?️
سچ خبریں: عبدالباری عطوان، رای الیوم کے ایڈیٹر اور معروف فلسطینی تجزیہ کار، نے اپنے تازہ اداریے میں فلسطینی خودمختار اتھارٹی اور اس کے سربراہ محمود عباس (ابومازن) کی غداری کے اقدامات پر سخت تنقید کی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ محمود عباس کا حماس اور اس کے مجاہدین کے خلاف گستاخانہ رویہ، جو گزشتہ ڈیڑھ سال سے غزہ میں صیہونی دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا رہے ہیں اور اپنی بہادری اور طوفان الاقصیٰ جیسی افسانوی کارروائیوں سے عرب و اسلامی دنیا کا سر فخر سے بلند کیا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو اشتعال دلانے والا ہے۔ یہ توہین آمیز بیانات ایک ایسے شخص کی طرف سے سامنے آئے ہیں جو خود کو فلسطینی قوم کا واحد جائز رہنما اور ترجمان سمجھتا ہے۔
محمود عباس اور اس کی حکومت نے بے وطنی کی انتہا کر دی
عطوان نے مزید کہا کہ محمود عباس نے مجاہدین کے خلاف انتہائی گھٹیا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور غزہ میں روزانہ شہید ہونے والے فلسطینیوں کو صرف ہلاک شدگان کہہ کر پکارا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے صیہونی قیدیوں کو اسرائیل کی شرائط پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ محمود عباس کے ان بیانات سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ فلسطینی سنٹرل کونسل کے اجلاس میں موجود اراکین نے ان گھٹیا باتوں پر ابومازن کی پرجوش تائید کی۔ یہ وہ کونسل ہے جو فلسطینی قومی کونسل کا بنیادی ڈھانچہ ہونی چاہیے اور جسے فلسطین کی سب سے اہم قانون سازی اور فیصلہ سازی کی حیثیت حاصل ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیسے یہ لوگ ایک ایسے شخص کی تعریف کر سکتے ہیں جو اپنی ہی قوم کے خلاف ایسی توہین آمیز بات کرتا ہے؟ کیوں کوئی ایک بھی شخص احتجاجاً اس اجلاس سے نہیں اٹھا؟ یہ سب فلسطین، اس کے عوام اور اس کے مقاصد کے ساتھ بدترین غداری ہے۔
ابومازن اور اس کی حکومت فلسطینیوں کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی غداری کے معمار ہیں
عبدالباری عطوان نے محمود عباس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی اور قتل عام کرنے کے لیے کسی قیدیوں کے معاملے کا بہانہ نہیں چاہیے۔ کیا آپ بھول گئے ہیں کہ جب اسرائیل نے دیر یاسین، صبرا و شتیلا جیسے قتل عام کیے تھے، تو نہ تو حماس موجود تھی اور نہ ہی کوئی اسرائیلی قیدی تھے؟ اس وقت فتح کی قیادت میں فلسطین کی نمائندگی ہو رہی تھی، جس کے آج آپ خود سربراہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے اقوام متحدہ کے فورم سے خودمختار حکومت کو ختم کرنے، اوسلو معاہدے کو منسوخ کرنے اور اس کی چابیاں نیتن یاہو کو واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو خود اس معاہدے کی کسی شق پر عمل نہیں کرتا۔ لیکن آپ نے کچھ نہیں کیا۔
مقاومت ہی فلسطین کی حقیقی نمائندہ ہے
عطوان نے واضح کیا کہ محمود عباس اور ان کی 60 ہزار نفری سلامتی فورسز، جو بدقسمتی سے فلسطین کا نام استعمال کرتی ہیں، درحقیقت صیہونی قبضہ کاروں اور آبادکاروں کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کی خاطر کچھ نہیں کیا۔ ہم آپ کی طرح گھٹیا زبان استعمال نہیں کرتے، لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے کہ فلسطین کی حقیقی نمائندگی ابومازن یا ان کی کونسل نہیں کرتی، بلکہ یہ نمائندگی مغربی کنارے اور غزہ کے مجاہدین اور شہداء کرتے ہیں، جن میں شہید یحییٰ السنوار سرفہرست ہیں، جنہوں نے 23 سال صیہونی جیلوں میں گزارے اور شہادت کے تاج سے سرفراز ہوئے۔
صیہونیوں کے خود کیے گئے پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ شہید السنوار نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ یہ عظیم مجاہد اور ہماری پوری مقاومت ہی فلسطینی عوام کے جائز نمائندے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بھارت کا مغرب کو انتباہ: دہشت گردی کے خلاف خاموشی کے سنگین نتائج ہوں گے
?️ 12 جون 2025سچ خبریں: ہندوستانی وزیر خارجہ نے خطے میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں
جون
لاہور ہائی کورٹ کی ہڑتالی ڈاکٹروں کو سزا دینے کی تجویز
?️ 30 دسمبر 2022لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ نے طبی پیشے میں ہڑتال کلچر پر
دسمبر
سعد رضوی ٹی ایل پی کے مرکز مسجد رحمت اللعالمین میں خطاب بھی کریں گے
?️ 18 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ترجمان
نومبر
ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے نیا منصوبہ کیا ہے ؟
?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: اسرائیلی اخبارات کے مطابق، امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا
مئی
غزہ تک پانی اور بجلی کو جوڑنے کے لئے صیہونی حکومت کی شرط کیا ہے؟
?️ 13 اکتوبر 2023سچ خبریں:ایسی صورت حال میں کہ جب غزہ کے مکمل محاصرے میں
اکتوبر
آزاد کشمیر الیکشن میں پی ٹی آئی کے جیتنے چانس ہیں
?️ 24 جولائی 2021لاہور(سچ خبریں) سینئر صحافی ہارون رشید کا کہنا ہے کہ سروے کے
جولائی
فیض آ باد دھرنا کمیشن رپورٹ میں کسی پر ذمہ داری کا تعین کرنے سے اجتناب کیا گیا،رضا ربانی
?️ 17 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء رضا ربانی نے کہا
اپریل
ٹرمپ نے ووٹنگ کے لیے شناختی کارڈ لازمی قرار دیا
?️ 31 اگست 2025 سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹرتھ
اگست