امریکی فیصلے کہاں ہوتے ہیں؟ماڈرن ڈپلومیسی کی رپورٹ

امریکی فیصلے کہاں ہوتے ہیں؟ماڈرن ڈپلومیسی

?️

سچ خبریں: ماڈرن ڈپلومیسی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ امریکی عوام میں اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے کے باوجود اس ملک پر لابیوں کا اس قدر اثر و رسوخ ہے کہ یہاں جو بھی اقتدار میں آجائے اسرائیل کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ میں ناکامی کا سامنا ہے۔

ماڈرن ڈپلومیسی ویب سائٹ کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی عوام میں اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے کے باوجود، صہیونی حکومت کی حامی لابیوں کا اثر و رسوخ اور مالی سرمایہ کاری امریکی اقتدار کے مراکز پر گہرے سوالات اٹھا رہی ہے اور واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ میں مسلسل ناکامیوں کا سبب بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی خارجہ پالیسی میں صیہونی لابیوں کا اثر و رسوخ

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کو امریکی فوجی اور سفارتی حمایت نے خطے میں واشنگٹن کی اسٹریٹیجک ناکامی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ماڈرن ڈپلومیسی نے خاص طور پر امریکی کانگریس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خطاب کے دوران امریکی قانون سازوں کی طرف سے کھڑے ہو کر دی جانے والی پذیرائی کا ذکر کیا۔

یہ اس وقت ہے جب امریکی عوام میں اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کے خلاف شدید غصہ بڑھ رہا ہے لیکن اس کے باوجود کانگریس نے اسرائیل کے لیے فوجی امداد کی حمایت میں قانون سازی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی امداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو تقریباً 14 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اور ایوانِ نمائندگان نے اسرائیل کے لیے مزید 26 ارب ڈالر مختص کرنے کے قوانین بھی منظور کیے ہیں۔

مزید برآں، امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت کی جانب سے اسرائیل کو بموں کی فراہمی روکنے کے حوالے سے دی گئی مبہم وارننگ کا بھی ذکر کیا گیا، جس کا الٹا اثر ہوا اور کانگریس نے ایک ایسا قانون منظور کیا جس نے بائیڈن کو اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنے پر مجبور کر دیا۔

ماڈرن ڈپلومیسی نے اسرائیل کے امریکی کانگریس پر اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل کے لیے کانگریس میں دونوں جماعتوں کی جانب سے بے مثال حمایت جاری ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات کی تیاریوں کے دوران، اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف امریکی عوام کا بڑھتا ہوا غصہ قانون سازوں کی دوبارہ کامیابی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

اس کے باوجود، اسرائیل نواز لابیاں، جیسے کہ امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC)، امیدواروں کی مالی مدد فراہم کر رہی ہیں۔

AIPAC نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان کانگریس ممبران کو شکست دینے کے لیے 100 ملین ڈالر خرچ کرے گی جو اسرائیل کے طرز عمل پر تنقید کر رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی جنگی پالیسیوں کی مکمل حمایت نے امریکہ کے لیے سنگین نتائج پیدا کیے ہیں۔

ماڈرن ڈپلومیسی کی ایک حالیہ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل کی جنگی پالیسیوں کی بلا مشروط حمایت نے امریکہ کے لیے سنگین نتائج پیدا کیے ہیں اور اس کی اسٹریٹجک ترجیحات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

رپورٹ میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کی ایشیا محور پالیسی کا ذکر کیا گیا، جس میں امریکہ کی توجہ مشرق وسطیٰ سے ہٹاکر چین سے نمٹنے کے لیے انڈو پیسیفک خطے پر مرکوز کی گئی تھی۔

ان کی جگہ آنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے ابراہیم معاہدے کے ذریعے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل شروع کیا جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔

تاہم، سعودی عرب نے غزہ میں جاری بحران کے باعث اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو معطل کر دیا ہے، ایک سروے کے مطابق، 96 فیصد سعودی عوام کا ماننا ہے کہ عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات ختم کر دینے چاہئیں تاکہ احتجاج ریکارڈ کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ عرب دنیا میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف شدید عوامی غصہ پایا جاتا ہے، اور جب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ جاری ہے، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل مؤخر ہی رہے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کے غزہ پر حملوں نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں اشتعال پیدا کر دیا ہے۔

بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی کوششوں کو مسترد کرنے سے امریکہ کی اسٹریٹجک ترجیحات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کے اخلاقی مقام پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکہ کیوں بغیر چوں چرا کے صیہونیوں کی حمایت کرتا ہے؟

حالانکہ امریکی عوام میں اسرائیل کے خلاف غصہ بڑھتا جا رہا ہے، لیکن اسرائیل نواز لابی کا کانگریس پر اثر و رسوخ خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی فیصلوں کی خودمختاری کو متاثر کر رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

کون سے ممالک نے ایران پر امریکی حملے کی مذمت نہیں کی؟

?️ 23 جون 2025 سچ خبریں:امریکہ کے ایران پر ایٹمی تنصیبات پر حملے کی مذمت

ٹرمپ کے معاون کا سوشل میڈیا پوسٹ پر تنازع

?️ 7 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی نائب صدر جے ڈی ونس نے ہفتے کے روز

ڈنمارک تارکین وطن کے ساتھ سخت ترین رویہ رکھنے والا ملک

?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں:  حالیہ برسوں میں کی سیاسی پناہ کی پالیسی میں تبدیلیاں،

سائفر کیس: عمران خان، شاہ محمود قریشی کا ’اوپن ٹرائل‘ اڈیالہ جیل میں دوبارہ شروع، سماعت پیر تک ملتوی

?️ 2 دسمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ

مأرب میں سعودی اتحاد کے متعدد کمانڈر ہلاک

?️ 28 فروری 2021یمن کے صوبہ مأرب کی آزادی کی لڑائی میں سعودی جارحیت پسند

یمن کی جنگ میں جارحیت پسندوں کی مایوسی

?️ 26 دسمبر 2021سچ خبریں:سعودی زیرقیادت جارح اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے جمعہ کی صبح

نیتن یاہو کا بائیڈن کے بارے میں صیہونی کابینہ کو مشورہ

?️ 30 مارچ 2023سچ خبریں:نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ تل ابیب-واشنگٹن اتحاد

ترکی نے حماس کے ارکان کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے سے روک دیا: صہیونی اخبار

?️ 27 اپریل 2022سچ خبریں:  اسرائیل ہیوم اخبار نے آج بدھ کو اطلاع دی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے