?️
سچ خبریں: جرمن انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (GIZ) 1961 سے پاکستان میں سرگرم عمل ہے اور قابل تجدید توانائی، پیشہ ورانہ تربیت، پناہ گزینوں کی مدد، اور اچھی حکمرانی جیسے شعبوں میں منصوبوں کے ذریعے ملک کی ترجیحی ترقیاتی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔
یہ سرگرمیاں جرمنی کی وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (BMZ) کے مالی تعاون سے چلائی جاتی ہیں، جو پاکستان کو جنوبی ایشیا میں جرمنی کا ایک اہم شراکت دار بناتی ہیں۔ تاہم، یہ منصوبے نہ صرف ترقیاتی مقاصد بلکہ جرمنی کے استراتژک مفادات جیسے نرم طاقت کا فروغ، چین کے ساتھ مقابلہ، اور یورپ کو غیر قانونی نقل مکانی کے کنٹرول کو بھی آگے بڑھاتے ہیں۔
GIZ نے 1961 میں پاکستان میں کام شروع کیا اور 1990 میں اسلام آباد میں اپنا ملکی دفتر قائم کیا۔ یہ تعاون 1957 سے جرمنی اور پاکستان کے درمیان ترقیاتی شراکت داری پر مبنی ہے، جس کا مرکز پائیدار اقتصادی ترقی، توانائی، اچھی حکمرانی اور پناہ گزینوں کی مدد جیسے شعبے ہیں۔ GIZ تقریباً 380 مقامی اور 45 بین الاقوامی ملازمین کے ساتھ BMZ، یورپی یونین اور دیگر اداروں کے لیے منصوبے چلاتی ہے۔ یہ سرگرمیاں پاکستان کی قومی ترقیاتی حکمت عملی اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، جس میں موسمیاتی تبدیلی، بے روزگاری، اور 1.4 ملین افغان پناہ گزینوں کی میزبانی جیسے چیلنجز شامل ہیں۔ GIZ کے پاکستان میں چند اہم منصوبے درج ذیل ہیں:
قابل تجدید توانائی کی بچت کو فروغ
GIZ پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور پائیدار توانائی کی منصفانہ منتقلی کو فروغ دے رہی ہے۔ اس میں موسمیاتی مالیاتی مشاورت، پیرس معاہدے پر عمل درآمد، اور زیرو کاربن تعمیرات کی ترویج شامل ہے۔ GIZ پاکستان-جرمنی ری نیوایبل انرجی فورم جیسے پلیٹ فارمز بھی چلاتی ہے۔
پیشہ ورانہ تربیت اور پائیدار روزگار
GIZ سرکاری پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کے ساتھ مل کر معیارِ تربیت بہتر بناتی ہے اور پروگراموں کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالتی ہے۔ یہ منصوبہ خواتین کو خصوصی طور پر مردوں کے روایتی شعبوں جیسے آٹوموٹو انڈسٹری اور دستکاری میں داخل ہونے کی ترغیب دیتا ہے، جس سے خواتین اور پسماندہ گروہوں میں بے روزگاری کم ہوئی ہے۔
افغان پناہ گزینوں اور میزبان کمیونٹیز کی مدد
GIZ افغان پناہ گزینوں اور میزبان کمیونٹیز کو نفسیاتی و سماجی مدد جیسی خدمات فراہم کرتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت خواتین اور نوجوانوں کے لیے محفوظ جگہیں بنائی گئی ہیں اور مقامی ماہرین کو نفسیاتی ضروریات کے لیے تربیت دی گئی ہے۔
جرمن شہریوں کے ٹیکس پیسے پاکستان میں کیوں خرچ ہوتے ہیں؟
ظاہری طور پر، GIZ کے منصوبے پاکستان کے معاشی، موسمیاتی اور سماجی بحرانوں پر انسان دوست ردعمل ہیں، لیکن ان کی پشت پر جرمنی کے استراتژک مفادات کارفرما ہیں۔ جرمنی جیسی عالمی طاقتیں "ترقیاتی امداد” کو اپنی سیاسی اور جیوپولیٹیکل پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
1. یورپی سلامتی: پاکستان میں روزگار اور استحکام سے غیر قانونی نقل مکانی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
2. چین کے مقابلے میں: GIZ کے توانائی اور تربیتی منصوبے چینی ماڈل (CPEC) کے متبادل کے طور پر کام کرتے ہیں۔
3. مغربی اقدار کی ترویج: پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ "صنفی مساوات” اور "اچھی حکمرانی” جیسے تصورات مغربی اثر و رسوخ بڑھاتے ہیں۔
4. معاشی مفادات: GIZ کے منصوبے جرمن کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہونے میں مدد دیتے ہیں۔
5. جرمنی کی تاریخی شبیہہ کی بحالی: مسلم ممالک میں ترقیاتی سرگرمیاں جرمنی کو ایک امن پسند قوت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
6. جیوپولیٹیکل اہمیت: پاکستان کا ایران، افغانستان اور خلیجی ممالک کے قریب ہونا اسے جرمنی کے لیے اہم بناتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
مغرب ڈالر کے ناجائز استعمال سے اپنے حریفوں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے:روسی وزیر خارجہ
?️ 2 ستمبر 2025مغرب ڈالر کے ناجائز استعمال سے اپنے حریفوں کو دبانے کی کوشش
ستمبر
شاہ رخ خان کے بیٹے کو 20 سال سزا ہونے کا امکان
?️ 7 اکتوبر 2021ممبئی (سچ خبریں)منشیات کیس میں گرفتار بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان
اکتوبر
پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر سے منسلک بیانیے کیساتھ دنیا سے مخاطب ہے۔ حنا ربانی کھر
?️ 9 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا
جون
اگر اسرائیل حزب اللہ جنگ ہوتی ہے تو کیا ہوگا؟
?️ 15 اگست 2023سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے اس بات
اگست
لبنانی شہداء کی تعداد 2846
?️ 10 مئی 2026سچ خبریں:لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ 2026 سے اسرائیلی
مئی
لبنان ایک بڑی سازش سے بے نقاب: جارج جورج قرداحی
?️ 1 دسمبر 2021سچ خبریں: لبنانی وزیر برائے میڈیا جارج قرداحی نے سعودی عرب کی
دسمبر
سعودی عرب میں بتوں کی تعلیم، سعودی ولیعہد نے بھارت کی محبت میں ملک کا تعلیمی نصاب تبدیل کردیا
?️ 29 اپریل 2021ریاض (سچ خبریں) ایک طرف جہاں بھارت میں اسلام کے خلاف دشمنی
اپریل
وفاقی وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف پروگرام کے خدوخال مئی میں طے ہونے کی امید
?️ 19 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امید ظاہر
اپریل