?️
سچ خبریں: ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی 40 روزہ جنگ نے علاقائی ممالک بشمول آرمینیا میں وسیع ردعمل پیدا کیا۔
آرمینیا کے ٹیلی ویژن نیٹ ورک چینل 5 کی نامہ نگار ٹیسوینار برخورداریان جو تہران کا سفر کر چکی ہیں، نےایک انٹرویو میں آرمینیا کی عوامی رائے اور میڈیا کے اس جنگ کے بارے میں نقطۂ نظر، اس کے اثرات اور مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔
آرمینی عوام ایران کے لیے فکرمند تھے
برخورداریان نے اس سوال کے جواب میں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو آرمینیا میں کیسے دیکھا گیا اور اس ملک کے عوام کس نوعیت کے اثرات سے خائف تھے، کہا کہ آرمینی عوام نے جنگ کے دوران ایران کے لیے شدید تشویش کا اظہار کیا اور ایرانی عوام پر جو گزری، اس پر انہیں دکھ اور رنج تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب جب مذاکرات کا راستہ کھل گیا ہے اور جھڑپیں رک گئی ہیں، آرمینی عوام اس صورتحال سے مطمئن اور خوش ہیں اور امید کرتے ہیں کہ امریکہ ایران کے خلاف کوئی وسیع تر جنگ شروع نہ کرے۔
اس آرمینی نامہ نگار نے زور دے کر کہا کہ آرمینی عوام ایران جیسے طاقتور پڑوسی کو اپنے لیے یقین دہانی کا باعث سمجھتے ہیں اور اسی لیے وہ ایرانی واقعات کو گہری حساسیت کے ساتھ فالو کرتے ہیں۔
جنگ کے قفقاز تک پھیلنے کا خدشہ
انہوں نے جنگ کے دوران قفقاز کے علاقے میں پائی جانے والی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شدید خدشات تھے کہ تنازع جنوبی قفقاز تک بھی پھیل سکتا ہے۔
برخورداریان نے مزید کہا کہ جنگ کے معاشی اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہے بلکہ علاقائی ممالک نے بھی اس کے اثرات محسوس کیے۔ معاشی پہلوؤں کے علاوہ جنگ کے پھیلاؤ کے سیکورٹی اور فوجی اثرات کے حوالے سے بھی خدشات موجود تھے۔
آرمینی میڈیا نے جنگ کو کیسے کور کیا؟
آرمینیا کے ٹیلی ویژن چینل 5 کی اس نامہ نگار نے اپنے ملک کے میڈیا میں جنگ کی کوریج کے بارے میں بتایا کہ جنگ کے پہلے دنوں سے ہی چینل 5 آرمینیا نے ایران اور جنگ سے متعلق خبروں کو مسلسل کور کیا اور شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب یہ موضوع ان کے نیوز سیشنز اور تجزیاتی پروگراموں میں شامل نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینل 5 پر اس جنگ کی خبروں کو امریہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے عنوان سے کور کیا گیا اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے متعدد ماہرانہ پروگرامز منعقد کیے گئے۔
برخورداریان نے ایران کی خبروں تک رسائی کے حوالے سے آرمینی میڈیا کو درپیش بعض مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے ایام میں ایک اہم مسئلہ ایران کے اندر سے براہ راست بیانیے تک رسائی کی دشواری تھی۔ خاص طور پر جب انٹرنیٹ پابندیاں عائد تھیں، غیر ملکی میڈیا کے لیے ایران کی سرکاری خبریں اور بیانیے جلد حاصل کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
انہوں نے تاکید کی کہ اگر ایران اور آرمینیا کے میڈیا کے درمیان مزید تعاون ہو اور پہلی دستیاب خبریں میسر آئیں، تو میڈیا کوریج کا معیار بھی بہتر ہو گا۔
ایرانی بیانیہ براہ راست دنیا تک پہنچنا چاہیے
اس آرمینی نامہ نگار نے عالمی رائے عامہ پر مغربی میڈیا کے بیانیے کے غلبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں جی رہے ہیں لیکن افسوس کہ ایران کی حقیقی تصویر جس طرح علاقائی اور عالمی رائے عامہ تک پہنچنی چاہیے، ویسے نہیں پہنچتی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے عوام مغربی میڈیا کے بیانیے سے متاثر ہیں اور اسی لیے ضروری ہے کہ ایرانی میڈیا عالمی سامعین تک اپنا براہ راست اور حقیقی بیانیہ پہنچانے کے لیے پہلے سے زیادہ کوشش کرے۔
ارمینی عوام کا جنگ کے بارے میں مثبت نقطۂ نظر نہیں
برخورداریان نے اس سوال کے جواب میں کہ ایران پر امریکی حملے کے بارے میں آرمینی عوام کی رائے کیا ہے، کہا کہ آرمینی عوام اپنے تاریخی تجربات کی وجہ سے جنگ اور فوجی جارحیت کے بارے میں مثبت نقطۂ نظر نہیں رکھتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے بھی جنگ اور تنازع مسلط ہونے کا تجربہ کیا ہے اور اس لیے یہ فطری ہے کہ ہم کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کو مثبت نظر سے نہ دیکھ سکیں۔
کاغذی معاہدے کافی نہیں
آرمینیا کے چینل 5 کی نامہ نگار نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں کہا کہ میں سیاسی تجزیہ کار نہیں ہوں لیکن میرا میڈیا تجربہ بتاتا ہے کہ صرف تحریری معاہدے ضروری نہیں کہ ذمہ داریوں کی تکمیل کی ضمانت دیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے سفر میں جس چیز نے سب سے زیادہ میری توجہ مبذول کی وہ ایرانی عوام کا جذبہ تھا۔ میں نے بارہا ایرانیوں سے سنا کہ وہ اپنے ملک کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں اور یہی مزاحمت کا جذبہ ایران کا سب سے اہم نقطۂ قوت ہے۔
برخورداریان نے کہا کہ میں نے اپنے سفر کے دوران جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے علاقے کا بھی دورہ کیا اور ایران کی صلاحیتوں اور استعداد کو قریب سے دیکھا۔ اسی لیے میرا خیال ہے کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جو قابل ذکر طاقت اور صلاحیتوں کا حامل ہے۔
انہوں نے انٹرویو کے اختتام پر ایرانیوں کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفر ایک قیمتی موقع تھا تاکہ میں ایران کو قریب سے دیکھ سکوں اور اس ملک کی حقیقتوں کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکوں۔
برخورداریان نے کہا کہ میں بہت مثبت جذبات کے ساتھ آرمینیا واپس جا رہی ہوں اور سچائی سے کہتی ہوں کہ میں ایران سے عاشق ہو گئی ہوں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ میری خواہش ہے کہ ایرانی عوام کو کبھی جنگ کا درد اور اذیت نہ جھیلنی پڑے اور اس ملک میں مستقل امن اور سکون قائم رہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
فلسطینی قیدیوں پر صیہونی دباؤ میں اضافہ
?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:فلسطینی ذرائع نے جہاں فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے
دسمبر
پیوٹن امریکہ، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں کو نئے سال کی مبارکباد نہیں دیں گے
?️ 31 دسمبر 2022سچ خبریں: کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعے کو
دسمبر
کیا ڈیموکریٹس آہستہ آہستہ امریکی ریاستوں کو نیلا کر سکتے ہیں؟
?️ 6 نومبر 2025سچ خبریں: امریکہ کے کچھ حصوں میں گزشتہ رات ہونے والے گورنری
نومبر
ماسکو اور تل ابیب کے درمیان اختلافات کی وجہ
?️ 23 جولائی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے دعویٰ کے مطابق روسی سائبر فوج نے صیہونی
جولائی
مودی شکست خوردہ وزیراعظم، اب صرف دھمکیاں دے سکتا ہے۔ وزیراطلاعات
?️ 28 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے
مئی
پنجاب حکومت کا لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے سخت ترین نفاذ کا فیصلہ
?️ 31 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب حکومت نے لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے سخت ترین
اکتوبر
کیا جنگ بندی کے بعد بھی جنگ جاری رہے گی؟
?️ 24 نومبر 2023سچ خبریں:اسرائیلی حکومت کے جنگی وزیر یوف گیلنٹ نے جمعرات کی شام
نومبر
ایران نے ٹرمپ کی سالگرہ خوشی پوری نہیں ہونے دی؛ نیویارک ٹائمز کا اعتراف
?️ 15 جون 2026سچ خبریں:امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے
جون