?️
سچ خبریں: گزشتہ شب ٹرمپ کے بیان کے مطابق، امریکہ نے یمن کے خلاف اپنی جارحیت کو جنگ بندی کے معاہدے کے تحت معطل کر دیا ہے، جو غیرمباشر مذاکرات کے ذریعے طے پایا۔ یہ فیصلہ بہت سے حلقوں بشمول صیہونیوں کے لیے حیرت انگیز تھا،
واضح رہے کہ گزشتہ دو ماہ سے امریکی اتحاد کی یمن کے خلاف ناکام اور فرسودہ کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے، واشنگٹن کا پیچھے ہٹنا قابلِ پیشین گوئی تھا۔
یمن میں امریکہ کا دھرا ہوا گڑھا: غلط وہم اور ناکام حکمت عملی
یمن، محورِ مزاحمت کی دوسری جہت ہے جو لبنان کی حزب اللہ کے بعد براہِ راست غزہ کی حمایت میں میدانِ جنگ میں اترا۔ یمنیوں نے صرف عارضی جنگ بندی کے دوران اپنی کارروائیاں معطل کیں، لیکن گزشتہ مارچ میں صیہونی ریاست کے غزہ پر ظالمانہ محاصرے کے بعد، یمن نے اپنا بحری محاصرہ اور صیہونیوں کے خلاف آپریشنز دوبارہ شروع کر دیے۔
یمن کے بحری محاصرے نے صیہونی ریاست کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا، خاص طور پر ایلات بندرگاہ کو عملاً بند کر دیا۔ اس کے علاوہ، یمنی میزائل اور ڈرون حملوں نے صیہونیوں کو ہر ساعت خوفزدہ رکھا، جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ پر مشتمل اتحاد نے صیہونی ریاست کے تحفظ کے لیے یمن کے خلاف نئی جارحیت کا آغاز کیا۔
15 مارچ سے شروع ہونے والی اس مہم میں، امریکہ نے "آپریشن فیرس رائیڈر” کے نام سے یمن کے غیر فوجی علاقوں پر ہزاروں حملے کیے، جس میں سینکڑوں شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ امریکہ اور برطانیہ کے مسلسل حملوں کا مقصد یمن کو غزہ کی حمایت سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا تھا، لیکن یمن نے نہ صرف پیچھے ہٹنے سے انکار کیا بلکہ اسرائیل کے خلاف ہوائی محاصرہ بھی عائد کر دیا۔
یمن کی یکجہتی: عرب دنیا میں ایک منفرد مثال
یمن کے عوام، قیادت، فوج اور حکومت نے غزہ کی حمایت میں ایک واضح اور متحد موقف اختیار کیا ہے۔ یمنیوں نے امریکی اتحاد کے مظالم کے باوجود اپنے اخلاقی، انسانی اور قومی موقف سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ یمنی افواج نے امریکی-صیہونی دشمن کے خلاف بحری اور فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔
بین گوریون پر حملہ: صیہونی وہموں کو چکنا چور کرنے والا حملہ
یمن کی فوج نے تل ابیب کے مرکز میں واقع بین گوریون ایئرپورٹ پر کامیاب حملہ کیا، جو صیہونی ریاست کا سب سے محفوظ سمجھا جانے والا علاقہ ہے۔ یہ حملہ یمن کی فوج کی غزہ کی حمایت میں ایک اور شاندار کامیابی تھی، جس نے صیہونیوں کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا۔
صیہونی ریاست، جو گزشتہ دو سال سے امریکی حمایت کے سہارے غزہ پر وحشیانہ جنگ مسلط کیے ہوئے ہے، بین گوریون ایئرپورٹ پر یمن کے میزائل حملے کے بعد بدترین سلامتی کے بحران کا شکار ہوئی۔ اس کے بعد، امریکہ نے یمن کے غیر فوجی علاقوں بشمول صنعا ایئرپورٹ پر حملے کیے، لیکن یمنی مزاحمت کے سامنے ان کی کوششیں ناکام رہیں۔
یمن کے حیرت انگیز اقدامات جنہوں نے ٹرمپ کو مجبور کیا
عبرانی حلقوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یمن کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان اسرائیل کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ صیہونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کے سامنے تنہا چھوڑ دیا ہے، جنہیں روکنا ناممکن ہے۔
اگرچہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یمنیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکہ کو یمن کی شکست کا یقین ہوتا، تو وہ جنگ بندی پر راضی نہ ہوتا۔ یمن کی تل ابیب پر نئی طاقت نمائی نے صیہونی مفادات کے لیے سنگین خطرے کو واضح کر دیا۔
یمن کے خلاف جنگ میں امریکہ کا نقصان
امریکہ نے یمن کے خلاف جنگ میں 3 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھایا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے پاس صرف دو ہی راستے تھے: یا تو جنگ جاری رکھ کر مزید نقصان برداشت کیا جاتا، یا پیچھے ہٹ کر شکست تسلیم کی جاتی۔ دونوں صورتوں میں امریکہ کی شکست واضح تھی۔
نتنیاہو کی سیاسی موت کا خدشہ
امریکہ-یمن جنگ بندی کے بعد، صیہونی ریاست شدید پریشانی کا شکار ہے۔ یمنی ترجمان محمد عبدالسلام نے واضح کیا کہ جنگ بندی صرف امریکہ کے ساتھ ہے، جبکہ صیہونی جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق، امریکہ نے اسرائیل کو جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں اطلاع تک نہیں دی، جو دونوں ممالک کے درمیان عدم ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے مفادات کی خاطر اسرائیل کو نظرانداز کیا، جو نتنیاہو کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا ہر ملک امریکہ سے پوچھ کر جنگ کرتا ہے؟ ٹرمپ کا دعوی
?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکہ کے سابق صدر اور ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار
ستمبر
تحریک عدم اعتماد رکوانے کے لیے سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں جمع
?️ 2 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سپریم کورٹ میں ’دھمکی آمیز خط‘ کی تحقیقات تک تحریک
اپریل
غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے رقص کی ویڈیو جاری
?️ 9 دسمبر 2023سچ خبریں:ایسے میں جب غزہ میں جنگ اپنے عروج پر ہے اور
دسمبر
’انصاف کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہے‘، شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل سے رہا
?️ 7 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما
جون
فواد چوہدری اور شیر افضل مروت کی زبانی جنگ
?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے شیر افضل مروت کی
جولائی
واٹس ایپ صارفین کو ہیکنگ کا خطرہ
?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں:ٹیلی گرام کے مالک کا کہنا ہے کہ یکرز واٹس ایپ
اکتوبر
89 فیصد والدین بچوں کو مصروف رکھنے کیلئے گیجٹس دیتے ہیں، سروے
?️ 23 فروری 2025سچ خبریں: ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 89 فیصد
فروری
غلطیوں سے سیکھا، آگے بڑھے، ملکی ترقی کیلئے انقلابی اقدامات کررہے ہیں۔ وزیراعظم
?️ 28 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے
اکتوبر