جنوبی لبنان میں اسرائیلی کوششیں کیوں ناکام ہو رہی ہیں؟

جنوبی لبنان میں اسرائیلی کوششیں کیوں ناکام ہو رہی ہیں؟

?️

سچ خبریں:ماہرین کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج اپنی بھاری نفری اور جدید ترین اسلحے کے باوجود جنوبی لبنان میں داخل ہونے کی کوشش میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان کی سرحدی پٹی پر اسرائیلی زمینی حملے کے دوران حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جنگی حکمت عملی کا سخت مقابلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زمینی حملے میں حزب اللہ کی کیوں بالا دستی ہے؟صیہونی تجزیہ کار

ہر مرتبہ جب اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم انہیں حزب اللہ کی سخت مزاحمت اور درست حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے پانچ بڑے محاذ

1. پہلا محاذ : ناقوره سے مروحین تک کے علاقے میں اسرائیلی فوج کی 146 ویں بٹالین نے شیہین اور الجبین دیہات کی جانب پیشقدمی کی کوشش کی، مگر حزب اللہ کی مزاحمت نے انہیں روک دیا۔

2. دوسرا محاذ : رامیا سے رمیس تک کے علاقے میں 36 ویں بٹالین کا آپریشن جاری ہے، جہاں حزب اللہ نے عیتا الشعب اور عیترون میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا ہے۔

3. تیسرا محاذ : بلیدا سے حولا تک کے علاقے میں 91 ویں بٹالین نے صرف سرحد پر کنٹرول برقرار رکھنے پر اکتفا کیا اور مزید پیشقدمی نہیں کی۔

4. چوتھا محاذ : مرکبا سے غجر کے علاقے میں 98 ویں بٹالین نے کفرکلا کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔

5. پانچواں محاذ: غجر سے مزارع شبعا کے علاقے میں 210 ویں بٹالین کی پیشقدمی حزب اللہ نے ناکام بنادی، خاص طور پر کفار شوبا اور شبعا میں۔

حزب اللہ کی مزاحمت اور اسرائیلی نقصانات

حزب اللہ نے حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اس تصادم میں اب تک 95 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 900 زخمی ہو چکے ہیں۔ مزید یہ کہ 42 مرکاوا ٹینک، 4 بلڈوزر، 2 ہامر گاڑیاں، ایک بکتر بند گاڑی اور دو ڈرونز تباہ کیے جا چکے ہیں۔

حزب اللہ کی ویڈیوز میں جنوبی لبنان میں میس الجبل، عیترون، یارین اور الضهیره میں دھماکوں کی جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جو ان جھڑپوں کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

اسرائیلی ناکامی اور حزب اللہ کی دفاعی حکمت عملی

اسٹریٹجک ماہر منیر شحاده کے مطابق، اسرائیل نے جنوبی لبنان پر قبضے کے لیے 70 ہزار سے زائد فوجیوں پر مشتمل پانچ بڑی بٹالینز میدان میں اتاری ہیں جن میں مرکاوا ٹینک، F-16، F-35، اور F-15 شامل ہیں، مگر اسرائیل جنوبی لبنان میں پانچ کلومیٹر کے بفر زون کے قیام میں ناکام رہا ہے۔

ناکارہ اسرائیلی سیاست اور بفر زون کی ناکامی

اسرائیل نے مختلف رہائشی علاقوں کو تباہ کر دیا ہے تاکہ یہ علاقے غیر آباد ہو جائیں، لیکن بفر زون بنانے کی ناکامی کو واضح شکست تصور کیا جا رہا ہے، حزب اللہ کی مزاحمت مسلسل اسرائیلی ٹینکوں اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بناتی ہے۔

شحاده نے بتایا کہ حزب اللہ نے اسرائیلی ٹینکوں کو سرحد کے پیچھے تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیل کو سرحد پر بھاری سازوسامان بھیجنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

جنوبی لبنان کی زمین اور اسرائیلی مشکلات

مشرق وسطی نامی تحقیقاتی مرکز کے سربراہ ہشام جابر کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان کی پیچیدہ زمین اسرائیلی فوج کے لیے اس علاقے میں پیشقدمی مشکل بنا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: گولانی بریگیڈ کے خلاف حزب اللہ کی کارروائیوں کا تجزیہ

الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں جابر نے کہا کہ سرحدی علاقے زیادہ تر پہاڑی ہیں، جس سے حزب اللہ کو دفاعی پوزیشن مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے اور وہ ان بلندیوں سے اسرائیلی فوج کو بآسانی روک سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

جہانگیر ترین اور ان کی ساتھیوں کی حکومت کو وارننگ

?️ 17 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں) تحریک انصاف کے ناراض راہنما جہانگیر ترین پی ٹی آئی

اسلام آباد: کروڑوں روپے کے موبائل فون اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، 2 ملزم گرفتار

?️ 10 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے

ہم نے ابھی تک شام میں اپنی افواج کو نشانہ بنائے جانے کا بدلہ نہیں لیا ہے

?️ 14 مارچ 2022سچ خبریں:  معتبر ذرائع نے بتایا کہ ہم نے ابھی تک شام

انھیں الحشد الشعبی کا سر چاہیے

?️ 15 جون 2021سچ خبریں:ایک عراقی تجزیہ کار نےاس بات پر زور دیتے ہوئے کہ

ہم مغربی پٹی میں نئی حقیقت مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: سرایا القدس

?️ 2 دسمبر 2025سچ خبریں:جہاد اسلامی تحریک کی فوجی شاخ سرایا القدس کے ایک میدانی

نسل کشی کرنے والے استعماری ممالک نے آہستہ آہستہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا شروع کردیا

?️ 29 مئی 2021جرمنی (سچ خبریں) نسل کشی کرنے والے استعماری ممالک نے آہستہ آہستہ

یورپ کے پاس ٹرمپ کے سامنے ڈٹ جانے کے لیے نہ وسائل ہیں نہ ہی ارادہ

?️ 7 جنوری 2026 یورپ کے پاس ٹرمپ کے سامنے ڈٹ جانے کے لیے نہ

اسلامی دنیا میں انڈونیشیا کا کردار

?️ 16 جولائی 2023سچ خبریں: انڈونیشیا کی وزیر خارجہ نے اپنے ترک ہم منصب سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے