مزاحمتی محاذ کا اتحاد قائم رہا تو بن گورین ائرپورٹ پر کابل ائرپورٹ کا منظر دہرایا جائے گا!:عطوان

کابل

?️

سچ خبریں:عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار نے تل ابیب کو رسوا کرنے میں جہاد اسلامی کی تحریک کی مثالی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہم بن گورین ہوائی اڈے بن گورین ہوائی اڈے پر کابل کے ہوائی اڈے کے مناظر کی تکرار کا مشاہدہ کریں گے۔

عرب دنیا کے مشہور تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی گروہوں کے ہاتھ میں وہ کون سا مضبوط اور فاتح کارڈ ہے جو ابھی تک غزہ کی جنگ میں ظاہر نہیں ہوا؟ جہاد اسلامی کو کمزور کرنے کے لیے دہشت گردی کی جنگ کا کوئی نتیجہ کیوں نہیں نکلے گا اور کیسے اس کے برعکس نتائج برآمد ہوں گے؟،مزاحمت کے راکٹوں نے نیتن یاہو، فوج اور اس کے آہنی گنبد کو کیسے رسوا کیا؟

یاد رہے کہ جہاد اسلامی تحریک کےے میزائل ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اور قدس بریگیڈز کی ملٹری کونسل کے رکن علی حسن ابو غالی کے قتل سمیت جہاد اسلامی کے تین فیلڈ کمانڈروں کے قتل کے دو دن بعد یہ ایسا لگتا ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ تعداد کے لحاظ سے چھوٹی لیکن جرات اور بہادری کے لحاظ سے بہت بڑی اس تحریک کو تباہ کرنے کے مقصد سے موجودہ جنگ لڑ رہی ہے۔ اس نے آغاز کیا ہے،جنگ کے آغاز سے اب تک اس تحریک نے میزائل حملے کیے ہیں اور اس کے جوان شہید ہوئے ہیں لیکن نیتن یاہو کے اس اقدام کے نتائج قابض فوج اور اس کے رہنماؤں کے لیے زلزلے کی طرح ہوں گے،جب تحریک جہاد کے سیاسی شعبے کے انچارج محمد الہندی قاہرہ جاتے ہیں اور وہ بھی مصری حکومت کی سرکاری دعوت پر جو ثالث کا کردار ادا کرتی ہے تو اس امید پر کہ جنگ بندی ہو جائے گی اور میزائل حملے بند ہو جائیں گے، اس سے جو ہم نے پہلے کہا تھا وہ ثابت ہوتا ہے کہ اب تک جہاد تحریک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن اس سے اس حقیقت کی نفی نہیں ہوتی کہ سڈیروٹ ، اسدود اور عسقلان میں صہیونی بستیوں پر اب تک 600 سے زیادہ راکٹ داغے جانا مشترکہ آپریشن روم کے گروپوں کے درمیان کاموں کی تقسیم ہے نیز اس بات کا بھی امکان ہے کہ حماس تحریک نے جہاد تحریک کو رد عمل کے مشن کو سنبھالنے اور اگلے ہفتے ہونے والے بڑے تصادم کے لیے اپنی طاقت محفوظ رکھنے کے لیے سبز روشنی دے دی ہے اگر اس حکومت کی فوج کی حمایت سے آبادکار مقبوضہ بیت المقدس میں پرچم نامی مارچ کرتے ہیں

قابل ذکر ہے کہ میدان جنگ میں جہاد اسلامی کی تحریک کا استحکام اور جنگ بندی کے لیے تین شرائط کے پورے ہونے پر اصرار جن میں غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں کا مکمل خاتمہ، خضر عدنان کی لاش حوالے کرنا، فلیگ مارچ کی منسوخی اور مسجد اقصیٰ پر حملوں کو روکنا شامل ہے جو پہلی کامیابی ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ تحریک اس جنگ کو روکنے اور جنگ بندی کی شقوں کا مسودہ تیار کرنے کے میدان میں فیصلہ ساز ہے،اگر اسرائیلی فوج اس جنگ کے بعد جہاد اسلامی کو کمزور کرنے اور اسے مفلوج کرنے یا اس کی مزاحمتی قوت کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ ایک جھوٹی امید اور سراب ہوگی کیونکہ جہاد اسلامی کی تحریک روز بروز مضبوط ہوتی جارہی ہے اور اس کے میزائل اسلحے سے کہیں زیادہ ہیں، جبکہ کچھ اسرائیلی فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی قوتِ ارادی بھی مثالی اور مضبوط ہے۔

یاد رہے کہ غزہ میں مزاحمتی گروہوں کی طاقت جنگ کو طول دے رہی ہے کیونکہ قابض حکومت غزہ کے آس پاس سے دسیوں ہزار آباد کاروں کے فرار اور اپنے وزراء سمیت لاکھوں دوسرے لوگوں کے پناہ گاہوں میں فرار نیز اس کے فضائی بیڑے کی تقریباً مکمل بندش کے بعد یہ حکومت ان حالات میں زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتی اور جوائنٹ آپریشنز روم میں موجود کمانڈرز اور ان کے نمائندے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں، اس سے بھی بڑھ کر قابض حکومت کے لیے جو چیز سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ جنگ کو طول دینا ہے یقیناً ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے، اس طرح حماس بھی جہاد اسلامی کی جامع مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہوجائے گی نیز اور تمام ثالثوں کے لیے دروازے بند ہو جائیں گے خاص طور پر چونکہ حماس کے میزائل زیادہ درست اور اس کے علاوہ اس کے ڈرون اور نئے ہتھیار نیتن یاہو کو چونکا دیں گے۔

خان یونس شہر میں ایک اپارٹمنٹ پر حملے میں شہید علی حسن غالی اور ان کے ساتھیوں کا قتل عرب ثالثوں بالخصوص مصری حکومت کی توہین ہے جس کا اصل مشن ثالثی کرنا ہے،یہ قابضین کی جانب سے پچھلی ثالثی میں ہےخاص طور پر دہشت گردی کی کاروائیوں کو روکنے کے حوالے سے مصر کے ساتھ خاص طور پر دہشت گردی کی کاروائیوں کو روکنے کے حوالے سے اپنے کئے ہوئے وعدوں کا احترام نہ کرنے کی مزید تاکید ہے، ہم نہیں جانتے کہ آیا یہ معلومات منظر عام پر آئی ہیں یا نہیں کہ جنگ بندی کے لیے نیتن یاہو کی سب سے واضح شرطوں میں سے ایک غزہ میں میزائلوں کی تعمیر کو روکنا ہے لیکن یہ مایوس کن اور مشروط کوشش ناکام ہو جائے گی اور جیسے ہی اس کی تجویز پیش کی جائے گی وہاں سے وسیع پیمانے پر تنازعہ اور آنے والے دنوں میں ہزاروں راکٹ داغے جائیں گے۔ اس جنگ کا جاری رہنا اور اس کا چوتھے روز میں داخل ہونا قابض حکومت کی شکست اور نیتن یاہو کی کابینہ کے لیے ایک زوردار دھچکا ہے جس کے نتائج اور جہتیں آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گی۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو جو بات سمجھنے سے قاصر ہیں وہ یہ ہے کہ میزائلوں کی تیاری اور ترقی نہیں رکے گی اور شاید یہ ٹیکنالوجی مغربی کنارے میں منتقل کر دی جائے گی اس لیے کہ میدانوں اور محاذوں میں تو اتحاد قائم ہو چکا ہے اب ہتھیاروں، میزائلوں اور ڈرونز کے اتحاد کی باری ہے،تنازعات کے ہر دور کے بعد گزرنے والے دنوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل کا خوف اور دہشت بڑھتی جا رہی ہے نیز فلسطینی مزاحمت کے خلاف اس کی مزاحمتی قوت بھی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

مختصر یہ کہ غزہ میں نیتن یاہو کے راکٹوں نے قابض فوج کی تذلیل کی ہے اور آنے والے دنوں میں ہم اس کا شور سنیں گے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو یا نہیں اسلامی تحریک کو مفلوج نہیں کرے گی بلکہ یہ قابض حکومت اور آباد کاروں کو مفلوج کر دے گی نیز ان کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کر دے گی۔ جیسا کہ سیف القدس کی جنگ میں نیتن یاہو جنگ روکنے کے دوڑتے ہوئے بائیڈن کے پاس گئے تھے اسی طرح وہ آنے والے دنوں میں ایک بار پھر وہ میزائل حملوں کو روکنے کے لیے عرب ثالثوں تک پہنچیں گے،آخر میں، عطوان نے لکھا کہ میرے خیال میں بن گورین ہوائی اڈے پر جلد ہی کابل ہوئی اڈے کا منظر دہرایا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

موسلادھار بارش کے بعد دریائے سوات بپھر گیا، 7 مقامات پر 75 سے زائد افراد بہہ گئے، 9 لاشیں برآمد

?️ 27 جون 2025سوات: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات بپھر

نعیم قاسم: اسرائیل کے ساتھ صف بندی کرنا ایسا ہے جیسے جہاز پنکچر ہو جائے اور سب ڈوب جائیں

?️ 6 دسمبر 2025سچ خبریں: لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے تل ابیب

دنیا پاکستان کے خلاف بھارتی دہشتگردی روکنے کے لئے مؤثر کردار ادا کرے: منیراکرم

?️ 7 اکتوبر 2021نیویارک (سچ خبریں) پاکستانی سفیر منیر اکرم نے جنرل اسمبلی اجلاس میں

جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ نے سراج الحق کا استعفیٰ مسترد کر دیا

?️ 17 فروری 2024لاہور: (سچ خبریں) جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ نے سراج الحق کا استعفیٰ مسترد کر

ایران کے خلاف جنگ کے اثرات پر عالمی ذرائع ابلاغ کا ردعمل

?️ 19 جولائی 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگ کے بعد

ناپسندیدہ قرار دیے گئے بھارتی سفارتی حکام لاہور روانہ، واہگہ سے آج بھارت واپسی

?️ 26 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کی جانب سے

ترکی کا شام اور بشار الاسد کے بارے میں تازہ ترین موقف

?️ 16 دسمبر 2024سچ خبریں:ترکی کے وزیر خارجہ نے العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں شام

5 عرب ممالک نے شام کی عرب لیگ میں واپسی کی مخالفت کی

?️ 15 اپریل 2023سچ خبریں:کئی عرب حکام نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ سعودی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے