے دنیا

امریکہ کا ایران کے بارے میں اہم بیان

?️ 15 اپریل 2021سچ خبریں:امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اپنی سالانہ رپورٹ میں عالمی خطرات

فلسطینی قوم کا کوئی وجود نہیں:انتہاپسند صیہونی وزیر

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں:صیہونی وزیرِ داخلہ ایتمار بن گویر نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی

نئے فیچرز کے ساتھ ونڈوز 11 متعارف

?️ 27 جون 2021کیلی فورنیا(سچ خبریں) مائیکروسافٹ  کمپنی نے 6 سال کے طویل عرصے بعد

امریکی فوجی اتحاد کامیاب ہے یا مزاحمت؟

?️ 22 دسمبر 2023سچ خبریں:15 اکتوبر کو الاقصی طوفان آپریشن کے آغاز سے ہی چار

California Fires: This Is What Happens When You Breathe In Smoke

?️ 11 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

کیا شام کا ہر شہری الجولانی سے راضی ہے؟

?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں:شام کے علاقے ادلب، جو طویل عرصے سے دہشتگرد تنظیم ہیئت

فرانس سے الجزائر لائی گئی گندم میں مردہ سور دریافت، پوری گندم واپس کردی گئی

?️ 18 جون 2021الجزائر (سچ خبریں) الجزائر کے وزیر زراعت نے اعلان کیا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے