آلاسکا میں ٹرمپ کا یوکرین کی سیاسی وراثت اور مستقبل پر بڑا داؤ

ملاقات

?️

آلاسکا میں ٹرمپ کا یوکرین کی سیاسی وراثت اور مستقبل پر بڑا داؤ

 آئندہ ہفتے امریکی ریاست آلاسکا ایک تاریخی سفارتی ملاقات کی میزبانی کرے گی، جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتین آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب یوکرین میں ساڑھے تین سال سے جاری خونریز جنگ اپنے پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نشست یا تو یوکرین جنگ کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے یا ماسکو کے لیے ایک بڑی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ٹرمپ، جو اپنے دورِ صدارت میں جنگ ختم کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں، اس ملاقات کو اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ پوتین بین الاقوامی تنہائی توڑنے اور سیاسی و اقتصادی فوائد حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملاقات کے لیے آلاسکا کا انتخاب علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وہی خطہ ہے جو روس نے 158 سال قبل امریکہ کو فروخت کیا تھا۔ اب پوتین ایک نئی سودے بازی کے ذریعے یوکرین کو کچھ علاقوں سے دستبردار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سابق امریکی مشیرِ قومی سلامتی جان بولٹن نے اس ملاقات کو پوتین کے لیے ایک بڑی جیت قرار دیا اور خبردار کیا کہ روسی صدر اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بولٹن کے مطابق بہتر ہوتا کہ یہ ملاقات کسی غیر جانبدار مقام، جیسے جنیوا یا ویانا میں ہوتی۔

این بی سی نیوز نے اس ملاقات کو ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کا سب سے بڑا سیاسی داؤ” قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نتیجہ یا تو ایک پائیدار امن معاہدہ ہو سکتا ہے یا روس کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ اور یوکرین کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

اسی دوران یورپی اتحادیوں نے کہا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں کییف کی شمولیت اور رضامندی لازمی ہونی چاہیے۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم نے بھی اس ملاقات میں ٹرمپ کی پوزیشن کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ کسی بھی نامناسب معاہدے کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس ملاقات کو 1986 میں رونالڈ ریگن اور میخائل گورباچف کی تاریخی ملاقات سے تشبیہ دی۔یہ ملاقات بلاشبہ نہ صرف یوکرین جنگ کے مستقبل بلکہ ٹرمپ کی سیاسی وراثت کا بھی تعین کر سکتی ہے

مشہور خبریں۔

رشدی زندہ یا مردہ؛اس کے وکیل کی زبانی

?️ 24 اکتوبر 2022سچ خبریں:آیت شیطانی کے منحرف مصنف سلمان رشدی کے زندہ یا مردہ

وفاقی حکومت کا ای پاسپورٹ کے اجرا کا فیصلہ

?️ 23 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے شہریوں کی سہولت کے لیے

سڈنی حملے میں صیہونی ربّی کی ہلاکت پر ہنگامہ آرائی

?️ 15 دسمبر 2025سچ خبریں:صیہونی جنگی اقدامات اور فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے حامی

فلسطینی مزاحمتی تحریک کی سعودی حکومت پر تنقید

?️ 17 اپریل 2021سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں فلسطینیوں

افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف جارحیت ہے: خواجہ آصف

?️ 11 نومبر 2024سچ خبریں: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بلوچستان کے

عطوان: غزہ کے حکمران اس کے محافظ ہیں/مزاحمت اسرائیل اور عربوں کے جال میں نہیں آئے گی

?️ 13 اگست 2025سچ خبریں: ایک ممتاز فلسطینی تجزیہ نگار نے یہ بیان کرتے ہوئے

پناہ گزینوں کے معاملے پر فرانس اور برطانیہ کے درمیان لفظی جنگ

?️ 13 اکتوبر 2021سچ خبریں:فرانس نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت نے تارکین وطن کو

صیہونی وزارت خزانہ کا جنگی ذخائر کے لیے اضافی فنڈز دینے سے انکار 

?️ 29 جون 2025 سچ خبریں:صیہونی وزارت خزانہ نے 60 ارب شیکل اضافی بجٹ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے