?️
سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کردوں اور عبداللہ اوجالان کے بارے میں اپنی پالیسی میں غیر متوقع تبدیلی کی ہے، جس کا مقصد شام میں کردوں کو قابو میں رکھنا اور اندرونی تنازعات کو کم کرنا ہے۔
ترکی کے ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں پی کے کے (PKK) کے ساتھ مذاکرات اور امن کی باتیں پھر سے گردش کر رہی ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد اس گروہ کو غیر مسلح کرنا اور 1984 سے جاری تنازع کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ترکی شام کی دلدل میں پھنس جائے گا؟
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت مذاکرات کی حکمتِ عملی شام میں بدلتے حالات سے جڑی ہوئی ہے۔
اردوغان نے اپنے سیاسی ساتھی دولت باغچلی کے مشورے پر اوجالان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دو کرد نمائندوں کو جیل ای مرالی بھیجا۔
ان نمائندوں نے اوجالان کے پیغام کو حکومت اور دیگر سیاسی رہنماؤں تک پہنچایا، اوجالان نے کرد قیدیوں کی رہائی کو ابتدائی شرط کے طور پر پیش کیا ہے۔
اردوغان نے ماضی میں کہا تھا کہ ترکی میں کرد مسئلہ نہیں بلکہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے، اور وہ شمالی شام میں کسی کرد ریاست کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیتے ہوئے اس کی تشکیل کی مخالفت کرتے رہے ہیں، تاہم اب وہ کرد علاقوں میں جا کر عوامی مطالبات پر بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اردوغان نے شام میں موجود ہیئت التحریر الشام کی حمایت کے ساتھ کرد ملیشیا کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ان کی اس نئی پالیسی کا مقصد شام میں ترکی کے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اردوغان کی پالیسی میں یہ تضادات مستقبل میں مزید سیاسی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ تبدیلی ماضی کی سخت پالیسیوں کے برخلاف ہے۔
شام میں اثرات
اردوغان نے شام میں موجود ہیئت التحریر الشام کی حمایت کے ساتھ کرد ملیشیا کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ان کی اس نئی پالیسی کا مقصد شام میں ترکی کے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
سیاسی اختلافات
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اردوغان کی پالیسی میں یہ تضادات مستقبل میں مزید سیاسی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ تبدیلی ماضی کی سخت پالیسیوں کے برخلاف ہے۔
اردوغان کی کردوں سے متعلق پالیسی میں تضادات جاری
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی حکومت کردوں کے حوالے سے اپنی متضاد پالیسیوں کے لیے مشہور ہے، حالیہ دنوں میں ترکی فضائیہ اور میت (ترکی انٹیلیجنس) نے شمالی شام میں کرد ملیشیا کے مراکز پر کئی بار ڈرون حملے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملے کیے ہیں۔ علاوہ ازیں، کرد شہر عفرین اب بھی ترکی کی افواج کے قبضے میں ہے۔
کرد نمائندوں کے سیاسی مذاکرات
کرد نمائندے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، تاہم حزبِ خوب (IYI PARTI) کے رہنما درویش مساوات اوغلو نے واضح طور پر ان مذاکرات سے انکار کر دیا ہے اور کرد نمائندوں کو ترکی کے دشمن قرار دیا ہے۔
امریکہ کی پالیسی پر نظر
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ترکی کی کردوں سے متعلق پالیسی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ اقدامات سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ نے اب تک شمالی شام میں کرد ملیشیا کی کھل کر حمایت کی ہے، جس کی وجہ سے ترکی نے مشرقی فرات میں زمینی کارروائی سے گریز کیا ہے۔
ممکنہ منظرنامے
– اگر ٹرمپ شمالی شام سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کا حکم دیتے ہیں، تو ترکی کے لیے کردوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے۔
– اگر شمالی شام کے کوبانی میں امریکی فوجی اڈے کی تعمیر کی خبریں درست ثابت ہوتی ہیں، تو ترکی طویل مذاکرات کے ذریعے کردوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گا۔
مزید پڑھیں: نیا شام؛ امریکہ سے ترکی تک غیر ملکی اداکاروں کے عزائم کا میدان
اردوغان کی حالیہ پالیسی شام اور کردوں سے متعلق مختلف امکانات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جس میں اندرونی سیاست اور بیرونی دباؤ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
کیا ٹرمپ کو گرفتار کیا جائے گا؟
?️ 15 اگست 2023سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کو جارجیا کی ایک
اگست
فلسطینیوں کی آزادی، عزت اور فلاح پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے:پاکستانی وزیر اعظم
?️ 15 اکتوبر 2025فلسطینیوں کی آزادی، عزت اور فلاح پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اولین
اکتوبر
واٹس ایپ میں تصویر فیکٹ چیک کے فیچر کی آزمائش
?️ 12 نومبر 2024سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے تصویروں کو چیک
نومبر
نیتن یاہو اقتدار کی خاطر غزہ کی جنگ ہزار دن تک بھی جاری رہ سکتے ہیں
?️ 8 ستمبر 2025 نیتن یاہو اقتدار کی خاطر غزہ کی جنگ ہزار دن تک
ستمبر
اسد قیصر کا بہت بڑا الزام
?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں: پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے الزام عائد
جولائی
افغانستان میں جنگ ختم ہوگئی، خدشات برقرار ہیں، جلیل عباس جیلانی
?️ 11 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے
اکتوبر
اب ٹرمپ کہاں ہے جو کہتا تھا میں نے غزہ میں جنگ بند کرائی۔ مولانا فضل الرحمان
?️ 30 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان
اکتوبر
کیا امریکہ ایران کے ساتھ اختلافات کو ختم کرے گا ؟
?️ 11 اپریل 2025سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے جمعرات کو
اپریل