داخلی بحران سے نکلنے کے لیے صیہونیوں کا نیا حربہ

صیہونی

?️

سچ خبریں: صیہونی وزیر جنگ نے سکیورٹی کانفرنس میں ایران مخالف الزامات کو دہراتے ہوئے قابضین کے اندرونی تنازعات پر پردہ ڈالنے اور تل ابیب میں ہونے والے احتجاج کو پرسکون کرنے کی کوشش کی،تاہم بار بار دہرائے جانے والا یہ حربہ اس بار بھی ناکام رہا اور نیتن یاہو کی بحران زدہ کابینہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

11 ستمبر پیر صیہونی حکومت کے حکام نے داخلی بحرانوں پر پردہ ڈالنے کی اپنی نئی کوشش میں ایک بار پھر ایران کو دھمکیاں دینے اور تہران پر الزامات کا سلسلہ جاری رکھا،قابض حکومت کے ذرائع ابلاغ نے بھی I24 کی طرح بحران زدہ تل ابیب کابینہ کے وزیر جنگYoav Gallant کے دعوے کو دوبارہ شائع کیا، جس میں جنوبی لبنان میں ایران کی طرف سے تعمیر کردہ ہوائی اڈے کو اسرائیل کے خلاف کارروائی قرار دیا اور لکھا کہ گیلنٹ نے اس ہوائی اڈے کی فضائی تصویر نشر کی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو ایک خطرناک اندرونی بحران کا سامنا ہے:صیہونی حکومت کے سربراہ

روئٹرز خبر رساں ایجنسی نے بھی ایک رپورٹ میں لکھا کہ گیلنٹ نے ریخ مین یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس ہوائی اڈے کی فضائی تصاویر دکھائیں اور اسے ایران کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کے اہداف کے حامل ہوائی اڈے کے طور پر پیش کیا، تاہم مزید وضاحت نہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سائٹ درمیانے درجے کے جنگجی طیاروں کو ایڈجسٹ کر سکتی ہے۔

کھوئے ہوئے کنٹرول کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ناکام ہرزہ سرائی
بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ کے سکیورٹی وزراء میں سے ایک کی حیثیت سے گیلنٹ ایسے وقت میں ایران کی جانب سے اسرائیل کی سرحد پر ایک اور خطرناک محاذ بنانے کی کوشش کے بارے میں بات کرتے ہیں جبکہ قابض حکومت بدترین ملکی صورتحال سے دوچار ہے جسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ تل ابیب کی کابینہ کے عہدیداروں کو تہران کے خلاف الزامات کو دہرانے کے علاوہ اپنے اندرونی تنازعات سے فرار کا کوئی بہتر راستہ نہیں ملا۔

یاد رہے کہ مقبوضہ فلسطین میں 12 ستمبر کی صبح مقبوضہ بیت المقدس، تل ابیب کے متعدد علاقوں میں اجتماعات اور مظاہرے دیکھنے کو ملے جبکہ سپریم کورٹ میں عدالتی تبدیلیوں کے مخالفین کی جانب سے دی جانے والے نظرثانی کی درخواست کی سماعت سے قبل عدالت کی عمارت کے سامنے 47 ہزار آباد کاروں نے مظاہرہ کیا۔

واضح رہے کہ اندرونی بحران سے نکلنے کے لیے نیتن یاہو کی تمام تر کوششوں کے باوجود ماہرین تعلیم اور حکومت کے سینئر اقتصادی حکام نے عدالتی تبدیلیوں کے منصوبے کے حوالے سے کابینہ سے حمایت کی درخواست پر منفی ردعمل دیا ہے۔

عبرانی اخبار "Yediot Aharonot” نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو کو بھی اندرونی معاہدے کے منصوبے اور حزب اختلاف کے ساتھ بات چیت کے نتائج پر یقین نہیں ہے!

یاد رہے کہ نیتن یاہو کی گزشتہ دنوں سے کی گئی کوششیں اور اندرونی مذاکرات شروع کرنے اور اپوزیشن کے ساتھ اتفاق کے لیے تیار ہونے کا دعویٰ بھی ناکام رہا اس لیے کہ اس اتحاد کے رہنما Yair Lapid اور Benny Gantz نے اعلان کیا کہ نیتن یاہو کی کابینہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہونے والا، حزب اختلاف کے اتحاد کے رہنما Lapid نے نیتن یاہو کے اندرونی معاہدے کے دعوے کو ایک نئی چال قرار دیا اور گورنمنٹ بیس پارٹی کے دوسرے اپوزیشن لیڈر گینٹز نے اس بات پر زور دیا کہ ان بیانات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے جس کے بعد تل ابیب میں حالات کو پرسکون کرنے کے لیے نیتن یاہو کی آخری کوشش بھی ناکام ہوئی۔

Gallant اور اندر سے تباہ ہونے کا اعتراف
گیلنٹ نے ایک بار پھر ایسے حالات میں ایران مخالف الزامات کی طرف رجوع کیا ہے جہاں مظاہروں کے آغاز سے لے کر اب تک اس نے نیتن یاہو کے اسرائیل اور اس کی فوج کے وجود کو پہنچنے والے شدید نقصان کے بارے میں بات کی ہے،صہیونی وزیر جنگ نے پیر کو اعتراف کیا کہ نیتن یاہو کے عدالتی اصلاحات کے متنازعہ منصوبے نے اس حکومت کی فوج اور سکیورٹی اداروں کو ناقابل برداشت نقصان پہنچایا ہے! گیلنٹ نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر عدالتی اصلاحات کے منصوبے پر عمل درآمد روک دیں، جس کی وجہ سے ان کے اور نیتن یاہو کے درمیان اختلاف ہوا اور بالآخر انہیں مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑا، اُس وقت انہوں نے کہا تھا کہ دراڑیں گہری ہوتی جارہی ہیں، فوج اور سکیورٹی اداروں تک پہنچ رہی ہیں جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک واضح، فوری اور حقیقی خطرہ ہے۔

ایک ایسی ناکامی جس کی تلافی ایران کے خلاف الزامات سے نہیں ہو سکتی
نیتن یاہو اپنے خلاف مظاہروں کو پرسکون کرنے میں ناکام رہے،مسلسل 36 ویں ہفتے ان کے خلاف آباد کاروں کی مخالفت، متنازعہ منصوبہ اور ان کے انتہا پسند وزراء تل ابیب کے کپلان اسکوائر اور مقبوضہ علاقوں میں کئی دیگر مقامات پر آئے،عدالتی اجلاس کے انعقاد اور مقبوضہ بیت المقدس میں حزب اختلاف کے اجتماع سے تل ابیب کے داخلی تنازعات کے ختم ہونے کی تمام امیدیں ختم ہوگئیں۔سڑکوں پر آنے کے بعد صیہونی حکومت کی کابینہ کا برا حال واضح ہے،اس ہفتے کے اتوار کو صہیونی چینل کان نے مقبوضہ علاقوں میں کرائے گئے تازہ ترین سروے کے نتائج شائع کیے اور اعلان کیا کہ 75% آباد کاروں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ کی کارکردگی خراب ہے، 35% ایتمار بن گوئر کو کابینہ کے سب سے مایوس کن وزیر مانتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کو خطرناک حالات کا سامنا

کان نے نیتن یاہو کی کابینہ کے وزراء سے عوامی اطمینان کے بارے میں لکھا کہ 19% نے گیلنٹ کو وزیر جنگ کے طور پر منتخب کیا،نیتن یاہو کی کابینہ کے دیگر وزراء کے بارے میں اطمینان کچھ یوں ہے کہ 7% وزیر انصاف باریو لیون، 6% وزیر داخلہ بن گوئر، وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ، صرف 2% جبکہ 55% اسرائیلی کسی بھی وزیر سے مطمئن نہیں ہیں! کان سروے سے قبل صیہونی حکومت کے چینل 12 نے جمعہ یکم ستمبر کو مقبوضہ علاقوں میں اسی طرح کے سروے کے نتائج کا اعلان کیا تھا کہ Itmar Ben Gower اور Yoav Galant نیتن یاہو کی کابینہ کے بدترین وزیر ہیں اور بہت سے آباد کار ایلی کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

یورپ میں توانائی کا بحران لوگوں کی خوراک تک پہنچ گیا ہے:بلومبرگ

?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:توانائی کے بحران نے انگلینڈ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں

زیادہ تر امریکی ٹرمپ اور بائیڈن کو نہیں چاہتے

?️ 26 اپریل 2022سچ خبریں:   نئے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 58 فیصد امریکی

بھارت جیلوں میں قید کشمیری حریت رہنماؤں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں

?️ 26 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں) ایک طرف جہاں بھارت میں کورونا وائرس کی شدید

امریکہ اقوام متحدہ سے اپنا پیدا کیا ہوا بحران حل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے: بھارتی نامہ نگار

?️ 6 مئی 2026سچ خبریں:ہندوستان کے اخبار ہندو کی نامہ نگار نے کہا کہ واشنگٹن

ایپسٹین کیس نے مغرب کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا:روس

?️ 9 فروری 2026سچ خبریں:روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ جفری ایپسٹین

شامی عبوری حکومت دمشق میں اسرائیلی رابطہ دفتر کے قیام پر آمادہ:عرب میڈیا

?️ 7 جنوری 2026 شامی عبوری حکومت دمشق میں اسرائیلی رابطہ دفتر کے قیام پر

شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور

?️ 5 جولائی 2022لاہور:(سچ خبریں)لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی

افغانستان سے پاکستان میں جاری حملے کسی سے مخفی نہیں۔ طاہر اشرفی

?️ 12 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے