افغانستان میں امریکی منصوبے کا انکشاف

افغانستان

?️

سچ خبریں:اگر ہم افغانستان میں امریکی آپریشن کی تفصیلات دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ امریکہ کی کامیابی حاصل کرنے اور اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کی کوشش کے ناکام ہونے کے بعد اس نےطالبان کے ساتھ مذاکرات کیے۔
امریکہ نے افغانستان کیوں چھوڑا؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو عالم اسلام کے مسائل کے بہت سے ماہرین یہاں تک کہ عام لوگوں کے کے ذہنوں پر چھایا ہواہے، اس سوال کا جواب اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ جنگ بندی کےمعاہدے کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے اورمعاہدے کے مواد کے برعکس ، قندھار ، ہلمند، قندوز ، جوزجان وغیرہ میں اس گروپ کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے فضائی طاقت کا استعمال کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے صرف طالبان کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئےجبکہ ان میں 52 امریکی طیاروں نے افغانستان کی فضا میں پرواز کی اور دیہی اور شہری علاقوں پربم گرائے، ان علاقوں میں طالبان اور غیر طالبان ہلاک اور زخمی ہو ئےنیز سفیان نامی ایک بڑا ہسپتال اور ہلمند میں محمد انور خان نامی ایک اسکول بھی امریکی بمباری میں تباہ ہوا۔

یادرہے کہ بائیڈن ، جنرل میکنزی وغیرہ کے اشرف غنی سے کیے گئے وعدوں کے مطابق یہ منصوبہ تھا کہ امریکی فضائی حملے جاری رہیں گے لہذا اس صورت حال میں ہمیں اس بات کا مناسب تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کا افغانستان میں کیا پروگرام ہے اور اسے کس طرح نافذ کیا جانا ہے تاکہ ہم اس کے مظلوم اور بے گھر لوگوں کے لیے فعال مثبت کردار ادا کر سکیں۔

سوال یہ ہے کہ واقعی امریکہ افغانستان چھوڑنے پر کیوں راضی ہوا ہے؟ کیا امریکہ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اگر کابل حکومت کو تنہا چھوڑ دیا جائے گاتو یہ ملک مزید تباہ ہوجائے گا اور طالبان دوبارہ افغانستان پر قبضہ کر لیں گے، کیا یہ درست ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ طالبان اور امریکہ کا خفیہ اتحاد ہے؟جبکہ تمام شواہد اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اشرف غنی کی حکومت مغرب نواز حکومت تھی اور یہ یقینی طور پر افغانستان کے کسی بھی دوسرے گروپ کے مقابلے میں ہزاروں گنا بہتر اور واشنگٹن کے لیے زیادہ مفید تھی نیز امریکیوں کے لیےاپنے دوست کو کھونے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔

اگر ہم افغانستان میں امریکی آپریشن کی تفصیلات دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ امریکہ نے کامیابی حاصل کرنے اور اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کی اپنی کوشش کے ناکام ہونے کے بعداسے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوا۔

قابل ذکر ہے کہ تقریبا 3000 ہلاکتوں اور 21000 زخمیوں نیز جنگ کی 2 ٹریلین ڈالر کی لاگت کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے امریکہ فتح کے امکان کے بغیر آسانی سے چھوڑ سکے ،تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی رائے عامہ کے بھاری دباؤ کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے،ایک سروے کے مطابق 77 فیصد امریکی افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے متفق ہیں۔

 

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کے نئے فریب کے بارے میں فلسطینی مزاحمت کی تنبیہ

?️ 26 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کی بحالی اور قیدیوں کے

’ہتھیار ڈالنا کوئی آپشن نہیں‘، نگران وزیراعظم کا دہشت گردوں کےخلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم

?️ 23 اگست 2023کراچی: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ

پاکستان نے معاشی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کی نئی مثال قائم کی ہے: وزیراعظم

?️ 18 اکتوبر 2025 جہانیاں: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے

بائیڈن کو مہنگائی کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ وہ امیر ہیں: امریکی سینیٹر

?️ 14 جون 2022سچ خبریں:   ریپبلکن پارٹی کے ایک سینئر قانون ساز نے پیر کی

پاکستانی وزیر اعظم: علاقائی امن کے لیے تہران کی سفارت کاری قابل تعریف ہے

?️ 26 مئی 2025سچ خبریں: پاکستانی وزیر اعظم نے پیچیدہ علاقائی اور عالمی مسائل میں

بٹگرام میں ریسکیو آپریشن کرنے والوں کے اعزاز میں تقریب، نگران وزیراعظم نے اسناد تقسیم کیں

?️ 25 اگست 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بٹگرام

ایران اور افغانستان بھائی چارے کے خلاف مغربی میڈیا کی نفسیاتی جنگ

?️ 12 اگست 2022سچ خبریں:مغربی میڈیا نے ایران اور افغانستان کے شہریوں کے درمیان تناؤ

یوکرین جنگ سے واپس آنے والے غیر ملکی کیا کہتے ہیں؟

?️ 31 مئی 2022سچ خبریںیوکرین میں روس کے خلاف لڑنے کے لیے جانے والے امریکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے