?️
سچ خبریں:ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں میڈیا، عدلیہ، جامعات اور غزہ کے حامی تحریکوں کے خلاف اقدامات نے امریکی لبرل اداروں اور جمہوری اقدار کو براہِ راست چیلنج کیا ہے، جس سے آزادیِ اظہار بیان اور ادارہ جاتی خودمختاری کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسرے دورِ صدارت میں میڈیا، عدلیہ، یونیورسٹیوں اور غزہ کی حامی تحریکوں کے خلاف براہِ راست حملوں کے ذریعے لبرل اداروں اور جمہوری اقدار کے ساتھ کھلا تصادم ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں فلسطین کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری
ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت اور خاص طور پر ان کے دوسرے دور میں لبرل اور جمہوری اداروں کے ساتھ ان کی محاذ آرائی محض نعرے بازی تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹھوس سیاسی اور قانونی اقدامات کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مرکزی دھارے کے میڈیا پر مسلسل حملے، عوامی نشریاتی اداروں جیسے نیشنل پبلک ریڈیو (NPR) اور PBS کے بجٹ میں کمی کی کوششیں، نیویارک ٹائمز کے خلاف 15 ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ اور ناقد میڈیا کی سرکاری حمایت محدود کرنے کے لیے ایگزیکٹو احکامات کا اجرا، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ میڈیا اشرافیہ کے ساتھ تصادم ٹرمپ کی داخلی پالیسی کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔
اسی دوران فلسطین کے حامی طلبہ اور سماجی تحریکیں بھی ایک نئی سیاسی کشمکش کا میدان بن گئی ہیں۔
اکتوبر 2023 سے غزہ پر صہیونی حملوں کے آغاز کے بعد سے مختلف ریاستوں میں یونیورسٹی احتجاج پھیل چکے ہیں اور اکتوبر 2023 سے مئی 2024 کے درمیان 1360 سے زائد طلبہ مظاہروں میں سے تقریباً 94 فیصد فلسطین کی حمایت میں تھے۔ یہ پرامن احتجاج سخت کریک ڈاؤن کا نشانہ بنے اور جامعات کو تحقیقاتی بجٹ کی بندش کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ انصاف پسند تحریکوں کے خلاف کارروائیاں بھی اسی آمرانہ اور لبرل مخالف رویے کا حصہ ہیں۔
لبرل اداروں سے تصادم؛ میڈیا سے یونیورسٹی تک
اقتدار میں واپسی کے بعد ٹرمپ نے مرکزی دھارے کے میڈیا کو ایک بار پھر اپنا بنیادی دشمن قرار دیا۔ انہوں نے نہ صرف اخبارات اور بڑے چینلز کو جعلی خبریں قرار دیا بلکہ نیویارک ٹائمز کے خلاف اربوں ڈالر کے مقدمات دائر کر کے ناقد میڈیا کو مالی اور ساکھ کے لحاظ سے دباؤ میں ڈالنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی NPR اور PBS جیسے غیرتجارتی اور آزاد میڈیا اداروں کے بجٹ کو محدود کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ مجموعی طور پر یہ پالیسیاں جمہوریت کے ایک بنیادی ستون یعنی آزاد اور خودمختار میڈیا کو کمزور کرنے کی کوشش سمجھی جاتی ہیں۔
عدلیہ کے ساتھ تصادم بھی اس دور میں نئے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ ٹرمپ نے بارہا عدالتوں اور ججوں پر سیاسی جانبداری کا الزام لگایا اور اپنے خلاف فوجداری و مالی تحقیقات میں عدالتی نظام کی ساکھ کو چیلنج کیا۔ یہ رویہ عوامی اعتماد اور عدلیہ کی ادارہ جاتی خودمختاری کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ تاہم وفاقی عدالتوں کی جانب سے حکومت کے بعض فیصلوں کے خلاف فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ 2025 میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان کشمکش امریکی سیاست کی ایک بڑی فالٹ لائن بن چکی ہے۔
یونیورسٹیاں، جو علمی آزادی اور تحقیق کا مرکز سمجھی جاتی ہیں، اس تصادم میں خاص ہدف بن گئیں۔ 2024 کے موسمِ بہار میں فلسطین کے حق میں طلبہ احتجاج کے عروج کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے یہود دشمنی کے خلاف کارروائی کے نام پر لاکھوں ڈالر کے تحقیقی فنڈز معطل کیے اور عدالتی دباؤ کے باوجود فنڈز کی بحالی کو داخلہ پالیسیوں اور احتجاجی انتظامات میں تبدیلی سے مشروط کیا۔ یہ اقدامات حکومت کی براہِ راست مداخلت کو ظاہر کرتے ہیں اور علمی آزادی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
اس طرح میڈیا، یونیورسٹیوں اور عدلیہ پر بیک وقت دباؤ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ صرف علامتی مخالفت نہیں بلکہ طاقت اور آزاد اداروں کے تعلق کو ازسرِنو متعین کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ادارے حقیقی عوام کی طاقت میں رکاوٹ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اداروں کو کمزور کرنا لبرل جمہوریت کی بنیادوں پر حملہ ہے۔
پولرائزیشن اور اشرافیہ مخالف بیانیہ
ٹرمپ نے اپنے پہلے دور سے ہی امریکی معاشرے کو دو متضاد کیمپوں میں تقسیم کیا اور دوسرے دور میں بھی یہی حکمت عملی جاری رکھی۔ وہ خود کو حقیقی عوام کی آواز اور میڈیا، دانشوروں، ججوں اور حتیٰ کہ اپنی پارٹی کے ناقدین کو کرپٹ اشرافیہ قرار دیتے ہیں۔ یہ دوہرے بیانیے نے ایک ثقافتی جنگ کو جنم دیا جس کی قیادت خود ٹرمپ کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا اس جنگ کا مرکزی ہتھیار رہا ہے۔ ٹرمپ اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست اپنے حامیوں تک پیغامات پہنچاتے ہیں اور ہر مخالف بیانیے کو جعلی خبریں قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے بارہا یونیورسٹیوں کو امریکہ کے دشمنوں کی پناہ گاہ اور احتجاج کرنے والوں کو بلوائی قرار دیا۔
کووڈ بحران کے دوران انہوں نے سائنسی اداروں جیسے CDC کو نشانہ بنایا اور ماہرین کی سفارشات کو مذاق کا موضوع بنایا۔ اب بھی وہ ماہرینِ معاشیات اور سفارت کاروں کو عوامی زندگی سے منقطع قرار دیتے ہیں اور خود کو واحد سچا لیڈر پیش کرتے ہیں۔
6 جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر حملے کے شرکا کا دفاع کرتے ہوئے ٹرمپ نے انہیں سیاسی قیدی قرار دیا اور بالآخر انہیں معاف بھی کر دیا۔ یہ رویہ عدالتی عمل کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے اور اداروں کے خلاف عوام کو ابھارتا ہے۔
ثقافتی جنگ سے فلسطین کے حامیوں کا کریک ڈاؤن
ٹرمپ کی پولرائزیشن صرف میڈیا اور سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ یونیورسٹیوں اور سماجی تحریکوں تک پھیل گئی۔ اکتوبر 2023 کے بعد فلسطین کے حق میں طلبہ احتجاج کو قومی سلامتی کا مسئلہ بنا دیا گیا اور حامیوں کو دہشت گردوں کا مددگار قرار دیا گیا۔
2023 کے موسمِ خزاں سے 2024 کے موسمِ بہار تک 36 سے زائد ریاستوں میں احتجاج پھیلا اور 94 فیصد مظاہرے فلسطین کے حق میں تھے۔ اس کے باوجود 2024 کے موسمِ بہار میں تین ہزار سے زائد طلبہ گرفتار کیے گئے اور یونیورسٹیوں پر سخت دباؤ ڈالا گیا۔
2025 میں ٹرمپ نے مالی دباؤ کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے UCLA کے سیکڑوں ملین ڈالر کے فنڈز معطل کیے اور انہیں طلبہ داخلہ اور احتجاجی پالیسیوں میں تبدیلی سے مشروط کیا۔ اگرچہ ایک وفاقی جج نے اس فیصلے کو من مانی قرار دیتے ہوئے 500 ملین ڈالر کی واپسی کا حکم دیا، مگر یہ واضح ہو گیا کہ حکومت فنڈز کو کنٹرول کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
اسی دوران وزارتِ تعلیم نے شہری حقوق قوانین کے تحت درجنوں یونیورسٹیوں کی تحقیقات شروع کیں اور انہیں یہودی طلبہ کے تحفظ میں ناکامی کی صورت میں فنڈز کی کٹوتی کی دھمکی دی۔ 30 سے زائد ریاستوں میں BDS کے خلاف قوانین نے فلسطین کی حمایت کو عملاً جرم بنا دیا ہے۔
مجموعی طور پر فلسطین کے حق میں تحریکیں اب داخلی ثقافتی جنگ کا حصہ بن چکی ہیں اور حکومت قانونی، مالی اور سکیورٹی ہتھیاروں کے ذریعے ان کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
نتیجہ
ٹرمپ کے دوسرے دور نے واضح کر دیا ہے کہ وہ محض وقتی تبدیلی نہیں چاہتے بلکہ میڈیا، عدلیہ، یونیورسٹیوں اور سماجی تحریکوں پر حملے کے ذریعے لبرل جمہوریت کے بنیادی ستونوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ مالی اور قانونی دباؤ، ناقد میڈیا کے خلاف مقدمات، ججوں کی تذلیل اور فلسطین کی حمایت کی سکیورٹائزیشن ایک ایسے نمونے کی عکاسی کرتے ہیں جس میں شخصی طاقت اداروں سے بالاتر ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیں:فلسطینی حامیوں کو یورپ میں کیسے محدود کیا گیا؟
اگرچہ اس حکمتِ عملی نے ٹرمپ کے سیاسی بیس کو مضبوط کیا ہے، مگر اس کی قیمت عوامی اعتماد، آزادیِ اظہار اور ادارہ جاتی خودمختاری کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کا سیاسی نظام ان ضربات کے بعد خود کو بحال کر سکے گا یا مزید زوال کی طرف بڑھے گا۔


مشہور خبریں۔
امریکی کانگریس کے ہنگامے کی مرکزی شخصیت کو 41 ماہ قید کی سزا
?️ 18 نومبر 2021سچ خبریں: جیکب چانسلے نامی یہ شخص امریکی کانگریس میں ایک نمایاں
نومبر
ترکی میں افراط زر 30 فیصد سے اوپر جانے کے خدشات:روئٹرز
?️ 29 دسمبر 2021سچ خبریں:روئٹرز خبر رساں ادارےکی رپورٹ کے مطابق ترکی کی قومی کرنسی
دسمبر
ٹرمپ اور ممدانی کی ملاقات،تلخی کے بعد بات چیت
?️ 23 نومبر 2025ٹرمپ اور ممدانی کی ملاقات،تلخی کے بعد بات چیت نیویارک کے نوجوان
نومبر
کیا غزہ میں دوبارہ جنگ شروع ہوگی؟
?️ 17 مارچ 2025سچ خبریں: کیا غزہ کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے یا بڑھتے
مارچ
نواز شریف کی عمران خان سے ملاقات محض افواہ، اڈیالہ جیل جانے کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں، اسحقٰ ڈار
?️ 5 جولائی 2025لاہور: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اسحقٰ ڈار نے بھی نواز شریف کی
جولائی
X (Twitter) بھی صیہونی جرائم میں شریک
?️ 12 اکتوبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے خلاف قابضین کے بڑھتے جرائم کے
اکتوبر
جام کمال نے ناراض گروپ پر پارٹی کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
?️ 14 اکتوبر 2021کوئٹہ( سچ خبریں) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ناراض گروپ پر پارٹی
اکتوبر
بلوچستان میں فوج نے کلیئرنس آپریشن شروع کر دئے
?️ 5 فروری 2022راولپنڈی (سچ خبریں)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر
فروری