ٹرمپ کے دور میں جی 7 اجلاس؛ عالمی بحران کا دھماکہ روکنے کی کوشش یا مغربی اتحاد کا زوال؟

جی 7

?️

سچ خبریں:عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیوں نے جی 7 کو شدید اختلافات سے دوچار کر دیا ہے۔ فرانس میں ہونے والے اجلاس میں یوکرین جنگ، ایران، آبنائے ہرمز اور عالمی معیشت اہم موضوعات ہیں، جبکہ یورپی ممالک ٹرمپ کے ساتھ تصادم سے گریز کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا ماننا ہے کہ دنیا امریکہ کو ایک بڑی مگر غیر متوقع طاقت کے طور پر دیکھتی ہے، جو سودے بازی اور جذباتی فیصلوں کی ذہنیت کے تحت چلائی جا رہی ہے، اور گروپ 7 اس صورتحال سے کم سے کم نقصان کے ساتھ نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل نے گروپ 7 کے اجلاس کے آغاز کے موقع پر ایک رپورٹ میں اجلاس سے قبل بین الاقوامی تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے۔

الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اجلاس کے انعقاد کے تناظر میں کہا ہے کہ ماضی میں گروپ 7 کے اجلاس عالمی سفارتی نظم کو برقرار رکھنے کی کوششوں کی علامت ہوتے تھے، لیکن رواں سال کا اجلاس، جو پیر کے روز شروع ہوا، اس نظم کے انہدام کی علامت بن چکا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی اور ان کے مؤقف کے باعث گروپ 7 انتشار اور اختلافات کا شکار ہے۔

گروپ 7؛ اختلافات پر پردہ ڈالنے کا اجلاس

الجزیرہ کے مطابق یہ اجلاس فرانس کے تفریحی شہر اویان میں شدید کشیدہ ماحول اور تشویشناک بین الاقوامی پیش گوئیوں کے درمیان شروع ہوا، ایک ایسا اجتماع جسے عالمی ذرائع ابلاغ تقریباً متفقہ طور پر عالمی سفارتی نظم کی تشکیل کے بجائے گہرے اختلافات کے اظہار کا میدان قرار دے رہے ہیں۔

اگرچہ گروپ 7 کا اجلاس دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے رہنماؤں اور ان کے اتحادیوں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے، لیکن ایک شخص یعنی ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی طرز عمل اور امریکی پالیسیوں کو اجلاس کے مرکزی محور میں تبدیل کر دیا ہے۔

جی 7 میں کشیدہ مسکراہٹیں

الجزیرہ کی اس رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ نیویارک ٹائمز، پولیٹیکو اور لاکروا جیسے بین الاقوامی اخبارات میں ایک مشترکہ رائے پائی جاتی ہے، جس کے مطابق اویان اجلاس سے وابستہ توقعات غیر معمولی حد تک کم ہو چکی ہیں۔

پولیٹیکو نے وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے لکھا کہ اس اجلاس کا مقصد اب بڑے تزویراتی معاہدوں تک پہنچنا نہیں رہا بلکہ صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ بڑی معیشتیں باہمی تعاون کر سکتی ہیں اور حالات کے دھماکے کو روکا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے دور میں اس سفارت کاری کو نقصان کم کرنے والی سفارت کاری اور ظاہری ہم آہنگی کی تصویر پیش کرنے کی سفارت کاری قرار دیا جا رہا ہے، جس کی تصدیق لاکروا اخبار نے بھی کی ہے۔ اس اخبار کا ماننا ہے کہ جھیل لیماں کے کنارے عالمی رہنماؤں کی خوبصورت تصاویر ان کی کشیدہ مسکراہٹوں کو نہیں چھپا سکیں گی۔

اخبار نے پیش گوئی کی کہ اختتامی اعلامیہ، اگر جاری ہوا بھی، تو جھیل کے پانی کی طرح شفاف نہیں ہوگا۔ نیویارک ٹائمز نے بھی لکھا کہ جو اجلاس کبھی عالمی اتحاد کی علامت تھا، آج اس کے انہدام کی تصویر بن چکا ہے۔

اجلاس میں ٹرمپ کی شرکت کے لیے یورپ کی رعایتیں

الجزیرہ نے لکھا کہ فرانس نے اجلاس کے اوقات میں تبدیلی کی تاکہ ٹرمپ اپنی سالگرہ کی تقریبات میں شریک ہو سکیں۔ اس کے علاوہ پیرس نے ٹرمپ کے لیے ایک خصوصی انعام بھی ترتیب دیا، جس میں بدھ کی شب تاریخی ورسائی محل میں نجی اور پُرتعیش عشائیہ شامل تھا۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون بخوبی جانتے ہیں کہ ٹرمپ شان و شوکت اور طاقت کے مظاہر میں دلچسپی رکھتے ہیں، اسی لیے وہ ورسائی کی عظمت کو ایک سفارتی آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ ٹرمپ اجلاس کے اختتام تک موجود رہیں اور اچانک روانہ نہ ہو جائیں۔

یورپ کی ترجیح؛ ٹرمپ سے ٹکراؤ سے گریز

سوئس اخبار لوتاں نے اس کوشش کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ پیرس، لندن اور برلن کی قیادت میں یورپی سفارت کاری اب ٹرمپ کو اپنے مؤقف پر قائل کرنے کے بجائے ان کے ساتھ تصادم سے بچنے اور خصوصاً یوکرین کے معاملے میں ان کی پالیسیوں کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کریملن کے حق میں کسی تخریبی اقدام کو روکا جا سکے۔

اخبار لیبراسیون نے بھی زور دیا کہ اجلاس کا فنی ایجنڈا نایاب دھاتوں اور مصنوعی ذہانت کے چیلنجز سے ہٹ کر امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف جنگی پالیسیوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات پر مرکوز ہو گیا ہے۔

یورپ کے لیے ٹرمپ کا ایجنڈا

فرانسیسی اخبارات لوفیگارو اور لاکروا کے تجزیوں کے مطابق ٹرمپ تہران کے ساتھ امن معاہدے کے قریب ہونے کے دعوے کے بعد ذرائع ابلاغی جوش و خروش کے ساتھ فرانس پہنچے ہیں اور خود کو عظیم حامیٔ امن کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ان اخبارات کے مطابق ٹرمپ اس جنگ سے تھک چکے ہیں اور ایک غیر مقبول جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اطالوی اخبارات لاریپوبلیکا اور ایل فاتو کوٹیدیانو نے لکھا کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کی ذمہ داری یورپی ممالک کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔

ان اخبارات نے پیش گوئی کی کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر یورپی اتحادیوں، یعنی فرانس، برطانیہ اور اٹلی سے مطالبہ کریں گے کہ وہ تجارتی اور ٹیکنالوجی مراعات کے بدلے خلیج فارس میں بحری آمدورفت کے تحفظ اور بارودی سرنگوں کے خاتمے کے ذریعے اپنے سیاسی اور فوجی اخراجات ادا کریں۔

یوکرین؛ ٹرمپ کی پالیسیوں کا شکار

مشرق وسطیٰ کی مصروفیات کے باعث امریکہ یوکرین کو اپنی ترجیحات میں پیچھے دھکیل چکا ہے، جبکہ یورپ ٹرمپ کی توجہ دوبارہ یوکرین کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اگرچہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اویان میں موجود ہیں اور متوقع طور پر اپنے خیالات براہ راست ٹرمپ کے سامنے پیش کریں گے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ٹرمپ کی سیاسی حقیقت پسندی کی دیوار کا سامنا کرنا پڑے گا۔

گروپ 7 کے خلاف عوامی غصہ

الجزیرہ نے گروپ 7 کے رہنماؤں کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غصے کا بھی ذکر کیا اور لیبراسیون کے حوالے سے لکھا کہ سخت حفاظتی حصار میں تبدیل ہو جانے والے اس علاقے کے باہر عوامی اور عالمگیریت مخالف جذبات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

اخبار لوتاں کے مطابق گروپ 7 مخالف مظاہروں میں تقریباً ساٹھ ہزار افراد نے شرکت کی، جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں آنسو گیس اور پانی پھینکنے والی گاڑیوں کا استعمال بھی کیا گیا۔

یورپ اور ٹرمپ کے درمیان گہری ہوتی خلیج

اخبار نے مزید لکھا کہ صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ٹرمپ کے روایتی اتحادی بھی ان سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں، جن میں اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی بھی شامل ہیں۔

الجزیرہ نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان سفارتی اختلافات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی برطانوی داخلی معاملات میں مداخلت کے بعد یہ اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا ماننا ہے کہ دنیا اب امریکہ کو ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اسے ایک غیر متوقع بڑی طاقت سمجھتی ہے جو انفرادی سودوں اور ذرائع ابلاغی جذباتیت کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔ ایسے حالات میں گروپ 7 کے رہنما کم سے کم سیاسی نقصان کے ساتھ اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گروپ 7 کے سربراہی اجلاس کا آغاز پیر ۱۵ جون ۲۰۲۶ کو فرانس کے مشرقی شہر اویان لے بان میں ہوا اور یہ ۱۷ جون تک جاری رہے گا۔ فرانس ۲۰۲۶ میں گروپ 7 کی گردشی صدارت بھی سنبھال رہا ہے۔

گروپ 7 میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور کینیڈا شامل ہیں، جبکہ یورپی اتحاد مستقل طور پر اس کے اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے۔ بنیادی ارکان کے علاوہ بھارت، برازیل، جنوبی کوریا، کینیا اور یوکرین سمیت متعدد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے بھی بطور مہمان شریک ہوئے ہیں۔

رواں سال اجلاس کے اہم موضوعات میں یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ اور ایران کی صورتحال، توانائی کی سلامتی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، مصنوعی ذہانت کا مستقبل، عالمی اقتصادی ترقی اور ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کا بحران شامل ہیں۔

مشہور خبریں۔

جنین کیمپ پر صیہونی حملے میں چار فلسطینی شہید

?️ 29 ستمبر 2022سچ خبریں:   فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کی عسکری شاخ سرایا القدس

کابینہ میں تبدیلیاں،شوکت ترین وزارت خزانہ مقرر

?️ 16 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) حکومت نے وفاقی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے وزیر

امریکی قومی ایمرجنسی میں مزید ایک سال کی توسیع

?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:امریکی صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا کہ وہ اس ملک میں

مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے تاہم پاکستان کا شمار اب بھی دنیا کے سستے ترین ممالک کی فہرست میں:عمران خان

?️ 7 مارچ 2022(سچ خبریں)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہنگائی ایک عالمی

وزارتِ خزانہ نے بجٹ سازی کے شیڈول کی منظوری دے دی

?️ 28 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں شروع

6 کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگادی گئی ہیں

?️ 3 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) چند ماہ سے دہرے ہندسوں میں رپورٹ ہونے والے

لندن ہوائی اڈے کے سیکورٹی افسران کی ہڑتال کی کال 

?️ 8 جون 2023سچ خبریں:لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر سکیورٹی افسران نے جون کے

نسلہ ٹاور کو رہائشیوں نے خالی کردیا

?️ 1 نومبر 2021کراچی (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے احکامات پر نسلہ ٹاورکو مکینوں نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے