امریکہ ایران پر معاہدہ توڑنے کا الزام کیسے عائد کر رہا ہے؟ حقائق کے برعکس بیانیے کی مکمل حقیقت

امریکہ ایران

?️

سچ خبریں:امریکہ ایران کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے، جبکہ رپورٹ کے مطابق فوجی کارروائیوں، نئی پابندیوں اور یکطرفہ اقدامات کے ذریعے خود واشنگٹن نے اس مفاہمت کو کمزور کیا۔

امریکہ ایران کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے، جبکہ خود اس نے جارحیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، پابندیوں میں اضافہ کرکے اور اپنے وعدوں پر جزوی عمل درآمد کرتے ہوئے اس دستاویز کے انہدام اور بحران کے تسلسل کی راہ ہموار کی ہے۔

امریکہ کے جنگ پسند اور محاذ آرائی کے حامی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کو ایک امتحان قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اس پر قائم نہیں رہا۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور امریکہ نے دوبارہ جارحانہ حملے شروع کر دیے ہیں۔

اس صورتحال نے ایک بار پھر مفاہمتی یادداشت کی شقوں، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور دونوں فریقوں کی ذمہ داریوں پر اختلاف کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

واشنگٹن اس وقت ایران کے اقدامات کو نمایاں کرتے ہوئے اور اپنی حالیہ جارحیت کو پس منظر میں دھکیلتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ مفاہمت کی ناکامی کا ذمہ دار ایران ہے۔

تاہم واقعات کی زمانی ترتیب اور امریکہ کے ابتدائی اقدامات کا جائزہ لیے بغیر اس دعوے کی درستگی کا فیصلہ ممکن نہیں۔

جنگی بیانیہ، جارح کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ایران پر الزام

ایران کے خلاف جارحیت کے نئے مرحلے کو جائز قرار دینے کے لیے امریکی حکومت نے سب سے پہلے مفاہمتی یادداشت کی ناکامی کا ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا اور ایران کو اس کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دیا۔ امریکی صدر نے اس مفاہمت کو ایک ایسی آزمائش قرار دیا جس میں ان کے بقول ایران ناکام رہا۔

وائٹ ہاؤس نے بھی ٹرمپ کے کانگریس کو بھیجے گئے سرکاری خط میں یہی دعویٰ دہرایا اور کہا کہ ایران کی جانب سے مفاہمت کی خلاف ورزی کے جواب میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی گئی ہیں۔ امریکی حکومت اس مؤقف کی بنیاد پر کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید 60 دن تک جنگ جاری رکھنے کا جواز پیدا کرنا چاہتی ہے۔

تاہم خود ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حکومت نے ابتدا ہی سے اس مفاہمت کو جنگ کے خاتمے کے لیے باہمی عہد نہیں بلکہ واشنگٹن کی شرائط مسلط کرنے کا ایک عارضی اور مشروط ذریعہ سمجھا تھا۔

انہوں نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے دن ہی دھمکی دی تھی کہ اگر انہیں اس کی شقیں پسند نہ آئیں یا ایران ان کی خواہش کے مطابق رویہ اختیار نہ کرے تو وہ دوبارہ بمباری شروع کر دیں گے۔

 اس بیان سے واضح تھا کہ امریکی صدر پہلے ہی مفاہمت کی یکطرفہ تشریح اور دوبارہ فوجی جارحیت کا حق اپنے لیے محفوظ سمجھتے تھے۔

یہ بیانیہ امریکہ کے اندر بھی شدید تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔ سینیٹ میں اقلیتی جماعت کے قائد چک شومر نے کہا کہ ٹرمپ کا مبینہ معاہدہ اس کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی بکھر گیا۔

 ان کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی جنگ کے خاتمے کے اعلان، دوبارہ حملوں کے آغاز، بحری نقل و حمل کی بندش اور اخراجات میں اضافے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی دو جماعتی اکثریت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے جنگ ختم کریں اور امریکی افواج کو ایران سے متعلق تنازع سے باہر نکالیں۔

ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شیف نے بھی حملوں کی بحالی اور ایران کے دوبارہ بحری محاصرے کے اعلان کے بعد جنگی اختیارات کے قانون کے تحت نئی قرارداد پیش کی۔

 انہوں نے ٹرمپ حکومت کے اس دعوے کو کہ نیا 60 روزہ مرحلہ شروع ہو گیا ہے، قانونی بنیاد سے محروم قرار دیا اور کہا کہ جنگ بندی کے دوران بھی امریکی افواج فوجی طاقت کا استعمال کرتی رہیں۔

 ان کے مطابق ٹرمپ نے چند ہی دنوں میں امریکہ کو ایک نازک مفاہمت سے نکال کر مزید حملوں، نئے محاصرے اور زیادہ شدید بحران میں دھکیل دیا۔

اس طرح واشنگٹن جسے ایران کی جانب سے مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے، وہ محض سیاسی اختلاف کا بیان نہیں بلکہ جارح کو بے گناہ ثابت کرنے اور جنگ جاری رکھنے کے لیے قانونی و سیاسی جواز پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

 امریکی حکومت ٹرمپ کی دھمکیوں، فوجی دباؤ کے تسلسل اور کانگریس کی مخالفت کو نظر انداز کرکے ایران کے ردعمل کو بحران کا آغاز ثابت کرنا چاہتی ہے تاکہ دوبارہ جارحیت کی ذمہ داری وائٹ ہاؤس پر نہ آئے۔

واقعات کی حذف شدہ ترتیب، پہلے خلاف ورزی کس نے کی؟

وائٹ ہاؤس کا بیانیہ ان واقعات سے شروع ہوتا ہے جو ایران پر الزام لگانے کے لیے زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں، یعنی آبنائے ہرمز کے واقعات۔ جبکہ مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق میں تمام محاذوں، بالخصوص لبنان میں فوری اور مستقل فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور اس ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت پر زور دیا گیا تھا۔

اس واضح عہد کے باوجود صیہونی حکومت نے لبنان پر اپنے جارحانہ حملے جاری رکھے۔ چونکہ مفاہمتی متن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگی سرگرمیوں کو بھی شامل کرتا تھا، اس لیے واشنگٹن اپنے قریبی اتحادی کی مسلسل جارحیت کی ذمہ داری سے دستبردار ہو کر ایران کو اس دستاویز کا پہلا خلاف ورز قرار نہیں دے سکتا۔

بعد ازاں امریکہ نے خود بھی مفاہمت کی فوجی شقوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔ پہلی شق ہر قسم کی فوجی کارروائی، دھمکی یا طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کرتی تھی جبکہ دوسری شق دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کا پابند بناتی تھی۔

اس کے باوجود امریکی فوج نے ایران کے جنوبی اور مشرقی علاقوں اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر حملے کیے، جو ان دونوں شقوں سے متصادم تھے۔

 7 جولائی کو جارحانہ حملوں کی باضابطہ بحالی سے بھی ظاہر ہوا کہ اختلافات کے حل کے طریقہ کار کو فعال کرنے سے پہلے ہی واشنگٹن نے دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کر لیا۔

خلاف ورزیاں صرف فوجی میدان تک محدود نہیں رہیں۔ نویں شق کے مطابق امریکہ نہ نئی پابندیاں عائد کر سکتا تھا اور نہ ہی خطے میں اضافی فوجی قوت تعینات کر سکتا تھا، لیکن اس کے باوجود نئی پابندیاں نافذ کی گئیں۔

دسویں شق کے تحت امریکہ اس بات کا پابند تھا کہ پابندیوں کے خاتمے تک ایران کے تیل کی برآمد، بینکاری خدمات، بیمہ اور نقل و حمل سے متعلق اجازت نامے برقرار رکھے، مگر امریکی محکمہ خزانہ نے یہ اجازت نامہ منسوخ کر دیا۔

گیارہویں شق میں ایران کے منجمد اثاثوں کے قابل استعمال ہونے پر زور دیا گیا تھا، لیکن جون کے اختتام تک قطر میں موجود 6 ارب ڈالر بھی تہران منتقل نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب ایران کے بحری محاصرے کی بحالی بھی چوتھی شق سے متصادم تھی، جس کے مطابق امریکہ فوری طور پر محاصرہ ختم کرنے کا عمل شروع کرنے اور 30 دن کے اندر اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا پابند تھا۔

یہ تمام شقیں الگ الگ یا اختیاری نوعیت کی ذمہ داریاں نہیں تھیں۔ تیرہویں شق کے مطابق حتمی مذاکرات کا آغاز اور تسلسل پہلی، چوتھی، پانچویں، دسویں اور گیارہویں شق پر مسلسل عمل درآمد سے مشروط تھا۔

 اس لیے لبنان پر صیہونی حملوں کا تسلسل، ایران پر امریکی حملے، نئی پابندیاں، تیل کی رعایت کی منسوخی، منجمد اثاثوں کی عدم رہائی اور بحری محاصرے کی بحالی نے ٹرمپ کے ایران سے متعلق الزامات سے پہلے ہی مفاہمت کی عملی بنیادوں کو کمزور کر دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس اس زمانی ترتیب کو نظر انداز کرتے ہوئے تہران کے بعد کے ردعمل کو بحران کا آغاز ظاہر کرتا ہے، جبکہ دستیاب شواہد کے مطابق واشنگٹن نے پہلے اپنی ذمہ داریوں پر جزوی عمل کیا اور بعد ازاں دباؤ اور جارحیت کی پالیسی کے تحت خود مفاہمت کو نقصان پہنچایا۔

آبنائے ہرمز، مفاہمت پر جزوی عمل اور جارحیت جاری رکھنے کا امریکی جواز

آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلاف واشنگٹن کے لیے ایران پر الزام عائد کرنے اور جارحیت کے نئے مرحلے کو جواز فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔

امریکہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت سے متعلق شق کی ایسی تشریح کرتا ہے جیسے ایران ہر قسم کی شرط، ہم آہنگی یا حفاظتی انتظامات کے بغیر واشنگٹن کی مطلوبہ تمام بحری گزرگاہیں کھلی رکھنے کا پابند تھا، حالانکہ مفاہمتی متن میں محفوظ بحری آمدورفت کو راستوں کی تنظیم اور اس آبی گزرگاہ کے تحفظ میں ایران کے کردار سے منسلک کیا گیا تھا۔

واشنگٹن ایک طرف جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ایران کی ذمہ داری پر زور دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف آبنائے ہرمز کے حفاظتی انتظامات میں ایران کے قانونی کردار اور اختیارات کو نظر انداز کرتا ہے۔

 متوازی بحری راستے بنانے، غیر منظور شدہ راستوں سے جہاز گزارنے اور خطے سے باہر کی طاقتوں کو اس آبی گزرگاہ کی سلامتی کے معاملات میں شامل کرنا مفاہمت پر عمل درآمد نہیں بلکہ اسے غیر مؤثر بنانے اور ساحلی ممالک کے کردار کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

امریکی حکام کے بیانات بھی اسی یکطرفہ طرز فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے نائب جے ڈی وینس نے مفاہمت کو ایسی یکطرفہ مساوات بنا کر پیش کیا جس کے مطابق ایران کو واشنگٹن کی تمام شرائط پوری کرنا ہوں گی، جبکہ امریکہ صرف اسی صورت میں محاصرہ ختم کرے گا جب وہ تہران کے رویے سے مطمئن ہوگا۔

ٹرمپ نے بھی مفاہمت کو امتحان قرار دے کر واضح کر دیا کہ امریکی حکومت اسے جنگ کے خاتمے کے لیے باہمی عہد نہیں بلکہ ایران کی پسپائی کو جانچنے کا ایک ذریعہ سمجھتی تھی۔

اسی بنیاد پر موجودہ آبنائے ہرمز بحران کو صرف چند جہازوں کی آمدورفت پر اختلاف کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ نے پہلے اپنی اقتصادی اور فوجی ذمہ داریوں پر جزوی عمل کیا، پھر آبی گزرگاہ کی سلامتی سے متعلق ایران کے حقوق کو نظر انداز کیا اور آخرکار تہران کے ردعمل کو دوبارہ جارحانہ حملوں کے لیے جواز بنا لیا۔

یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مفاہمت کی خلاف ورزی کا الزام حقیقت کی درست عکاسی سے زیادہ ایک سیاسی پردہ ہے، جس کا مقصد جارح کو بے گناہ ثابت کرنا، سفارتی ناکامی کی ذمہ داری منتقل کرنا اور اس جنگ کو جائز قرار دینا ہے جس کی راہ خود ٹرمپ حکومت کی محاذ آرائی کی پالیسی نے ہموار کی۔

مشہور خبریں۔

ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اقوام متحدہ امن کیلئے کردار ادا کرے، پاکستان

?️ 26 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید

پاکستان سے اب تک 8 لاکھ 28 ہزار سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس چلے گئے

?️ 2 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) طورخم بارڈر کے راستے سے گزشتہ روز 5,220

امریکہ شام میں کیا دہشتگردیاں کر رہا ہے؛روس کی زبانی

?️ 22 جون 2023سچ خبریں:روسی صدر کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ ماسکو کے پاس

47 فیصد ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ایک سیٹ اپ تھا

?️ 2 مئی 2026 سچ خبریں: مین ہٹن انسٹی ٹیوٹ کی ایک نئی اور واقعی

مصطفی الکاظمی کا ایک اور راز کھلا

?️ 14 جولائی 2023سچ خبریں:صہیونی میڈیا میں ہر لمحہ عراق میں لاپتہ رہنے والی اسرائیلی-روسی

امریکی اتحاد نے عین الاسد پر ڈرون حملے کی تصدیق کر دی

?️ 8 اپریل 2022سچ خبریں:  داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد نے آج صبح ایک

اردگان اسد سے ملاقات پر کیوں اصرار کرتے ہیں؟

?️ 28 دسمبر 2022سچ خبریں:شام کے صدر بشار الاسد نے ترک صدر رجب طیب اردگان

جماعت اسلامی کا 21 دسمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

?️ 18 دسمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے