غزہ میں موت کے ہزاروں چہرے ؛ کیلوریز کی گنتی سے لے کر برطانوی اقتدار تک

غزہ

?️

سچ خبریں: غزہ کی حالیہ تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں موت کے ہزاروں چہرے ہیں۔ کوئی امریکی-صیہونی "انسانی امداد” کے مراکز پر براہ راست فائرنگ سے شہید ہوتا ہے، تو کوئی روٹی کے ٹکڑے کی خاطر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
 ایک شخص مچھلی کے ڈبے تک پہنچنے کی کوشش میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے، جبکہ کچھ لوگ صیہونی آگ سے بھاگتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کے پاؤں تلے کچلے جاتے ہیں۔ مگر سب سے بے رحم موت وہ ہے جو کمزور پسلیوں، سڑی ہوئی ہڈیوں اور لاکھوں خالی پیٹوں کی گڑگڑاہٹ سے جنم لیتی ہے۔
صیہونی ریاست "بھوک” کو ایک قوم کی عزم توڑنے کا ہتھیار بنا رہی ہے۔ بیجوں سے لے کر ماہی گیر کشتیوں تک، جو سمندر میں ہی نشانہ بن جاتی ہیں، اور روٹی کی دکانوں تک، جو فوجی اہداف بنا دی جاتی ہیں۔ بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کوئی نیا طریقہ نہیں، بلکہ یہ استعماری تاریخ کا ایک تسلسل ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق، نوآبادیاتی نظام کا بنیادی مقصد آب و غذا، بیج اور مٹی جیسی بنیادی ضروریات پر کنٹرول حاصل کرنا رہا ہے۔
دنیا کے دسترخوان رنگین ہیں، مگر غزہ کی زمین پر صرف بھوک اور آسمان سے صرف آگ برس رہی ہے۔ غزہ کے بچے، جو سب سے زیادہ کمزور ہیں، بھوک کی اس پالیسی کے اولین شکار ہیں۔ غزہ کے لوگ صبر و استقامت میں نہیں، بلکہ مسلسل موت اور بھوک کی سطح میں ایک جیسے ہیں۔
غزہ میں کیلوریز کی گنتی
غزہ میں بھوک کی تاریخ طویل ہے۔ 2007 سے یہ 365 کلومیٹر کی پٹی صیہونی محاصرے میں ہے۔ جنگ سے پہلے کے لیک ہونے والے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت نے غزہ میں داخل ہونے والی کیلوریز کی مقدار کا حساب لگایا تھا، تاکہ فلسطینی صرف زندہ رہ سکیں۔
یہ حساب کتاب ہمیں نوآبادیاتی تاریخ کی یاد دلاتا ہے، جب کیریبین کے گنے کے کھیتوں میں غلاموں کو زندہ رکھنے کے لیے کم از کم خوراک دی جاتی تھی۔ آج یہی نسل پرستانہ فارمولا جدید انسان دوست بہانوں کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صیہونی ریاست صرف خوراک کی ترسیل کو کیوں نہیں روکتی، بلکہ کھیتوں، فوڈ فیکٹریوں، بیکریوں اور یہاں تک کہ زیتون کے درختوں کو بھی کیوں تباہ کرتی ہے؟ جواب واضح ہے: یہ تباہی صرف موجودہ پیداوار کو ختم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ مستقبل میں خود کفالت کی صلاحیت کو بھی ختم کرنے کے لیے ہے۔
فلسطین میں برطانوی اقتدار کی میراث
فلسطین کی غذائی تاریخ میں نوآبادیاتی تسلسل صاف نظر آتا ہے۔ برطانوی مینڈیٹ (1920-1948) نے نہ صرف زمین کی ملکیت کے قوانین تبدیل کیے، بلکہ روایتی فلسطینی زراعت کو مرکزی کنٹرول میں لے لیا۔ مثلاً، "جانوروں کی بیماریوں کا قانون” جو صیہونی ریاست نے 1962 میں اپنایا، دراصل برطانوی مینڈیٹ کا ہی تسلسل ہے۔
یہ قوانین محض کاغذی کارروائیاں نہیں تھے، بلکہ فلسطینیوں اور ان کی زمین کے تعلق کو توڑنے کے ہتھیار تھے۔ اجازت ناموں کی پابندیاں، مویشیوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول، اور مخصوص فصلیں اگانے کی اجازت—یہ سب فلسطینی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے تھے۔
آج، صیہونی ریاست فلسطینی خوراک کے ہر حصے پر کنٹرول رکھتی ہے: بیجوں سے لے کر آبپاشی، ٹرانسپورٹ سے لے کر مارکیٹنگ تک۔ فلسطینی مصنوعات کو "عوامی صحت” کے بہانوں پر مارکیٹ میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار نوآبادیاتی تاریخ کا حصہ ہے، جب مقامی لوگوں کو "آلودگی” کا ذریعہ قرار دے کر انہیں معاشی طور پر کمزور کیا جاتا تھا۔
دنیا کی تاریخ سے قحط کا سبق
غزہ میں بھوک کو "جنگی ہتھیار” کے طور پر استعمال کرنا تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ آئرلینڈ کا آلوں کا قحط (1845-1852) اس کی واضح مثال ہے، جب برطانیہ نے آئرلینڈ سے خوراک کی برآمد جاری رکھی، جبکہ دس لاکھ آئرش بھوک سے مر گئے۔
ہندوستان میں برطانوی راج کے دوران 20 سے زائد قحط آئے، جن میں 1943 کا بنگال کا قحط سب سے بڑا تھا۔ اس وقت بھی برطانیہ ہندوستان سے غلہ برآمد کر رہا تھا، جبکہ وزیراعظم چرچیل نے ہندوستانیوں کی مدد سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ قحط ہندوستانیوں کی اپنی غلطی ہے، وہ خرگوشوں کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں۔
مایک ڈیوس کی کتاب "لیٹ وکٹورین ہولوکاسٹ” میں بتایا گیا ہے کہ یہ قحط قدرتی نہیں، بلکہ نوآبادیاتی پالیسیوں کا نتیجہ تھے۔ جب ہندوستان کا غلہ انگلینڈ برآمد کیا جا رہا تھا، لاکھوں ہندوستانی گوداموں کے باہر بھوک سے مر رہے تھے۔
نوآبادیاتی نظام کا خونین تسلسل
نوآبادیاتی طاقتوں نے نہ صرف وسائل کو لوٹا، بلکہ مقامی معاشروں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ مثال کے طور پر، افریقی غلاموں کو لے جا کر کیریبین میں چینی کے کھیتوں پر کام کرایا گیا، جس سے یورپیوں کی چائے میٹھی ہوئی۔
آلفریڈ کروسبی کی "ماحولیاتی سامراجیت” کی تھیوری بتاتی ہے کہ یورپی نوآبادیات نے نہ صرف زمینیں فتح کیں، بلکہ ماحول اور ثقافت کو بھی بدل ڈالا۔ یورپی بیجوں، مویشیوں اور یہاں تک کہ گھاس نے مقابی نظاموں کو تہس نہس کر دیا۔

مشہور خبریں۔

پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج کا حتمی فیصلہ کل متوقع ہے، فواد چوہدری

?️ 20 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے

’بونیر کی بیٹی‘: پہلی ہندو امیدوار ڈاکٹر سویرا پرکاش کے بلند عزائم

?️ 17 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) ڈاکٹر سویرا پرکاش ضلع بونیر سے صوبائی اسمبلی کی

صہیونی فوجیوں میں خودکشی کی وجوہات

?️ 14 جون 2023سچ خبریں: صیہونی کنیسٹ ریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق صہیونی فوج میں

مقبوضہ فلسطین کے آسمان پر ہدہد ڈرون پرواز کرتے ہوئے

?️ 21 جون 2024سچ خبریں: مقبوضہ فلسطین اور اسی دوران اسرائیلی فوج کے کمانڈروں کی

اسد طور کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

?️ 8 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اداروں کے

نیٹو کی دھمکیوں نے روس کو یوکرین پر حملہ کرنے پر اکسایا: چین

?️ 30 مئی 2022سچ خبریں:ایک چینی سفارت کار نے کہا کہ بیجنگ کے نقطہ نظر

”یو اے پی اے“کا بے دریغ استعمال جمہوریت کی بنیادوں کو تباہ کر رہا ہے، رپورٹ

?️ 3 اپریل 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت نہ صرف انفرادی آزادیوں کو دبا رہا ہے

سعودی حکام کی اپنے ہی شہریوں پر ظلم کی انتہا

?️ 16 مارچ 2021سچ خبریں:سعودی حکومت نے قطیف شہر میں ایک علاقے کو مکمل طور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے