?️
سچ خبریں: عراقی شیعہ تحریک کے رہنماوں میں سے ایک مقتدی صدر حالیہ برسوں میں متضاد رویے کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے اس ملک میں بعض اوقات سیاسی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔
مقتدیٰ الصدر اور ان سے وابستہ تحریک کا شمار عراق کی گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ بااثر سیاسی تحریکوں میں ہوتا ہے،الصدر کے خاندانی پس منظر اور شخصیت نے انہیں صدام کے زوال کے بعد کے سالوں میں عراق کے اہم دھاروں میں سے ایک بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقتدیٰ الصدر اپنے متعلقہ دھڑے کے ارکان سے استعفیٰ دینے ک کہا
اگرچہ مقتدی الصدر کی عراق کے دیگر شیعہ گروہوں اور جماعتوں کے ساتھ بہت سی چیزیں مشترک ہیں، جیسے کہ امریکی فوج کے قبضے کی مخالفت اور مسئلہ فلسطین کا دفاع، لیکن عراق کی داخلی سیاست اور اس کے پڑوسیوں بالخصوص ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں بعض اہل تشیع اور مزاحمتی تحریک کے ساتھ ان کا اختلاف رہا ہے۔
پارلیمنٹ اور مزاحمتی گروپوں کی تحلیل پر تنازعات کا آغاز
عراقی پارلیمانی انتخابات کے بعد، صدر کے دیگر عراقی گروہوں کے ساتھ حکمت عملی اور حتیٰ کہ تزویراتی اختلافات کے باوجود، صدر تحریک پر مشتمل سائرون تحریک اور عراقی کمیونسٹ پارٹی، پارلیمانی انتخابات میں اپنی نسبتاً برتری کے باوجود، حکومت بنانے اور صدر کا انتخاب کرنے میں ناکام ہو گئیں،ایک ایسا مسئلہ جو فوری طور پر عراقی پارلیمنٹ میں ان کے اتحادی نمائندوں کے اجتماعی استعفیٰ کا باعث بنا۔
عراقی خبر رساں ایجنسی نے اس بارے میں لکھا کہ عراق میں صدر تحریک کے سربراہ مقتدی الصدر نے نجف اشرف میں صدر دھڑے کے ارکان سے ملاقات کے دوران کہا کہ آپ کو سلام اور ایک دوسرے کو الوداع کہنے اور اتحاد اور ملکی سالمیت کے سلسلہ میں آپ کے موقف پر شکریہ ادا کرنے سے پہلے میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں، میں نے سیاسی عمل سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی حالت میں دنیا یا آخرت میں بدعنوانوں کے ساتھ نہ رہوں، انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کرپشن کے ہوتے ہوئے انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا، یہ میرا خدا اور آپ لوگوں کے ساتھ وعدہ ہے۔
اس ملک کی پارلیمنٹ میں عراق کے صدر دھڑے کے نمائندوں نے اپنے لیڈر کی درخواست پر اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا، عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے عراقی صدر تحریک کے نمائندوں کی اس درخواست سے فوری طور پر اتفاق کا اعلان کیا۔صدر تحریک کی دستبرداری کے بعد، اس تحریک کے رہنما نے بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں کی کال دی اور اپنے پیروکاروں کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے اور پارلیمنٹ کی عمارت پر قبضہ کرنے کی ترغیب دلائی نیز کار پھر سے انتخابات کا مطالبہ کیا، صدر تحریک کے حامیوں نے احتجاج کیا تھا اور عراق کی وفاقی سپریم کورٹ سے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی درخواست کی منظوری کا مطالبہ کیا ،اس واقعے کے بعد عراق کا دارالحکومت بدامنی کی لپیٹ میں آگیا، جس کے دوران 30 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوگئے، اس صورتحال کے جواب میں ان کے مخالفین یعنی شیعوں کی ہم آہنگی تحریک نے اپنے وفاداروں کو بغداد کے گرین زون میں بھیج دیا جو صدر کی تحریک سے کہیں زیادہ تھے۔
عراق کے سیاسی حالات سے الصدر کی دستبرداری کی وجوہات
مقتدی الصدر نے ہمیشہ عراقی سیاسی میدان میں ایک اہم اور بااثر کھلاڑی بننے کی کوشش کی ہے، کابینہ میں اور جو حکومتیں بنی ہیں ان میں انہوں نے اپوزیشن کے طور پر اندر اور باہر ایک بہاؤ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اس وجہ سے جو بھی حکومتیں بنی ہیں ان میں ان کا خاصا اثر و رسوخ اور طاقت رہی ہے،الصدر یا ان کے حامیوں نے اصلاح کے معیاری علمبردار اور حکومت مخالف کمیونٹیز کے حامی بننے کی کوشش کی ہے۔
پچھلے سال، عراق نے دو محاذوں پر تصادم کا مشاہدہ کیا، ایک سید مقتدا الصدر اور دوسرا کوآرڈینیشن فریم ورک، دیگر شیعہ جماعتیں ان کے ساتھ تھیں، جب سید مقتدی الصدر نے پارلیمنٹ کی 329 نشستوں میں سے 73 نشستیں حاصل کیں تو انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر الحلبوسی کی سربراہی میں ڈیموکریٹک پارٹی اور سنی جماعتوں کی شکل میں کردوں کے ساتھ اتحاد کرنے کا سوچا۔ خمیس الخنجر بھی اس میں شامل ہو گئے تاکہ یہ تینوں فریق مل کر حکومت بنا سکیں، ایک موقع پر انہوں نے محمد حلبوسی کو پارلیمنٹ کا صدر منتخب کر لیا لیکن اس کے بعد وہ صدر کے انتخاب کے لیے ضروری تعداد حاصل نہ کر سکے۔
دوسری طرف شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک نے الصدر کے ساتھ ایک متفقہ روڈ میپ تک پہنچنے اور ماضی کی طرح حکومت بنانے کی کوشش کی اور شیعہ متحدہ محاذ کے ساتھ اتحاد کیا، اس فریم ورک نے کردوں اور سنیوں سے بھی مشاورت کی تاکہ وہ حکومت بنا سکیں، لیکن سید مقتدا الصدر نے اصرار کیا کہ وہ نوری مالکی کے ساتھ حکومت نہیں بنائیں گے۔ ایک ایسا مسئلہ جس کی وجہ سے صدر تحریک کے 73 ممبران پارلیمنٹ نے ان کے حکم پر پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیا اور ان کی جگہ دیگر ممبران پارلیمنٹ نے لے لی۔
آخر میں، انہوں نے وزیراعظم کے طور پر شیاع السوڈانی کوآرڈینیشن فریم ورک متعارف کرایا جو الحشد الشعبی کے حامیوں میں سے ہیں اور اس تنظیم کے رہنماؤں کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں، لیکن اپنی سیاسی پالیسیوں میں، صدر نے مسلح افواج سے آزاد ہونے والے وزیر اعظم کو ملک کے مفاد میں سمجھا۔
اس ملک کے سیاسی عمل میں صدر کی واپسی کا امکان
الصدر کے گزشتہ سال عراقی سیاسی عمل سے دستبرداری کے باوجود عراقی سیاسی میدان میں ان کی واپسی کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں، سید مقتدی الصدر عراق کے سیاسی میدان میں مرکزی کردار بننا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ عراق میں شیعہ محاذ کے سیاسی رہنما بننا چاہتے ہین تاکہ وہ اس محاذ کو سنبھال سکیں اور اس میدان کی قیادت ان کے پاس ہو۔
ایک آزاد عراقی سیاست دان سعد المطلبی نے مقتدیٰ الصدر کی عراق کے سیاسی میدان میں واپسی کے بارے میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ واپسی یا تو مقتدی الصدر کی قیادت میں صدر تحریک کی واپسی کے ذریعے ہو گی یا علیحدگی کے ذریعے،الصدر عراق کے سیاسی میدان میں واپس آئیں گے یا نہیں اس کا انحصار مقتدی الصدر کے نقطہ نظر پر ہے۔
مزید پڑھیں: صیہونیوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے: مقتدی الصدر
ان کے بیانات کے مطابق وہ واپسی سے انکاری ہیں لیکن مستقبل کے واقعات انہیں اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا سبب بن سکتے ہیں ،بہرحال، مقتدی الصدر ، عراق کی شیعہ تحریک کے رہنماوں میں سے ایک کے طور پر، حالیہ برسوں میں متضاد رویے کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، اور یہ طرز عمل بعض اوقات اس ملک میں سیاسی رکاوٹوں اور عوام کی نافرمانی کا سبب بنتا ہے۔


مشہور خبریں۔
مغربی کنارے میں ایک فلسطینی نوجوان کی شہادت
?️ 23 اگست 2022سچ خبریں: آج صبح منگل کو نابلس کے پرانے علاقے میں
اگست
ٹرمپ اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے درمیان جھڑپ
?️ 4 جولائی 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر امریکہ، نے جروم پاؤل، چیئرمین فیڈرل
جولائی
غزہ میں جسم کے اعضا کٹے ہونے بچوں کی شرح کتنی ہے؟ اقوام متحدہ کا انکشاف
?️ 4 دسمبر 2024سچ خبریں:اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جسم کے اعضا کٹے ہونے
دسمبر
بگرام بیس کے حوالے سے ہیبت اللہ اخوندزادہ کی سینئر طالبان رہنماؤں سے اہم ملاقات
?️ 26 ستمبر 2025سچ خبریں: افغان ذرائع نے المیادین کو بتایا ہے کہ طالبان کے رہبر
ستمبر
عالمی برادری اسرائیلی تشدد بند کرانے کیلئے اقدامات کرے: وزیر خارجہ
?️ 11 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے
مئی
عراق میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ
?️ 29 اپریل 2021سچ خبریں:عراقی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایک ڈرون نے عراق
اپریل
اربیل میں موساد کے ٹھکانوں پر میزائل حملے
?️ 13 مارچ 2022سچ خبریں: عراقی خبر رساں ذرائع نے آج صبح 1 بج کر
مارچ
افغانستان سے انخلاء میں واشنگٹن کا نقصان ؟
?️ 16 اگست 2023سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ مائیکل میک
اگست