یمن کی جنگ میں شمولیت اور نیا علاقائی منظرنامہ:عبدالباری عطوان

یمن کی جنگ میں شمولیت

?️

سچ خبریں:فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان کے مطابق یمن کی جنگ میں شمولیت امریکہ اور اسرائیل کے خلاف طاقت کا توازن بدل سکتی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

معروف فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے ایران، امریکہ اور اسرائیل  کے درمیان موجودہ کشیدگی کے تناظر میں یمن کی شمولیت کو ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے ایک دردناک منظرنامہ پیش کیا ہے۔

انہوں نے اپنے اداریے میں لکھا کہ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان کا طویل وقفے کے بعد دوبارہ منظرعام پر آنا اور جنوبی مقبوضہ فلسطین پر بیلسٹک میزائل حملوں کا اعلان کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے خلاف جنگ کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے۔

یمن کی شمولیت کے اہم پہلو

عطوان کے مطابق اس صورتحال کے کئی اہم معنی ہیں۔

اول، یہ کہ ایران اور اس کے اتحادی ایک منظم حکمت عملی کے تحت مختلف محاذوں پر کردار تقسیم کر رہے ہیں اور مرحلہ وار عسکری مداخلت کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

 دوم، یہ کہ جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر ایک طویل علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو حملہ آور قوتوں کو ایک تھکا دینے والی جنگ میں الجھا دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملوں کا محور امریکی فوجی اڈے، اسرائیل کے اندرونی علاقے اور اہم آبی گذرگاہیں جیسے آبنائے ہرمز اور باب المندب ہو سکتے ہیں، جن کی بندش عالمی معیشت کے لیے شدید بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

اسرائیل کا ممکنہ محاصرہ

عطوان کے مطابق یمن کے بحیرہ احمر کے محاذ کو کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو جنوب سے انصاراللہ، شمال سے حزب اللہ اور مشرق سے ایران کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں عراق کی شمولیت بھی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اسرائیل کو ایک ہمہ جہتی دباؤ میں لے آئے گی، جہاں جدید میزائلوں اور ڈرونز کا وسیع استعمال فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صورتحال نیٹو اور یورپی ممالک کے لیے بھی ایک مشکل صورتحال پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ وہ اس جنگ سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کسی ایسے تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہتے جس میں شکست کا خدشہ ہو۔

یمن کی عسکری صلاحیت اور اثرات

تجزیے میں بتایا گیا کہ یمن پہلے ہی غزہ کی حمایت میں جدید میزائل استعمال کر چکا ہے اور اہم اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ اب ایران اور دیگر مزاحمتی محاذوں کی حمایت میں اس کی براہ راست شمولیت جنگ کے نتائج پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

عطوان کے مطابق، یمن کی جغرافیائی حیثیت اور طویل جنگی تجربہ اسے ایک مؤثر طاقت بناتے ہیں، جو نہ صرف امریکی بحری بیڑوں کو چیلنج کر سکتا ہے بلکہ بحیرہ احمر میں نقل و حرکت کو بھی محدود کر سکتا ہے۔

مزید برآں، انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ مستقبل میں عراق کے مسلح گروہ بھی اس تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے اور جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن کی دوبارہ فعال شمولیت ایک اسٹریٹجک تبدیلی ہے جو نہ صرف جنگ کو طول دے سکتی ہے بلکہ اس کے نتائج کو بھی تبدیل کر سکتی ہے، اور حملہ آور قوتوں کے لیے بھاری نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

قابضین کی جیلوں سے غزہ کے بچوں کی خوفناک داستانیں

?️ 1 مارچ 2025سچ خبریں: جمعرات کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں رہا ہونے کے

Travis Scott Is the Latest Person to Ride the Baggy Cargo Pants Wave

?️ 29 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

یمن کے حملے مکہ معاہدے کا پہلا امتحان ہیں: برطانوی اخبار

?️ 9 اگست 2026سچ خبریں:برطانوی اخبار گارجین کے مطابق یمنی مسلح افواج کے سعودی عرب

بھارت خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے، پاکستان کسی صورت پہل نہیں کرے گا، نائب وزیراعظم

?️ 5 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے

عبرانی میڈیا نے نیتن یاہو اور بائیڈن کے درمیان کشیدگی کا انکشاف کیا

?️ 18 مارچ 2023سچ خبریں:Ynet، Yediot Aharonot اخبار کے آن لائن ورژن نے، ایک رپورٹ

حکومت نے بجلی فی یونٹ 7 روپے 50 پیسے تک مزید مہنگی کرنے کی منظوری دے دی

?️ 23 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی کابینہ نے ایک ہفتے کے بعد ہی کے-الیکٹرک

نیتن یاہو کے نئے ایڈونچر پر اسرائیل کو کتنا خرچہ آئے گا؟

?️ 21 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی ٹی وی چینل 12 کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل

انگلینڈ میں 200 پناہ گزین بچے غائب

?️ 26 جنوری 2023سچ خبریں:برطانوی امیگریشن کے وزیر رابرٹ جینرک نے پارلیمنٹ میں ملکی قانون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے