?️
سچ خبریں:تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسے واشنگٹن اپنی فتح قرار دیتا ہے، اسے بعض مبصرین تہران کی عسکری اور سفارتی حکمت عملی کی برتری کے اعتراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت نے ایران اور امریکہ کے درمیان طاقت کے توازن میں تبدیلی کو نمایاں کیا۔ رپورٹ کے مطابق فوجی کارروائیوں کے بجائے جغرافیائی اور معاشی دباؤ کے ذرائع نے مذاکرات کی راہ ہموار کی۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً ہر جنگ کے بعد سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ فاتح کون رہا، لیکن اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بھی فریق میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی برتری کو ایک پائیدار سیاسی نظام میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سترہ جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت اسی فرق کو نمایاں کرتی ہے۔ اس ساٹھ روزہ فریم ورک میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو پابندیوں، ایران کے جوہری پروگرام اور وسیع تر سیاسی حل سے متعلق مذاکرات کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
تجزیے کے مطابق اس دستاویز کی اہمیت صرف اس کے مندرجات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے جس نے اسے ممکن بنایا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اپنے اہم جغرافیائی اور تزویراتی ذرائع، خصوصاً آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ، کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو ایسی شرائط قبول کرنے پر آمادہ کیا جن کا جنگ سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ کی فوجی طاقت کی حدود اور ایران کی تزویراتی حکمت عملی کے درمیان فرق کو نمایاں کرتی ہے۔
تجزیے کے مطابق واشنگٹن نے جنگ کا آغاز حکومت کی تبدیلی اور ایران کی جوہری صلاحیت کے مکمل خاتمے جیسے اہداف کے ساتھ کیا، لیکن ایران نے اپنے مضبوط پہلوؤں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صورت حال کو مختلف سمت میں موڑ دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کا ڈھانچہ امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ دستاویز کے نتیجے میں ایران اپنی جوہری تنصیبات کو برقرار رکھنے اور علاقائی معاملات میں اپنا کردار محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دستاویز کی مختلف شقیں، جن میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت، ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کا خاتمہ، پابندیوں میں نرمی اور افزودہ یورینیم کے ذخائر پر مذاکرات شامل ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکہ اپنے ابتدائی سخت مطالبات سے پیچھے ہٹا۔
تجزیے کے مطابق واشنگٹن کے لیے یہ ایک اہم سبق تھا کہ صرف فوجی برتری سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی، اگر جغرافیائی اور تزویراتی حقائق کو درست انداز میں نہ سمجھا جائے۔
رپورٹ میں عراق اور افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں بھی فوجی کامیابیاں دیرپا سیاسی استحکام پیدا نہ کر سکیں۔ اسی طرح ایران کے معاملے میں بھی مزید فوجی کارروائیاں تہران کو اپنے مؤقف سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوئیں بلکہ امریکہ پر بھاری معاشی اور سیاسی اخراجات کا باعث بنیں۔
تجزیے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو بعض مبصرین نئی علاقائی حقیقت کو تسلیم کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں، جس میں ایران کو ایک ایسے علاقائی طاقت کے طور پر دیکھا گیا جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام سمیت دیگر عسکری صلاحیتوں اور آبنائے ہرمز کے تزویراتی دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے طاقت کے توازن کو اپنے حق میں تبدیل کیا اور امریکہ کو اپنے سابقہ مؤقف میں تبدیلی پر مجبور کیا۔
تجزیے کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت صرف ایک عارضی انتظام نہیں بلکہ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران بحری محاصرے میں نرمی، پابندیوں میں کمی اور علاقائی کردار کے اعتراف جیسے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ معاہدے کی ناپائیداری بھی تہران کے لیے دباؤ برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس پیچیدہ جغرافیائی سیاسی مقابلے کا نتیجہ بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں ایران کی تزویراتی برتری کی صورت میں سامنے آیا، کیونکہ اس نے نسبتاً کم لاگت پر اپنے اہم مقاصد حاصل کیے، جبکہ امریکہ ایک طویل اور مہنگی جنگ سے بچنے میں تو کامیاب رہا، لیکن اسے اپنی ابتدائی حکمت عملی اور زیادہ سے زیادہ مطالبات پر نظرثانی کرنا پڑی۔
جامع معاہدہ، امریکہ کے لیے نیا چیلنج
رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کو برقرار رکھنا اب امریکہ کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر معاہدے پر اختلاف پیدا ہوا تو وہ اپنے معاشی اور جغرافیائی دباؤ کے ذرائع کو دوبارہ متحرک کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں مکمل فوجی فتح کا تصور کمزور پڑ رہا ہے اور مستقبل میں وہی ممالک زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے جو فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ معاشی، سفارتی اور جغرافیائی ذرائع کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔


مشہور خبریں۔
جنین آپریشن میں استقامتی تحریک کا انوکھا انداز
?️ 21 جون 2023سچ خبریں:پیر، 19 جون، 2023 کو جنین میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ
جون
فلسطین اور کشمیر کے مسائل کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا:شہباز شریف کا ’’ارنا‘‘ کو خصوصی انٹرویو
?️ 26 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نےحالیہ پاک بھارت جنگ
مئی
یوکرین جنگ جلد ختم ہو جائے گی:ایلان مسک
?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں:سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک اور امریکہ کے منتخب
نومبر
پاکستانی آرمی چیف نے چینی اعلی حکام سے ملاقات کی
?️ 25 جولائی 2025پاکستانی آرمی چیف نے چینی اعلی سے ملاقات پاکستان کے آرمی چیف
جولائی
پنجاب اور وفاق میں چوروں کی حکومت ہے یہ عمران خان کی ملاقات نہیں روک سکتے
?️ 23 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم
نومبر
سعودی عرب کی سرحد کے قریب اسرائیلی اڈا بنانے کی اماراتی کوشش
?️ 7 جنوری 2026 سعودی عرب کی سرحد کے قریب اسرائیلی اڈا بنانے کی اماراتی
جنوری
امریکہ میں درجنوں طلبہ کے ویزے منسوخ ؛ وجہ ؟
?️ 17 اپریل 2025سچ خبریں: سی ٹی انسائیڈر کو معلوم ہوا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اپریل
سعودی عرب آٹھ سال بعد انصار اللہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر کیوں ؟
?️ 10 اپریل 2022سچ خبریں: بحران کے ساتویں سال میں یمن میں جاری جنگ موجودہ
اپریل