مزاحمتی تحریک کی نفسیاتی جنگ/صیہونیوں کا سوال: راکٹ کب فائر کیے جائیں گے؟

صیہونیوں

?️

سچ خبریں:سرایا القدس کے تین اہم ترین کمانڈروں کے قتل پر جذباتی ردعمل کا اظہار نہ کرنے والے مزاحمت کے تحمل نے صیہونیوں کو راکٹ داغنے سے بھی زیادہ خوفزدہ کر دیا ہے۔

غزہ میں فلسطینی رہنماوں کے قتل کے بعد صیہونی میڈیا میں یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ فلسطینیوں کا ردعمل کب آئے گا؟ یہ ردعمل کس سطح پر اور کہاں سے ہوگا اور اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا؟ اس سلسلے میں فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کے سیاسی حلقے کے سربراہ محمد الہندی نے المیادین چینل کے ساتھ اپنی گفتگو میں تاکید کی کہ صیہونی حکومت نفسیاتی جنگ کو برداشت نہیں کرتی، مزاحمتی قوتیں میدان میں حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور خود رد عمل کی تاریخ کا تعین کریں گی۔

احماس کے سیاسی دفتر کے رکن زہر جبارین نے اس سلسلے میں تاکید کی کہ غزہ اور مغربی کنارے کے شہداء کا خون صہیونی دشمن کے خلاف جدوجہد میں فلسطینیوں کے اتحاد کو ظاہر کرتا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ آپریشن روم بھی صیہونیوں کے خلاف فلسطینیوں کے اتحاد کی نمائندگی کرتا ہے اور یہی روم غاصبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اگلے اقدامات کا تعین کرتا ہے۔

بعض صہیونی تجزیہ نگاروں نے اپنے ذاتی صفحات پر یہ بھی لکھا ہے کہ ردعمل کے لیے مزاحمت کے نئے انداز نے ہمارے تمام حساب وکتاب غلط ثابت کر دیے،یہ فلسطینی گروہوں کے رویے میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی ہے جو نیتن یاہو کی کابینہ کو نہایت مشکل میں ڈال دے گی کہ کس طرح اس کا مقابلہ کیا جائے مثال کے طور پر صیہونی حکومت کے چینل 13 کے رپورٹر اور ہلر نے اس حوالے سے لکھا کہ ہم 20 گھنٹے سے زائد عرصے سے غزہ میں (مزاحمتی) گروپوں کے ردعمل کا انتظار کر رہے ہیں،یہ پہلی بار ہے کہ تنازعہ اور جنگ کا انتظام اسی طرح صبر اور سکون کے ساتھ کیا جا رہا ہے، اس چینل کے ایک اور رپورٹر ایلون بن ڈیوڈ نے بھی لکھا کہ 4 سال پہلے سے جہاد اسلامی کے متعدد عہدیداروں کے قتل کیے جانے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جب بھی ان کا کوئی لیڈر چلا جاتا ہے تو فوراً ایک مضبوط لیڈر اس کی جگہ لے لیتا ہے،اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ جہاد اسلامی کمزور نہیں ہوتا، صیہونی چینل کان ٹی وی نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ ہم ایک طویل اور انتہائی دباؤ والے انتظار میں ہیں جو ہمارے معاشرے کے لیے پریشانی کا باعث ہے،اس دوران معاریو نے صہیونی فوج کے ایک محتاط جنرل کے حوالے سے پیشین گوئی کی کہ غزہ کی پٹی کے علاوہ شمال سے اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ شروع ہوگی۔

صیہونی اخبار یدیعوت احرونٹ نے صہیونی معاشرے کی مایوسی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل کے سکیورٹی اداروں نے کبھی پیشین گوئی نہیں کی تھی کہ جہاد اسلامی کے ردعمل میں اتنا وقت لگے گا،اس تحریک کے قائدین کے قتل کو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک ہم ایک تھکا دینے والے اور اعصاب شکن انتظار میں ہیں جبکہ پیشین گوئیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جہاد اسلامی جواب دے گی، شاید یہ ردعمل قریب ہو اور شاید نہ دور۔

صیہونی حکومت کے امور کے تجزیہ کار صالح النعامی نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ نیتن یاہو فوجی آپریشن کے جلد خاتمہ کے خواہاں ہیں، وہ اپنے اقدامات کو ایک کامیابی کے طور پر ظاہر کرنے کے لیے مزاحمت کے محدود ردعمل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن انتظار کی مدت میں طوالت سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے غیر معمولی حالات میں اضافہ ہو گا اور مزاحمت کے ذریعے دفاع کے اسرائیل کے دعووں کو نقصان پہنچے گا اور اگر مزاحمت طویل مدتی تصادم کا ارادہ رکھتی ہے تو کیا ہوگا؟

مشہور خبریں۔

حج کے لیے سعودی عرب کی نئی شرط

?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:سعودی وزارت حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ رواں

بین گوریون ہوائی اڈے پر بڑا سیکورٹی بگ؛ اسرائیلی نوجوان آسانی سے حفاظتی دروازوں سے گزر جاتے ہیں

?️ 17 دسمبر 2025سچ خبریں: اسرائیل میں ایک نئے سیکیورٹی اسکینڈل میں، ایک 18 سالہ

ایشوریا رائے اوربیٹی شویتا میں کوئی فرق نہیں: امیتابھ بچن

?️ 17 مارچ 2021ممبئی (سچ خبریں)بھارتی مشہور اور معروف اوراداکاری کے سفرمیں  کئی بڑے ایوارڈ

امریکہ کا یمن میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ، روبیو اور بن زاید کی فون کال کا مقصد

?️ 21 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکہ نے یمن میں جنگ کو دوبارہ بھڑکانے کے لیے متحدہ

190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان و دیگر کیخلاف نیب ریفرنس دائر

?️ 1 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی احتساب بیورو نے 190 ملین پاؤنڈ کیس

امریکی صدارتی انتخابات کے بارے میں بائیڈن کا بیان

?️ 9 نومبر 2024سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک میں ہونے والے انتخابات میں

اسرائیلی ویب سائٹ: مہدی المشاط کی دھمکی کام کر گئی

?️ 3 جون 2025سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے تسلیم کیا کہ یمن کی سپریم پولیٹیکل

اردوغان زیلنسکی اور گوٹیرس سے ملاقات کے لیے یوکرین پنہچے

?️ 18 اگست 2022سچ خبریں:   ترک صدر رجب طیب اردوغان سرکاری دورے کے ایک حصہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے