?️
سچ خبریں:امریکی حکومت کی جانب سے سعودی ولی عہد کو سرکاری طور پر استثنیٰ دینے کے اعلان سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ایک سیاسی نظام اچانک دنیا میں انسانی حقوق کی پاسداری کے تمام دعوؤں کو بھول جاتا ہے۔
ڈیموکریٹس اور جوبائیڈن کے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے پہلے، اس پارٹی کا ایک اہم نعرہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دفاع تھا، چاہے حکومتوں کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کچھ بھی ہوں،بائیڈن اور ہریس کی انتخابی مہم کے دوران، سعودی عرب کے وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سعودی صحافی اور آل سعود خاندان کے ناقد جمال خاشقجی کے قتل نیز حزب اختلاف کے حقوق کی منظم خلاف ورزی کی وجہ سے ڈیموکریٹس کے حملوں کا نشانہ تھے۔
یاد رہے کہ خاشقجی کو آرے سے کاٹنے کے بعد محمد بن سلمان کو محمد آرہ کا لقب دیا گیا تھا ، تاہم بائیڈن کا جولائی میں جدہ کا دورہ اور محمد بن سلمان کے ساتھ ان کا برتاؤ واشنگٹن میں ان کے استثنیٰ کے حصول کو ظاہر کرتا ہے، کبھی استنبول میں سعودی قونصل خانے میں خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے مجرموں کے لیے یقینی سزا کی بات کرنے والے بائیڈن اب سفارتی فریم ورک میں آنے کے بعد اور چین کے ساتھ نیز مشرق وسطیٰ میں روس مقابلے میں امریکہ کے طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اسٹریٹجک تعلقات میں توسیع کی بات کر رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں مشاورتی رائے کے ذریعہ محمد بن سلمان کو قانونی چارہ جوئی سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا، یہ حکم خدیجہ چنگیز کی جانب سے واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں سعودی ولی عہد کے خلاف دائر کی گئی شکایت کے جواب میں جاری کیا گیا۔
یاد رہے کہ محمد بن سلمان کے وکیل مائیکل کیلوگ نے سعودی وزراء کونسل کے سربراہ کے طور پر شہزادے کے نئے عہدے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی عدالتی نظام کے سامنے بن سلمان کے سیاسی استثنیٰ کی درخواست کی، یاد رہے کہ جمال خاشقجی کی منگیتر نے امریکی حکومت اور عدالت کے اس فیصلے کو واشنگٹن میں پیسے کی جیت قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی۔

قابل ذکر ہے کہ یہ فیصلہ جاری کرنا موجودہ امریکی حکومت کے خاشقجی کے قاتلوں کے احتساب اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے معاملے کو ترجیح دینے کے دعوے کے بالکل برعکس ہے،2020 کی انتخابی مہم کے دوران بائیڈن نے اپنے حامیوں سے بارہا اعلان کیا تھا کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل کو برداشت نہیں کریں گے اور ترکی میں سعودی قونصل خانے میں انجام پانے والے اس جرم کے مرکزی مجرموں کو سزا دیں گے۔
تاہم، انتخابات میں ان کی کامیابی اور جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ کی اشاعت کے بعد، جس میں واضح طور پر اس صحافی کے قتل کے مجرم کے طور پر محمد بن سلمان کے کردار کی طرف اشارہ کیا گیا تھا بائیڈن نے کوئی کاروائی نہیں کی، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ ریاض کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے میں امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات کی وجہ سے واشنگٹن نے مجرم کو سزا دینے کے بجائے "تعلق” اور "تعاون” کا انتخاب کیا۔
امریکی حکام نے اس تبدیلی کی وجہ عرب دنیا میں سعودی اثر و رسوخ اور طاقت کو قرار دیا اور صرف ٹائیگر یونٹ جو ملک سے باہر آل سعود کے مخالفین کی شناخت اور ان کو قتل کرنے کا ذمہ دار ہے، پر ویزا پابندیوں کی منظوری پر قناعت کی ،یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس میں ریپبلکنز کے قبضے کے دوران ٹرمپ نے بھی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے پر سعودی عرب کے لیے سخت سزاؤں کی بات کی۔
تاہم، اسی وقت، امریکی حکام نے اس ملک کی سزا کے طور پر ریاض کے ساتھ ہتھیاروں کے سودے کا ذکر نہیں کیا۔ دنیا کی سب سے زیادہ قدامت پسند حکومتوں میں سے ایک کے طور پر، سعودی عرب نے امریکی سیاسی نظام میں سب سے زیادہ وسیع لابنگ اور عوامی رابطوں کا نیٹ ورک بنایا ہے تاکہ امریکی معاشرے اور دنیا کی رائے عامہ کی نظر میں اپنی شبیہ کو بہتر بنایا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق، محمود اچکزئی واحد امیدوار
?️ 13 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب
جنوری
بیواؤں اور یتیم بچوں کیلئے وزیراعلی پنجاب رحمت کارڈ متعارف کرانے کا فیصلہ
?️ 5 مارچ 2026لاہور (سچ خبریں) پاکستان میں پہلی بار وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
مارچ
آسٹریلوی وزیر اعظم کی صیہونی حکومت پر کڑی تنقید
?️ 25 جولائی 2025سچ خبریں: آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیزی نے کہا ہے کہ ہم اسرائیل
جولائی
صحافی اطہر متین کے قتل پر وزیر اعظم کا شدید ردعمل
?️ 18 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافی اطہر متین
فروری
شام کے زرعی سائنسی تحقیقی مرکز پر اسرائیل کا حملہ
?️ 14 دسمبر 2024سچ خبریں: شامی میڈیا نے بتایا ہے کہ مغربی شام کے علاقے
دسمبر
سیف الاسلام قذافی کیسے قتل ہوئے؟
?️ 4 فروری 2026سیف الاسلام قذافی کیسے قتل ہوئے؟ لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی
فروری
بھارت میں ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے کورونا کیسز میں شدید اضافہ، ملک بھر میں کرفیو لگا دیا گیا
?️ 10 اپریل 2021نئی دہلی (سچ خبریں) اگرچہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تیسری
اپریل
پیوٹن کی درخواست پر بشار اسد اور اردوغان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت
?️ 9 اگست 2022سچ خبریں: اسپوٹنک خبر رساں ایجنسی نے ترک میڈیا کے حوالے
اگست